Daily Mashriq


یادش بخیر

یادش بخیر

کوئٹہ کی اس خاموش صبح میں، جب سورج پہاڑوں کے اوپر سے اُگ رہا ہے اور وادی کو دھیرے دھیرے سنہری روشنی سے بھر رہا ہے ، کمرے کی پرانی کھڑکیوں سے دھوپ کی کرنیں اس کمرے کوبھی منور کر رہی ہیں ۔ ایک شوخ سی کرن ایک کونے کی کھڑکی سے چپکے سے میرے کاغذوں پر ہی اتر آئی ہے اور میرے لفظوں سے کھیلنے لگی ہے ۔میں جس خیال کے ساتھ لکھنے بیٹھی تھی اس خیال کو ہی اس نے انگشت بدانداں کر دیا ہے ۔ اب وہ اپنی خوشی کی چمک سے ہر ایک خیال کو روپہلا حاشیہ لگارہی ہے ۔ اور جانے کہا ں سے میرے پاپا کا خیال پکڑ کر لے آئی ہے ۔ میں نماز پڑھنے کے بعد جب ا س صوفے پر آکر بیٹھی تو مجھے ان کا خیال آیا ۔کھیوڑہ کے ایک ریسٹ ہائوس کا وہ کمرہ یاد آیا جہاں ایک بار بچپن میں ہم جا کر رُکے تھے اور صبح کی خنکی میں ارد گرد کا علاقہ گھومتے رہے تھے ۔ کوئٹہ کے اس ڈاک بنگلے میں مجھے ان کا خیال آنا یقینی تھا ۔ لیکن اس کرن کی شوخی میں وہ یاد میرے کاغذوں پرتمتمااٹھی ہے ۔ مجھے کتنی ہی باتیں یاد آرہی ہیں ۔ 2001میں کیا کوئٹہ تک کا سفر جو میں نے پہلی بار ریل گاڑی پر کیا تھا اور صبح سات بجے سبی سٹیشن پر اتر کر میں نے گھر فون کیا ۔ پاپا ناشتہ کر رہے تھے ۔ امی حسب معمول چہک رہی تھیں اور میں انہیں بتا رہی تھی کہ میں انہیں کتنا یاد کر رہی ہوں ۔ آج جب صبح میں اس کرسی پر آن بیٹھی اور میں نے لکھنے کا قصد کیا ، سامنے میرا بیٹا بے فکر سورہا ہے اور میں اپنے پاپا کو اب فون کر کے کبھی یہ نہیں بتا سکتی کہ میں ان کو بہت یاد کر رہی ہوں اس ننھی کرن نے اس یاد میں کئی رنگ بھر دیئے ہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار اپنی نوکری سے چند سال پہلے میں پاپا کی کسی سرکاری مصروفیت کے باعث انہی کے ساتھ کوئٹہ آئی تھی اور وہ ہمیں زیارت دکھانے لے گئے تھے ۔ انہیں قائد اعظم سے بہت محبت تھی ۔ یہی محبت انہوں نے اپنے بچوں کو وراثت کے طور پر منتقل کی ۔ ہم زیارت کے راستے میں ایسے ہی خوش تھے جیسے ہم قائد اعظم سے ملنے جارہے ہوں ،زیارت تک پہنچتے پہنچتے کئی بار ہم نے امی ، پاپا سے کئی بار پوچھا کہ اس سڑک کی حالت تو آج بھی اتنی بری ہے اس وقت اس بیماری کی حالت میں انہوں نے یہ سفر کیسے کیا ہوگا ؟ تو امی نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کہا تھا یہی سازش ہوگی ۔ پاپاخاموش رہے اور زیارت ریذیڈنسی کی اداسی اس سرد شام میں میرے وجود کا حصہ بن گئی تھی ۔ ہم سب واپسی پر اس اداسی کی چادر اوڑھ کر واپس کوئٹہ لوٹے تھے اور مجھے یاد ہے کہ اس ریسٹ ہائوس میںجہاں ہم ٹہر ے ہوئے تھے ، میں نے وہ کالم لکھا تھا جسے لکھتے ہوئے میں خود کئی بار روئی تھی ۔ میں زیارت ریذیڈنسی کی لکڑی کی سیڑھیوں پر قائد اعظم کا وجود دیکھ سکتی تھی ، ان کی وہ اداسی ، وہ مجبوری محسوس کر سکتی تھی ، وہ وہاں شام کے ان اندھیروں میں مجسم ہوگئی تھی ۔ میں آج بھی نہیں بھول سکتی کہ میں نے اس اداس اور تنہا ئی کو کیسے اپنی انگلیوں سے چھو کر دیکھا تھا ۔ وہ پژمر دگی جب اُسی ریذیڈنسی کے ڈرائنگ روم میں قائد اعظم نے لوگوں کو ، اپنے ہی ساتھیوں کو اپنے ہی خلاف باتیں کرتے سُنا تھا ، میں آج تک اس دُکھ کو اپنے دل میں اٹھائے گھوم رہی ہوں ، کوئٹہ کے اس خوبصورت ڈاک بنگلے میں مجھے وہ شام دوبارہ یاد آرہی ہے ۔ اور سُنا ہے کہ اگر چہ وہ ریذیڈنسی تو جلادی گئی اور اسکی جگہ ایک ایسی نئی ریذیڈنسی قائم کی گئی ہے لیکن وہ اداسی ، وہ پژمردگی نہ جل سکی ۔ وہ دھوکہ اور اس دھوکے کا دُکھ جلایا نہ جا سکا اور اس دھوکے میں اتنی طاقت تھی کہ صنوبر کے درختوں میں سے کتنوں کو کیڑا لگ گیا اور وہ اسی ڈکھ میں ختم ہوگئے میں یہ سب سوچتی ہوں تو دل چاہتا ہے کہ زیارت کی جانب رُخ بھی نہ کروں ۔ اب میرے قائد کی استعمال کردہ چیزیںبھی وہاں باقی نہیں لیکن جانے کیوں دل بار بار اس طرف جانے کولہکتا بھی ہے ۔ شاید دل چاہتا ہے کہ اس جگہ سے ایک دفعہ پھر ہوآئوں جہاں میرے قائد نے اپنی زندگی کے آخری دن گزارے ۔ شاید محبت کے اظہار کا اس سے بہتر طریقہ مجھے اس معاملے میں آتا ہی نہیں ۔ میرے لفظوں سے کھیلتے کھیلتے جانے کب وہ کرن بڑی ہو کر پورے کمرے میں پھیل گئی ہے ۔ شاید میرے لفظوں سے چھلکتی اداسی نے اسے پریشان کر کے پورے کمرے میں منتشر کر دیا ہے ۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس شہر میں اتنی یادیں بکھری ہوئی ہیں ۔ مجھے میرے بچپن کی دوست سمیعہ کی وہ کال بھی یاد آرہی ہے جو اس نے ایک بار مجھے کی تھی جب میں کوئٹہ آئی ہوئی تھی ۔ پرانے دوست بھی کمال ہوتے ہیں ، کسی بات پر شکوہ نہیں کرتے ، سائے کی طرح ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ ان کی محبت بے لوث ہوتی ہے ۔ ان کی مسکراہٹ بھی انمول ہوتی ہے ۔ وہ کہیں بھی ہوں ان کا خیال ہمیشہ خوش کن ہوتا ہے اور سالوں کی دوری بھی کبھی گفتگو میں جھول نہیں ڈالتی ۔ کتنی ہی باتیں یاد آرہی ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ اس کمرے میں میرے ساتھ کئی پرانے منظر آکر بیٹھ گئے ہیں ۔ اور ان سب میں خوشی ہے اداسی نہیں ہے ۔ دوبارہ ملنے کی خوشی شاید یاد میں ہی خوبصورتی ہے ۔

متعلقہ خبریں