Daily Mashriq


جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ

جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ

ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلائو کے امریکہ روس معاہدے کے حوالے سے جو1987ء میں طے پایا تھاامریکی اعلان کے بعد کہ اگر روس نے یورپ میں لگائے گئے میزائل نہ ہٹائے تو وہ یکطرفہ طور پر معاہدے سے الگ ہو جائے گا، اب روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی اس معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر کے عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے، روسی صدر نے وزیر دفاع سرگئی شویمگو اور وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے ہمراہ ٹیلی وژن پرہفتے کو اپنے خطاب میں معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلائو کو روکنے کیلئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک ملتوی کئے جارہے ہیں جب تک امریکی حکومت بامعنی بات چیت کیلئے تیار نہیں ہوتی۔ادھر چین نے امریکہ کی انٹر میڈیٹ رینج نیوکلیئر ٹریٹی سے علیحدگی کی مخالفت کی ہے ، بیجنگ حکومت نے روس اور امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کو برقرار رکھنے کیلئے تعمیری مذاکرات کریں۔ امریکی حکام کے مطابق امریکہ اگلے چھ ماہ میں اس سمجھوتے سے پوری طرح نکل جائے گا۔ امرواقعہ یہ ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان1987ء میں تخفیف اسلحہ کا معاہدہ جسے آئی این ایف کا نام دیا گیا تھا، طے پایا تھا۔معاہدے پر اس دور کے امریکی صدر رونالڈریگن اور سابق سوویت یونین کے سربراہ میخائل گوربا چوف نے دستخط کئے تھے ،اس معاہدے کا مقصد وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنا تھا، اب امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ روس نے یورپ میں جو میزائل لگائے ہیں ان کی وجہ سے معاہدے کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور جب تک وہ ان میزائلوں کو تباہ نہیں کردیتا معاہدہ معطل رہے گاتاہم اگلے چھ ماہ تک اس حوالے سے روسی اقدامات کا جائزہ لیکرمعاہدے کو مکمل طور پر ختم کرنے یا بر قرار رکھنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ جبکہ روس نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نائن ایم 729میزائل کی تنصیب آئی این ایف معاہدے کی حدودو قیود کے مطابق ہے اور اس سے معاہدے پر اثر نہیں پڑتا۔ امریکی اعلان کے جواب میں روس کے تازہ ترین فیصلے سے یورپی رہنما تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں ، یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ تازہ ترین صورتحال سے جو امریکی اعلان سے پیدا ہوا ہے ، دنیا میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے ۔ نیٹو نے بھی اعلان کیا ہے کہ روس اس جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو سرد جنگ کے زمانے میں طے پایا تھا۔ تخفیف اسلحہ اور خاص طور پر ایٹمی ہتھیاروں کو کنٹرول میں رکھنے کے حوالے سے امریکہ سوویت(اب روس)معاہدے کے حوالے سے امریکی اعلان اور اس پر روسی ردعمل سے دنیا ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار ہوگئی ہے اور اگر کسی تصادم کی نوبت نہ بھی آئے جس کے امکانات بہر حال ابھی ریڈ لائن عبور کرنے کے حوالے سے کم کم ہی ہیں ، تو بھی اسلحہ کی دوڑ جسے آئی این معاہدے کے ذریعے لگام دیا گیا تھا ، دوبارہ نہ صرف شروع ہو سکتی ہے بلکہ اگر امریکہ چھ ماہ بعد محولہ معاہدے سے مکمل طور پر علیحدگی اختیار کر لیتا ہے تو صورتحال ایک بار پھر 1987ء کے اس دور سے پہلے کی سی ہو جائے گی جب دونوں بڑی طاقتیں خصوصاً جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی دوڑ میں شامل تھیں اور ایک دوسرے پر سبقت لیجانے میں کوئی موقع ضائع کرنے کو تیار نہیں تھیں ۔اس وقت دونوں کے مابین سرد جنگ کی جو کیفیت تھی اس سے دنیا کے امن کو شدید خطرات لاحق تھے اور اصولی طور پر دنیا تین حصوں میں بٹی ہوئی تھی، ایک کی قیادت امریکہ جبکہ دوسرے حصے کی سربراہی سابق سوویت یونین کر رہا تھااور تیسرا حصہ غیر جانبدار تو تھا مگر انہیں یہ خدشات ضرور لاحق تھے کہ خدانخواستہ ان دونوں بڑی طاقتوں کے مابین کسی بھی بڑے تصادم کے بعد ممکنہ طور پر چھڑ جانے والی تیسری عالمی جنگ سے غیر جانبدار ممالک خود کو کیسے محفوظ کر سکیں گے کیونکہ جب کسی کے ہمسائے میں آگ لگی ہو تو اس کے شعلے کسی بھی وقت لپک کر ہمسایوں کو بھسم کر سکتے ہیں۔انہی خدشات نے بالآخر دونوں بڑی طاقتوں کو ایک عالمی معاہدے میں خود کو باندھنے پر آمادہ کیا ، جس کے بعد دنیا نے سکون واطمینان محسوس کیا، مگر اب ایک بار پھر صورتحال میں کشیدگی پیدا ہونے کی وجہ سے دنیا کے امن کو خطرات کا سامنا ہے ، معاہدے کی تنسیخ یا اس سے امریکہ کی علیحدگی اور روس کا اپنے موقف پر ڈٹے رہنے سے جو صورتحال جنم لے رہی ہے اس کا سب سے اہم پہلو تخفیف اسلحہ کے حوالے سے منفی سوچ کا ابھرنا ہے اور اب وہ ممالک جو ایٹمی تجربات کو اقوام متحدہ کے دبائو کے تحت یا تو ترک کر چکے ہیں یا پھرخفیہ طور پر جاری رکھے ہوئے ہیں وہ بھی بر ملا اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے پر اصرار کریں گے ، جس سے عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں ، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ صورتحال کا نوٹس لے اور بین الاقوامی ماہرین کو امریکی الزامات کا جو اس نے روس پر لگائے ہیں، محولہ معاہدے کے تحت جائزہ لیکر صورتحال کی وضاحت کی ذمہ داری سونپے اور معاہدے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔

متعلقہ خبریں