Daily Mashriq

کم عمری میں شادی کے لئے قانون سازی

کم عمری میں شادی کے لئے قانون سازی

پارلیمان کاکام عوام کے حقوق کے تحفظ اور بہم رسانی کے لئے قانون سازی ہوتاہے۔ اگرچہ ہماری پارلیمان اکثر اوقات ایک دوسرے کی مخالفت‘ اعتراضات اور بعض اوقات ایک دوسرے کے شجرہ ہائے نسب بتانے میں مشغول ہوتی ہے لیکن بعض اوقات بہت کام کی اور دلچسپ قانون سازی بھی ہو جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ پاکستان کا دنیا کے ان ملکوں میں شمارہوتا ہے جہاں زندگی کے ہر امر و معاملے کے لئے قانون سازی کی گئی ہے اور قانون موجود ہے لیکن اس پر عمل درآمد کے مواقع کم ہی آتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ’’امیر‘‘ کے لئے الگ اور ’’غریب‘‘ کے لئے الگ قانون موجود اور نافذ کیاجاتا ہے۔ اور یہی ہماری بربادی کے اسباب میں بھی بڑا سبب ہے۔ لیکن بہر حال کبھی کبھی اچھا قانون نفاذ کے مراحل سے بھی گزر جاتا ہے ورنہ عام طور پر پاکستان کی جیلوں سے لے کر ایوانوں تک قانون دو ہی چلتے آئے ہیں‘ اب تبدیلی سرکار کا دعویٰ ہے کہ نئے پاکستان میں قانون ایک ہوگا اور کراس دا بورڈ (Across the board) ہوگا‘ اگرچہ عوام کاایک حصہ اور اپوزیشن جماعتیں اسے سیاسی کرتب ہی قرار دیتی ہیں لیکن قانون سازی اور نفاذ قانون کے حوالے سے ایک بات طے ہے کہ جو چیز اور فکر سمندر پار سے آتی ہے اور بالخصوص جب وہاں سے دبائو آتا ہے تو ہمارے ہاں قانون سازی اور اس کے نفاذ میں اکثر بڑی مستعدی دکھائی جاتی ہے۔ بعض اوقات مجبوری کے تحت اور بعض اوقات شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کے سبب۔ اسی قسم کے قوانین میں سے ایک قانون گزشتہ دنوں پاکستان کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اٹھارہ سال سے کم عمر میں شادی پر پابندی کے بل کی منظوری کی صورت میں بنایا۔ اس بل کو اس سے پہلے سندھ کی اسمبلی نے قانون کی شکل دی تھی۔ ویسے سندھ اسمبلی اس قسم کے بل اور قوانین بنانے اور منظور کرنے میں ثانی نہیں رکھتی۔ اس سے پہلے بھی ایک دلچسپ بل مذہب کی تبدیلی کے بارے میں پیش کیا تھا جس کی رو سے اٹھارہ سال سے کم عمر میں اگر کوئی اسلام قبول کرنا چاہے تو اس کی اجازت نہیں ہوگی۔پاکستان کے آئین کے مطابق اس مملکت خداداد میں قرآن و سنت میں بیان کی گئی تعلیمات‘ احکام اور ہدایات سے متصادم کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ لیکن ان متذکرہ بالا دونوں قوانین میں میرا خیال ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے اخذ و مفہوم کو نظر انداز کیاگیا ہے۔ قرآن وسنت میں شادی کے لئے عمر کا تعین کہیں نہیں پایا جاتا البتہ یہ بدیہی بات ہے کہ رخصتی بلوغت پر ہوتی ہے۔ جہاں تک نکاح( منگنی یعنی رشتے کے یقین اور قرار کا تعلق ہے تو والدین بچوں کا رشتہ بھی طے کرسکتے ہیں البتہ احادیث میں خیار البلوغ کے تحت رخصتی بچوں کے جوان (بالغ) ہونے اور رضا مندی ہی پر ہوگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ مبارک میں ایسا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود بنفس نفیس ان کے درمیان فیصلہ فرمایا ہے۔ لیکن یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اسلام فطرت کا دین ہے اور شادی کے لئے مرد عورت کی باہمی رضا مندی بھی لازمی رکن ہے اور اسی لئے اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ شادی سے پہلے بزرگوں کی موجودگی میں یا کسی دوسرے با وقار طریقے سے لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو ایک نظر دیکھ لیں تو مضائقہ نہیں۔ لیکن قانون سازی کے ذریعے سارے پاکستان کے عوام کو اس بات کا پابند کرنا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر میں شادی نہیں ہوسکتی۔ زیادہ قرین عقل و فطرت نہیں۔ کیونکہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں موسم آب و ہوا‘ خوراک‘ تہذیب اور رسم و رواج کے اختلاف کے سبب سولہ برس سے لے کر ساڑھے سترہ اور اٹھارہ سے لے کر پچیس برس کی عمروں اور بعض اوقات اٹھائیس تیس سال کی عمر میں بھی شادیاں ہوتی ہیں۔اس بات میں اگرچہ وزن ہے کہ اٹھارہ سے کم عمر کی شادیوں میں بعض اوقات طبی اور تہذیبی اور بعض دیگر پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں لیکن یہ عموم نہیں ہے۔ پاکستان کے شہروں میں تو عموماً اٹھارہ برس سے اوپر کی عمر میں شادیاں ہوتی ہیں کیونکہ شہروں میں اب لڑکیاں بھی بی اے ایم اے تک پڑھتی ہیں اور ڈگری لیتے لیتے لڑکیوں کی عمر بائیس تئیس برس تک ہو ہی جاتی ہے اور پھر اگر ایم اے کے فوراً بعد رشتہ نہ آئے تو دو سال بعد پچیس چھبیس پر پہنچ کر اوور ایج (Over age) کہلانا شروع ہوجاتی ہیں اور ہمارے ہاں جہیز اور دیگر مذموم رسوم کے سبب کتنی بچیاں شادی کی عمر کراس کرکے بن بیاہی رہ جاتی ہیں جس سے بڑے گمبھیر معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں۔ آج کل ہمارے معاشرے میں بچیوں کے والدین کو بچی کے بالغ ہونے پر سو فکر یں لاحق ہوجاتی ہیں اور سب سے بڑی فکر یہ ہوتی ہے کہ کہیں سکول کالج آتے جاتے کھلنڈرے اور بد تہذیب نوجوانوں کی شرارتوں کے سبب بدنام نہ ہوجائے اور یوں رشتے سے محروم نہ ہونا پڑے۔ اس لئے کہتے ہیں کہ جتنا جلد ممکن ہو لڑکی ’’ اپنے گھر‘‘ پہنچ ہی جانی چاہئے۔ اس پر مستزاد غریب کی بچی پر اڑوس پڑوس کے بد معاش اور نو دولتئے جس انداز میں نظر رکھتے ہیں اس کا اندازہ احمد ندیم قاسمی مرحوم کے اس فقرے سے لگایا جاسکتا ہے کہ ’’ غریب آدمی سے جب خدا ناراض ہوجاتا ہے تو اسے خوبصورت بیٹی دیتا ہے‘‘ اس کا اندازہ آج بھی وہ لوگ بخوبی لگا سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بیٹیاں دی ہیں اور غریب بھی ہیں۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں