Daily Mashriq


کہاں لڑنے والے کہاں لڑ رہے ہیں

کہاں لڑنے والے کہاں لڑ رہے ہیں

کبھی بھولی ہوئی منزل بھی یاد آجاتی ہے راہی کو !ہم نے چند برس پہلے سید ضمیر جعفری مرحوم کی ایک طویل نظم پر ایک عدد کالم داغا تھا کل کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے وہ نظم پھر سامنے آگئی اشعار پر طائرانہ نظر ڈالی تو ہر شعر چیخ چیخ کر زبان حال سے آج کی کہانی سنا رہا تھا ۔عجیب نظم ہے جعفری مرحوم نے اس نظم میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ ہمارے معاشرے کی تصویر کشی کی ہے ۔ ہماری سیاست میں کیا ہورہا ہے سیاستدان کیا کررہے ہیں ۔ ہمارے رہنمائوں کی کوئی منزل بھی ہے یا صرف کرسیوں کیلئے لڑائی جھگڑے ہورہے ہیں؟سیاست کا ہر پہلوان لڑ رہا ہے۔ یہاں لڑ رہا ہے وہاں لڑ رہا ہے۔آج بھی دیکھیے تو کچھ یہی سماں چاروں طرف نظر آتا ہے۔ پہلے جعفری صاحب کی نظم ملاحظہ کیجیے ۔

مزاجوں میں یوں لیڈری آگئی ہے

کہ گھر گھر کی اپنی الگ پارٹی ہے

کوئی شیر ہے تو کوئی لومڑی ہے

یہی اپنی لے دے کے انڈسٹری ہے

ہر بھائی ایک دوسرے کی مخالف پارٹی میں ہے آپس میں لڑائیاں ہورہی ہیں سب کی اپنی اپنی ڈفلی ہے کوئی جیالا ہے تو کوئی متوالا۔ حالانکہ لیڈر صاحبان بسا اوقات انتخابات کے بعد آپس میں اتحاد بھی کر لیتے ہیں ان کی صلح بھی ہوجاتی ہے وہ قوم کے غم میں ڈنر بھی بڑے آرام کے ساتھ کرتے ہیں لیکن ان بھائیوں کی آپس کی دشمنی ختم نہیں ہوتی۔ جلوس اور جلسے پہ تکرار ان میں۔فساد و فتن کے نمک خوار ان میں۔سیاسی کارکن تو ہمیشہ سے ان جھگڑوں میں الجھ رہے ہیں ذرا یہ بھی ملاحظہ کیجیے کہ جعفری صاحب سیاسی رہنمائوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

ملوں پرمٹوں کارخانوں کے جھگڑے

سیاست کے نو دولتانوں کے جھگڑے

زبانوں بیانوں ترانوں کے جھگڑے

فسانوں پہ ہم داستانوں کے جھگڑے

سر خوان لقمہ اٹھانے پہ جھگڑا

وہ جھگڑا کہ ہر دانے دانے پہ جھگڑا

مکیں گم شدہ ہیں مکاں لڑ رہے ہیں

زمیں چپ مگر آسماں لڑ رہے ہیں

خود اپنی صفوں میں جواں لڑ رہے ہیں

کہاںلڑنے والے کہاں لڑ رہے ہیں

فسادات کی سرخیاں اور بھی ہیں

مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں

ہم جب اس مصرعے پر پہنچے تو یقین کیجیے دل تڑپ اٹھا۔کہاں لڑنے والے کہاں لڑ رہے ہیں۔ آج کل یہی کچھ تو ہو رہا ہے اگر آج ضمیر صاحب ہوتے تو دیکھتے کہ نہوں نے کتنی بڑی بات کی تھی۔بھائی بھائی کو مار رہا ہے ۔ اپنی سوچ ختم ہو چکی ہے ۔ہم دوسروں کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔

ہوس کی غلامی شکم کی خدائی، گلہ کاٹ دیتا ہے بھائی کا بھائی، اور حالت کیا ہے۔ مقدر میں بھوک اور گرد سفر ہے۔ بسیرا اگر ہے تو فٹ پاتھ پر ہے۔نہ کھانے کو روٹی نہ رہنے کو گھر ہے۔ گزر زندگی کا سر رہگزرہے۔ اور وہ نو دولتیے جو بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں جو لوٹ مار اور مار دھاڑ سے راتوں رات امیر سے امیر تر ہوتے چلے جارہے ہیں ان کی تصویر بھی ملاحظہ فرمائیے۔

مکانوں کی آرائشیں بڑھ گئی ہیں

مکینوں کی آسائشیں بڑھ گئی ہیں

خیانت کی گنجائشیں بڑھ گئی ہیں

کہ بیگم کی فرمائشیں بڑھ گئی ہیں

آپ مزے سے زندگی گزارئیے لیکن غریبوں کا تھوڑا بہت احساس بھی تو ہونا چاہیے۔وطن عزیز اللہ پاک کا بہت بڑا انعام ہے مگر ہم نے بے قدری کی حد کردی ہے ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں!

جو بینا ہو تم رہ نمائی کرو تم

جو دانا ہو عقدہ کشائی کرو تم

غنی ہو تو حاجت روائی کرو تم

بڑائی یہی ہے بھلائی کرو تم

بڑے شوق سے اپنے جلسے منائو

امیرو! غریبوں کے بھی کام آئو

نہ منشور اپنا نہ دستور اپنا

قدم راہ چلنے سے معذور اپنا

گلے مل رہے ہیں بچھڑنے کی خاطر؟

یہ میلا لگاتھا اجڑنے کی خاطر؟

کتنا دکھ ہے اس مصرعے میں ۔آج وطن عزیز کو ہم جس طرف لیکر جارہے ہیں کیا اسی دن کیلئے ہم نے یہ محفل سجائی تھی۔ خداراذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر وطن عزیز کے استحکام کو یقینی بنائیے !

الگ جھولیاں ہیں الگ بولیاں ہیں

یہ اک قوم ہے یا کئی ٹولیاں ہیں؟

خدا ایک ہے برملا مانتے ہیں

محمدۖ کو سب پیشوا مانتے ہیں

صحیفہ کلام خدا مانتے ہیں

پیغمبرۖ کو سب مانتے ہیں

ادھر بدگمانی ادھر بدگمانی

اخوت کا دعویٰ زبانی زبانی

سلامت جو طوفان سے آگئی ہے

وہ کشتی کنارے سے ٹکرا گئی ہے

یہ شعر انسان کو ہلا کر رکھ دیتا ہے ۔ ہم نے کتنی قربانیوں کے بعد آزادی حاصل کی تھی۔ غیروں نے ہماری راہ میں کتنے کانٹے بچھائے تھے کتنی بڑی بڑی سازشوں کے جال بنے گئے تھے لیکن ہم نے بڑی استقامت اور پامردی کیساتھ سب مشکلات کا مقابلہ کیا اور وطن عزیز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے تو پھر آج یہ بے قدری کیوں؟ ہم جعفری صاحب کے ہمنوا ہو کر یہی کہہ سکتے ہیں۔

دلوں کی کدورت سے ڈر اے مسافر!

حذر اس گھڑی سے حذر اے مسافر!

متعلقہ خبریں