Daily Mashriq

مسئلہ کشمیر اور قومی قیادت

مسئلہ کشمیر اور قومی قیادت

علمائے اسلام کے تحت ’’ قومی مشاورت برائے کشمیر‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کل جماعتی کانفرنس میں قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیاہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔ کانفرنس نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے پر زور دیتے ہوئے یہ معاملہ دوبارہ سلامتی کونسل میں لے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔ پارلیمانی پارٹیوں کے رہنمائوں نے کہا کہ آمروں نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا۔ کانفرنس کے مقررین نے بھارتی وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مودی سن لو’ اختلافات کے باوجود کشمیر پر ہم سب ایک ہیں۔ قومی مشاورت برائے کشمیر کانفرنس نے جہاں بھارتی حکمرانوں پر واضح کردیاہے کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کے درمیان کتنے بھی اختلافات کیوں نہ ہوں کشمیر کے معاملے پر ان کی سوچ کبھی ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہوسکتی اور اب عالمی برادری کو جو پہلے ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے حوالے سے پوری طرح با خبر ہے ‘ اس سلسلے میں ضرور سوچنا ہوگا۔ قابل ذکر امر اس ضمن میں یہ ہے کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کے ایک کمیشن نے مقبوضہ وادی میں بھارتی چیرہ دستیوں کو بے نقاب کیا تھا اور اپنی رپورٹ میں وہاں بھارتی افواج کے ظالمانہ کردار پر شدید اعتراضات کئے تھے اس لئے اب عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ ان مظالم کا نوٹس لے کر یہ معاملہ ایک بار سلامتی کونسل میں لے جا کر اس پر بحث کرے اور بھارت کو مجبور کرے کہ وہ کشمیری مسلمانوں کے خلاف انسانیت سوز سلوک سے ہاتھ کھینچ لے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے استصواب رائے کے مواقع فراہم کرے۔ محولہ کانفرنس میں اٹھائے جانے والے سوالات اپنی جگہ اہم ہیں اس لئے حکومت کو بھی اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لئے اقدامات پر غور کرنا چاہئے۔ پانچ فروری کو عالمی سطح پر یوم یکجہتی کشمیر کا اہتمام کیا جاتاہے۔ اس سلسلے میں پاکستان میں عام تعطیل ہوتی ہے اس لئے پانچ فروری کو بھرپور انداز سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے اور دنیا پر واضح کیا جائے کہ بھارت نے ایک آزاد اور خود مختار قوم کو طاقت کے بل پر غلام بنا رکھا ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل نے غلامی کی زنجیریں توڑنے کے حوالے سے قرار دادیں منظور کر رکھی ہیں مگر بھارت اقوام متحدہ کا رکن ہوتے ہوئے بھی ان قراردادوں کو مسلسل نظر انداز کرکے جو ظلم ڈھا رہا ہے اب اس کے تدارک کا وقت آچکا ہے اور اقوام متحدہ کو یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے آگے آجانا چاہئے۔

پاک ایران تعلقات میں توسیع

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے تہران اور اسلام آباد کے تعلقات اور تعاون میں پہلے سے زیادہ توسیع اور استحکام کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کئی شعبوں میں تعلقات مثالی ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پر جلد کام شروع کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی نئی سفیر محترمہ رفعت مسعود کی اسناد سفارت وصول کرنے کے لئے ہونے والی ملاقات کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات اعلیٰ سطح پر ہیں۔ پاکستان کی سفیر برائے ایران محترمہ رفعت سعید نے اس موقع پر کہا کہ علاقائی سیکورٹی کے میدان میں دونوں ملکوں کا تعاون دہشت گردوں سے ہر طرح کے مواقع چھین لے گا۔ جہاں تک ایران اور پاکستان کے مابین تعلقات کا تعلق ہے یہ آج یا قیام پاکستان سے نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہیں اور دونوں سیاسی‘ سماجی‘ اقتصادی معاملات میں ایک دوسرے سے مضبوط تعلقات کی ایک وسیع اور قدیم تاریخ رکھتے ہیں جبکہ قیام پاکستان کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے لئے سب سے پہلے ایران نے ہی پاکستان کو تسلیم کرتے ہوئے آواز اٹھائی اور بعد میں ہر امتحان کے موقع پر پاکستان کی حمایت ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو رہا ہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ایران اور انڈونیشیاء کا مخلصانہ اور برادرانہ تعاون اور امداد کو پاکستانی قوم کبھی نہیں بھول سکتی۔ اگرچہ بعض معاملات پر چند سال سے دونوں کے تعلقات میں وہ گرم جوشی نہیں رہی جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں تاہم دونوں ملکوں کے عوام آج بھی ایک دوسرے کے لئے گہری محبت اور دوستی کے جذبات رکھتے ہیں۔ ماضی قریب میں پاک ایران بارڈر پر دہشت گردی کے واقعات نے کچھ مسائل ضرور پیدا کئے تاہم مقام شکر ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت نے ان مسائل کی وجہ سے تعلقات میں دراڑ پیدا کرنے کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک باہم مشاورت سے اپنے تمام معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے پر توجہ مرکوز کریں اور ثقافتی‘ تجارتی‘ سیاسی معاملات کو باہمی تعاون سے آگے بڑھائیں۔

متعلقہ خبریں