Daily Mashriq

اب فریضہ حج کی ادائیگی بھی مشکل

اب فریضہ حج کی ادائیگی بھی مشکل

وفا قی کابینہ نے نئی حج پالیسی کی منظوری دے دی ۔ نئی حج پالیسی کے مطابق حج اخراجات جو پہلے 2 لاکھ 80 ہزار روپے تھے اب 4 لاکھ36 ہزار روپے ہو گئے ہیں۔ نئی حج پالیسی کے مطابق سبسڈی ختم کرکے اخراجا ت میں 65 فی صد اضافہ کیا گیا۔دوسری طرف اس پالیسی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپوزیشن نے حج پالیسی کو مسترد کیا اور اسکو حج کی ادائیگی اور سعادت حا صل کرنے پر ڈرون حملے کے مترادف گر دانا۔ اُنکا کہنا ہے کہ حکومت حج کے لئے کوئی سبسڈی نہیں دے رہی ہے ۔ بلکہ سبسڈی کے نام پر ایک ڈونگ رچایا جا رہا ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تحریک انصاف کے کارکن اور لیڈر حکومت کی راہنمائی کرتے اور حکومت کو قائل کرتے کہ سبسڈی نہ ختم کی جائے مگر حکومتی فیصلے کے بعد ریڈیو، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر بلا سوچے سمجھے پی ٹی آئی کے جیالوں اور قائدین نے اس فیصلے کے دفا ع میںتقاریر اور پوسٹ دینے شروع کئے ۔ پی ٹی آئی کے کارکنان اور قائدین کا کہنا ہے کہ جواستطاعت نہیں رکھتا اُس پر حج فرض نہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کے ورکروں اور قائدئین کی بات بالکل درست ہے ۔ جہاں تک حکومتی سبسڈی کا سوال ہے تو میںسمجھتا ہوں کہ نہ تو پہلے کسی نے سبسڈی دی ہے اور نہ اب کوئی سبسڈی دے رہا ہے۔ بلکہ اب حج اخرا جات بڑھائے جارہے ہیں اور عازمین حج پر مزید بوجھ ڈالا گیا۔جہاں تک حج کے استطاعت کی بات ہے تو مُجھے پورا یقین ہے کہ موجودہ اور سابق حکمرانوں جس میں نواز شریف، آصف زرداری ، عمران خان اور ملٹری اسٹبلشمنٹ شامل ہے کے ہوتے ہوئے کبھی کسی کو یہ استطا عت حا صل نہیں ہوگی کہ وہ حج کا فریضہ ادا کر سکے کیونکہ زندگی اتنی مشکل ہوگئی ہے کہ اس میں بچت کرنا آسان نہیں رہا۔ مہنگائی کے اس دور میں گھر کا چولہا جلانا مشکل ہوچکا ہے۔ماضی بعید اور ماضی قریب کے حکمرانوں کی کرپشن ، لوٹ مار ، مالی بے ضابطگیوں کی وجہ سے پاکستان غُربت کے لحا ظ سے200 ممالک کی فہرست میں ۱۴۰ ویں نمبر پر ہے اور میرے رائے میں کوئی بھی غریب، پسماندہ اور سفید پوش تو کبھی بھی اس قابل نہیں ہوگا کہ وہ فریضہ حج ادا کر سکے اور بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی ﷺ میں حا ضری دے سکے۔اسوقت پاکستان جنوبی ایشیا میں بھارت، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ اور افغا نستان سے بھی پسماندہ اور غریب ملک ہے اور اس کے سماجی اقتصادی اعشاریے ان ممالک سے بھی کم درجے کے ہیں۔ اور جو ملک اتنا غریب اور پسماندہ ہوگا اس کی رعایاحکمرانوں کے ہوتے ہوئے نہ تو حج کی استطاعت اور نہ حج اور عمرہ کی سعادت حا صل کرسکے گی۔ اللہ تعالیٰ کسی کو غریب نہیں پیدا کرتا بلکہ یہ سماج ، معاشرہ اور ہمارے حکمرانوں کی کرپشن ، بد عنوانیوں کی وجہ سے ہم پاکستانی اتنے غریب ہیں کہ جنوبی ایشیاء کے پسماندہ ممالک میں ہماری پو زیشن سب سے نیچے ہے۔اگر دو ڈالر کے حساب سے پاکستانیوں کی آمدنی کا اندازہ کریں تو اس وقت 13 کروڑ پاکستانی ایسے ہیں جو غربت کی لکیرسے نیچے ز ندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بالالفاظ دیگر جسکی کمائی دوڈالر یعنی276 روپے ہو۔ اُسکو تو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہوتی وہ کب اور کس طرح حج کی استطاعت اورسعادت حا صل کر سکے گا۔ان حکمرانوں کی نا اہلیوں، کرپشن اور بد عنوانیوں کی وجہ سے پاکستان قدرتی وسائل کے باوجود بھی غریب اور پسماندہ ہے حالانکہ60 کی دہائی میں پاکستان جرمنی، ڈنمارک، جنوبی کو ریا کو قرضہ دیا کرتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کونسی ایسی آفت آئی کہ پاکستان190 ممالک کے فہرست میں145 ویںنمبر ہے۔تو اسکا جواب یہ ہے کہ ہمارے حکمران خواہ اُسکا تعلق کسی بھی سیاسی پا رٹی سے ہو وہ اتنے کرپٹ اور بد عنوان ہیں کہ انہوں نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔دنیا میں تیل، گیس اور روزمرہ استعمال کی6000 چیزوں کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی مگر پاکستان میں ان اشیاء کی قیمتوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے حکمرانوں نے عالمی بینک، بین الاقوامی اور قومی مالیاتی اداروں سے اتنے قرضے لئے ہوئے ہیں کہ انکی ادائیگی مشکل ہے۔اور ادائیگی کے لئے غریب عوام پرمزید ٹیکس ڈالے جاتے ہیں۔یہ قرضے ہمارے حکمرانوں نے اپنی شاہ خرچیوں کے لئے لئے ہوئے ہیں جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہم حج کی استطاعت نہیں رکھتے اور نہ عمرہ کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔پاکستانی قوم ایک زبر دست قوم ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ غریب اور مفلوک الحال قوم ہے مگردین پر مر مٹنے والے حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لئے زیورات تک بیچتے ہیں اور فصلوںکی کٹائی کے انتظار میںہوتے ہیں کہ فصلیں فروخت کر کے حج کی سعادت حا صل کریں مگر موجودہ پی ٹی آئی حکومت نے حج کے اخراجات میں جو اضافہ کیا اس سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ عمران اور پی ٹی آئی حکومت پاکستانیوں کو حج کی ادائیگی سے روکنے اور انکی حو صلہ شکنی کے لئے کو ششیں کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کو اللہ کا خوف کرنا چاہئے اگر وہ عازمین حج کو سہولیات نہیں دے سکتی تو کم ازکم حج کرنے سے انکو روکا نہ جائے۔ حکومت کے موجودہ اقدام سے پاکستانیوں میں غم اور غصے کی ایک شدید لہر دو ڑ گئی ہے اور وہ حکومتی پالیسیوں کو سختی سے ہدف تنقید بنا رہی ہے۔ اگر موجو دہ حکومت ملک میں تفریحی چینلوں اورسنیما گھروں کی تعمیر کے لئے پیسے مختص کر سکتی ہیں تو اسکو کم ازکم حج سسٹم کو نہیں چھیڑنا چاہئے۔ اور عازمین حج کو آسانیاں دینی چاہئے ۔

متعلقہ خبریں