Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

اپنی ایک حکایت میں فرماتے ہیں کہ ایک دوراندیش بادشاہ اپنے حسن صورت وحسن سیرت سے آراستہ بیٹے کا رشتہ کسی زاہدوپرہیز گار صالح خاندان میں کرنا چاہتا تھا۔بادشاہ نے جب یہ بات شہزادے کی ماں سے کی تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ آپ صالحیت اور تقویٰ وزُہد تو دیکھ رہے ہیں، لیکن آپ کے مقابلے میں با اعتبار عزت ومال کے وہ خاندان کمتر ہے بادشاہ نے جواب دیا:

گفت روہر کہ غم دیںبرگزید

باقی غمہا خداازوے بُرید

’’دُور ہو بے وقوف! جو شخص دین کا غم اختیار کرتا ہے خدا اس کے تمام دنیاوی غموں کو دُور کردیتا ہے‘‘۔بال آخر بادشاہ اپنی زوجہ پر اپنی رائے کو غالب رکھنے میں کامیاب ہوگیا اور شہزادے کی شادی وہیں صالح خاندان میں کردی۔شادی کو ہوئے کافی عرصہ گزرگیا۔ شہزادے کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی۔ بادشاہ کو فکر لاحق ہوگئی کہ کیا بات ہوسکتی ہے ۔ شہزادے کی بیوی بہت خوبرو اور حسین وجمیل بھی ہے لیکن اولاد کیوں نہیں ہورہی۔ بادشاہ نے اپنے مخصوص مشیروں اورعلماء کو جمع کیا اور خفیہ طور پر اس مسئلے کے بارے میں مشاورت کی۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس شہزادے پر ایک بوڑھی عورت نے جادو کر دیا ہے۔ جس سے یہ اپنی حسین اور رشک قمر بیوی سے نفرت کرتا ہے۔ بیوی کے بجائے اس جادوگرنی بوڑھی عورت کے پاس جاتا ہے ۔ بسبب جادو کے وہ اس عشق میںعرصہ دراز سے گرفتار ہے۔بادشاہ کو اس بات سے بے حد غم اور صدمہ ہوا۔ اس نے بہت صدقہ وخیرات کیا اور سر سجدے میں رکھ کر خُوب رویا، جب سر سجدے سے اُٹھایا تو ایک’’مرد‘‘ غیب سے نمودار ہوا اور کہنے لگا:’’آپ ابھی میرے ساتھ قبرستان چلیں‘‘۔بادشاہ اس کے ساتھ قبرستان گیا۔ انہوں نے ایک پُرانی قبر کھودی، اس میں ایک بال نکلا، جس میں جادو کے ذریعے سے سوگر ہیں لگائی گئی تھیں۔اس مرد غیبی نے ایک ایک گرہ کو دم کر کے کھولنا شروع کیا۔ ادھر شہزادہ صحت یاب ہوتا گیا۔ آخری گرہ کھلتے ہی شہزادہ اس خبیث بوڑھی جادوگرنی کے عشق سے نجات پاگیا اور اس کی آنکھوں کی نظر بندی بھی جاتی رہی جس سے اسے اپنی حسین بیوی خراب اور بُری ،مگر وہ خبیث بوڑھی عورت خوبصورت معلوم ہوتی تھی۔ پھر جب وہ شہزادہ اس بوڑھی عورت کے پاس گیا تو اسے دیکھ کر اس کو نفرت وکراہت شدیدہ محسوس ہوئی اور وہ اپنی عقل پر حیرت کر رہا تھا۔ جب اس نے اپنی بیوی کو دیکھا ، اس کا حسین چہرہ مثل چاند دیکھ کر بے ہوش ہوگیا۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے خدا کا شکر ادا کیا، جس نے مجھے اس سحر انگیزی سے نجات دی۔ اس حکایت میں مولانا روم بتاہ رہے ہیں کہ انسان اس شہزادے کی مثل ہے اور یہ دنیا اس مکار بوڑھی جادوگرنی عورت کی مثل ہے۔جس نے عاشقان دنیا پر جادو کر رکھا ہے ، جس سے وہ اس دنیا کے فانی رنگ وبو کے عشق میں مبتلا ہو کر آخرت ،خدااور اس کے رسولؐ کے انوار وتجلیات کو بھول چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں