Daily Mashriq

آبی مسائل،پاکستان اور بھارت

آبی مسائل،پاکستان اور بھارت

پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا پانی استعمال کرنے والا ملک ہے جہاں پانی کا سالانہ فی کس استعمال 1017 کیوبک میٹر ہے جبکہ عالمی معیار کے مطابق پانی کا فی کس کم از کم استعمال 1000 کیوبک میٹر ہے جس کے باعث آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا میں پانی کے بحران زدہ ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں پانی کی قلت کی وجہ قیام پاکستان کے بعد مطلوبہ ڈیمز کا نہ بننا ہے۔ پاکستان کا پہلا ڈیم وارسک ڈیم1960ء میں بنا جس کے بعد منگلا ڈیم 1961ء ، سملی ڈیم 1962، راول ڈیم 1962ء ، حب ڈیم 1963، تربیلا ڈیم 1968، خان پور ڈیم 1968ء ، میرانی اور سبک زئی ڈیمز بنائے گئے۔ اس کے بعد ہم جمہوریت میں مشغول ہوگئے اور 1975ء کے بعد کوئی نیا بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا۔ پاکستان میں اس وقت چھوٹے بڑے کل 155 ڈیمز ہیں جبکہ بھارت میں چھوٹے اور بڑے 3200 ڈیمز ہیں۔ پاکستان اپنے دریائوں کا صرف 10 فیصد پانی ذخیرہ کرسکتا ہے جبکہ 90 فیصد پانی ضائع ہوجاتا ہے جس کی اہم وجہ ملک میں ڈیموں کی کمی ہے۔ پاکستان کے مجموعی ڈیموں میں صرف 14 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے، اس طرح ہم صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں جبکہ بھارت 120دن تک اور امریکہ 900 دن تک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی فی کس مقدار 150 کیوبک میٹر ، چین میں 2200 کیوبک میٹر، آسٹریلیا اور امریکہ میں 5000 کیوبک میٹر ہے۔ اس طرح پاکستان اپنے دستیاب آبی وسائل کا صرف 7 فیصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ عالمی سطح پر یہ تناسب 40 فیصد ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی دنیا میں سب سے کم ہے۔ پاکستان اپنے دستیاب پانی کو ذخیرہ نہ کر کے سالانہ 30 سے 35 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے جبکہ کالا باغ، بھاشا اور اکھوڑی ڈیم کی تعمیری لاگت صرف 25 ارب ڈالر ہے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ آج تک ہمیں یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ بھارت پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں پر ڈیم بنا کر پانی کا رخ موڑ رہا ہے ،بھارت اس پانی سے جہاں بجلی میں اضافہ اور اپنی زمینوں کوسیراب کررہاہے وہیں پر پاکستان کی زمینوں کو بنجر بنانے کے منصوبے کی تکمیل بھی کر رہاہے۔ماضی میں پاکستان کی حکومتوں اور آبی ماہرین کی ٹیم پر الزام بھی عائد کیا جاتا رہاہے کہ ہمارے آبی ماہرین نے بھارت کی آبی جارحیت کو سمجھنے اور متعلقہ فورم پر اٹھانے پر اس کے خلاف آواز اٹھانے میں سستی کا مظاہرہ کیا ہے،لیکن اب جا کر یہ عقدہ کھلا ہے کہ بھارت جو کر رہاہے وہ درست ہے ۔حال ہی میں پاکستانی ماہرین کا 3 رکنی وفد بھارت میں دریائے چناب پر تعمیر کیے جانے والے ہائیڈرو پاور منصوبوں کا جائزہ لینے کے بعد وطن واپس پہنچ گیاہے۔پاکستانی ماہرین نئی دہلی میں بھارتی کمشنر برائے سندھ طاس کے مدعو کرنے پر بھارت کے 6 روزہ دورے پر گئے تھے۔وفد کی سربراہی کرنے والے پاکستانی کمشنر برائے سندھ طاس سید مہر علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت کا یہ دورہ کامیاب رہا، ہم نے دریائے چناب پر 4 ہائیڈرو پاور منصوبوں کا معائنہ کیا جس میں ایک ہزار میگا واٹ کا پکال دل، 48 میگا واٹ کا لوئر کلنی، 850 میگا واٹ کا راٹلے اور 900 میگا واٹ کا بگھلیار ڈیم منصوبہ شامل ہے۔وطن واپسی کے بعد انہوں نے بتایا کہ پکال دل پر تعمیراتی کام جو ابتدا میں روک دیا گیا تھا، دوبارہ بحال کردیا گیا ہے تاہم ابھی سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں جبکہ ڈیم پر ہونے والا سول ورک شروع ہونا باقی ہے۔مہر علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ لوئر کلنی اور راٹلے منصوبوں پر ابھی کام کا آغاز نہیں ہوا کیوں کہ جس ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دیا گیا، وہ کام چھوڑ گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا ٹھیکیدار کا کیمپ اکھاڑ دیا گیا کیوں کہ وہاں کوئی تعمیراتی کام نہیں ہورہا تھا، اس کے علاوہ ہم نے دریا پر جاکر ان منصوبوں کا تفصیلی جائزہ بھی لیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وفد نے بگھلیار ڈیم منصوبے کا بھی جائزہ لیا جو دریا میں سردیوں کے باعث پانی کا بہاؤ کم ہونے کی وجہ سے 150 میگا واٹ بجلی پیدا کررہا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس دورے سے پاکستان کو آئندہ حکمتِ عملی ترتیب دینے کا موقع ملے گا تاہم پاکستانی ماہرین کے مشاہدات اور اعتراضات اس وقت تک جاری نہیں کیے جاسکتے جب تک بھارت کو ان کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کردیا جاتا۔پاکستانی ہائی کمشنر نے ماہرین کی جانب سے منصوبوں کا جائزہ لینے میں بھارتی انتظامیہ کے تعاون کی تعریف کی اور کہا کہ اگرچہ بھارت نے ہمارے دورے کے مقامات کا تعین کررکھا تھا لیکن ہم نے اپنی خواہش کے مطابق بھی منصوبوں کے مقامات کا جائزہ لیا اور انہوں نے ہمیں مکمل سیکورٹی فراہم کی۔ہم سمجھتے ہیں پاکستا نی آبی ماہرین کی ٹیم کا دورہ بھارت کے بعد بھارت کی تعریفوں کے پل باندھنا ہمارے پہلے مؤقف کی نفی کر رہا ہے کیونکہ ہم ماضی میں بھارت پر یہ الزام عائد کرتے رہے ہیںکہ وہ ہمارے حصے کے پانی پر ڈیم بنا رہا ہے ،پاکستانی آبی ماہرین کی جانب سے بھارت کے حق میں کی جانے والی گفتگو سے بھارت کے مؤقف کو تقویت ملی ہے اور پاکستان کا مؤقف پس پردہ چلا گیا ہے اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حکومت آبی بحران کے سدباب کے ساتھ ساتھ پاک بھارت آبی تنازعے کے اصل حقائق قوم کے سامنے لائے ۔

متعلقہ خبریں