Daily Mashriq


گھر کی مرغی دال برابر

گھر کی مرغی دال برابر

سیکھنے سکھانے کا عمل ساری عمر جاری رہتا ہے ہر نیا دن اپنے ساتھ کچھ نئے تجربے کچھ نئی معلومات ضرور لے کر آتا ہے ہم اپنے معاشرے سے نالاں ہیں دادبیداد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جسے دیکھیے فریاد و فغاں میں مصروف ہے۔ ظاہر ہے یہ مسائل اور پریشانیاں ہی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے لوگ فریاد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر معاشرے کے اپنے سچ ہوتے ہیں اپنی اپنی اچھائیاں اور برائیاں ہوتی ہیںگھر کی مرغی دال برابر کے مصداق ہمیں اپنی چیزیں کچھ زیادہ اچھی نہیں لگتیں لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے میڈیا وہی رپورٹ کرتا ہے جو منفی ہوتا ہے خبر بنتی ہی تب ہے جب کچھ الٹ ہوجائے کتا انسان کو کاٹ لے تو یہ معمول کا ایک عمل ہے مگر جب انسان کتے کو کاٹ لے تو تب خبر بنتی ہے یہی وجہ ہے کہ اخبار پر پہلی نظر پڑتے ہی بندے کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ ظلم وستم کی داستانیں قتل و غارت گری کے قصے جلی سرخیوں کی صورت ہر اخبار کی زینت بنتے ہیں اسی لیے قاری کو سب الٹا ہی لگتا ہے بہت سے لوگ مایوسی کا شکار ہوکر ڈپریشن کے مریض بن جاتے ہیں۔ جب ہم یہ پڑھتے ہیں کہ شادی سے انکار پر نوجوان نے اپنی منگیتر کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا ساس نے بیٹی کی مدد سے اپنی بہو پر تیل ڈال کر اسے جلا ڈالا رشتہ نہ ملنے پر طالب علم نے اپنی کلاس فیلو کو قتل کرڈالا۔بیٹے نے فائرنگ کرکے والد اور دو بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ موبائل فون پر انعام نکلنے کے جعلی پیغامات سے ہزاروں شہری لٹ گئے۔ سعودی عرب میں منشیات سمگلنگ کے الزام میں ایک اور پاکستانی کا سر قلم !تو اس کے بعد ہمیں چاروں طرف اندھیر ا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ دن بھر یہی خبریں ہماری گفتگو کا اہم موضوع بنی رہتی ہیں۔چونکہ ہم روزانہ کی بنیاد پر اس عمل کا حصہ بنتے ہیں اس لیے اس قسم کا رونا دھونا فریاد و فغاں ہمارے مزاج کا حصہ بن جاتے ہیں۔بائیس کروڑ کی آبادی والے اتنے بڑے ملک میں اگر اس قسم کے جرائم کی شرح پر مناسب انداز سے غوروفکر کیا جائے تو انسانی نفسیات اور حالات و واقعات کی روشنی میں ہمیں زیادہ حیرانی نہیں ہو گی۔ چلیں تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہوتو رہا ہے زمینی حقائق سے انکار تو نہیں کیا جاسکتا یہ خرابیاں اور جرائم معاشرے میں موجود ہیں تو میڈیا کیوں رپورٹ نہ کرے ؟درست سر تسلیم خم ہے مگر کیا یہ زیادتی نہیں ہوگی کہ چند جرائم کی روشنی میں اپنے معاشرے کے بارے میں منفی رائے قائم کر لی جائے ؟ ذہن میں یہ خیا ل آتا ہے کہ وہ ہزاروں خوبصورتیاں کہاں ہیں جو ہمارے معاشرے میں موجود ہیںاور جن کا مشاہدہ ہم روز کرتے ہیں!ایک بیٹے نے اپنا والد قتل کرڈالا لیکن اسی معاشرے میں لاکھوں کی تعداد میں وہ بیٹے بھی ہیں جو ہسپتالوں میں اپنے ضعیف والدین کے ہاتھ پکڑے انہیں ڈاکٹروں کے پاس لیے پھرتے ہیں اگر چند بیٹے اپنے والدین کو اولڈ ہائوسز میں داخل کر دیتے ہیں تو لاکھوں بیٹے ایسے بھی ہیں جو اپنے والدین کی خدمت میں رات دن ایک کررہے ہیں!ہمارا موقف صرف اتنا ہے کہ چند جرائم کی بنیاد پر اپنے خوبصورت معاشرے کے حوالے سے منفی رائے قائم کرنا کسی طور مناسب نہیں ہے!اس قسم کے رویے کا ایک اور بہت بڑا نقصان یہ بھی ہورہا ہے کہ ہم میں احساس کمتری روز بروزبڑھ رہا ہے اور ہم ایک شدید قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہوچکے ہیں کہ وطن عزیز سے باہرسب کچھ ٹھیک ہورہا ہے اگر خرابی ہے تو صرف اپنے دیس میں! یہ ایک بہت بڑا جھوٹ ہے اور ہم جتنی جلدی اس مغالطے سے باہر آجائیں ہمارے لیے بہتر ہوگا !کل ایک دوست سے ملاقات ہوئی جو پچھلے چند برسوں سے ملیشیا میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ ہم نے ان سے مہاتیر محمد کے حوالے سے کہا کہ یہ ملیشین قوم کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں اتنا بڑا لیڈر ملا ؟انہوں نے ہماری بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یقینا مہاتیر محمد نے اپنی قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے ان کی اقتصادی حالت بھی بہتر ہوئی ہے لیکن وہاں کا معاشرہ بڑی تیزی سے زوال کی طرف بڑھ رہا ہے انسانی اقدار اور اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے اور اب وہاں کے اہل فکر اس حوالے سے بہت پریشان ہیں طلاق کی شرح بہت زیادہ ہے آپ کسی بھی گھر میں صرف آواز دے کر داخل ہوسکتے ہیں کبھی کبھی تو حیرانی ہوتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات واقدار ان کو چھو کر بھی نہیں گزریں !جاپان سے درآمدہ ایک تازہ ترین خبریہ پڑھی ہے کہ وہاں کے معمرترین افراد بے تحاشہ چوریاں کر رہے ہیں اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ ان کے لیے روزمرہ کی ضروریات کے لیے اخراجات نہیں ہیں اس لیے وہ چوری کرتے ہیں تاکہ جیل میں آرام سے ایک دو برس گزار سکیں وہاں کھانا بھی مل جاتا ہے اور الائونس بھی ! جاپانی بوڑھے غربت اور اکیلے پن کا شکار ہیںاسی لیے وہ اپنی زندگی کے آخری چند سال جیل میں گزارنا چاہتے ہیں!یقین کیجیے ہمیں تو اب اپنا معاشرتی سیٹ اپ ہزار گنا بہتر نظر آنے لگا ہے۔ اگر دل چاہے توکل لیڈی ریڈنگ ہسپتال تشریف لے جائیں وہاں آپ کو بہت سے بوڑھے اپنے جوان بیٹوں کی معیت میں بادشاہوں کی طرح لاڈ کرتے دکھائی دیں گے ! ۔

متعلقہ خبریں