Daily Mashriq


گوادر میں 36 ہزار ایکڑ زمین سرکاری اراضی قرار

گوادر میں 36 ہزار ایکڑ زمین سرکاری اراضی قرار

گوادر: بلوچستان حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ضلع گوادر کی تحصیل پسنی میں 36 ہزار ایکڑ زمین پر معاہدے کو ختم کرتے ہوئے اسے سرکاری زمین قرار دے دیا۔

باوثوق ذرائع نے بتایا کہ جس زمین کو منسوخ کیا گیا ہے وہاں تحصیل پسنی کے 19 گاؤں واقع ہیں، یہ نوٹیفکیشن 7 جنوری 2019 کو جاری کیا گیا تھا جس پر بورڈ آف ریونیو کے سینئر رکن شعیب احمد گولا نے دستخط کیے ہیں۔ریئل اسٹیٹ ایسوسی ایشن کے صدر غلام محمد نے کہا کہ حکومتی فیصلے نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو ان کی جائیداد سے محروم کردیا ہے۔

جن گاؤں میں زمینوں کو منسوخ کیا گیا ہے ان میں شمل بندن، چار بندن، چکین، گھاٹی، شتنگی، گیرانی، گدزان بل، منیر بل، مکولا شرقی، مکولا غربی، کپر شرقی، کپر غربی، کلمت، چاندی کلمت، اسپیاک، دوسی، رومبارو، شدی کور شمالی اور زرین شامل ہیں۔اس علاقے کی زمین کے مالکوں نے حکومتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ جس زمین کو حکومت نے تحویل میں لینے کا اعلان کیا، وہ سرکاری ریکارڈ میں کئی صدیوں سے ان کے نام پر رجسٹر ہیں کیونکہ یہ زمین ان کے آباؤ اجداد کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو زمین چاہیے تو وہ اصل مالکوں کو اس کی قیمت ادا کرے۔بلوچستان نیشنل پارٹی مینل گروپ کے رکن صوبائی اسمبلی میر کمال کلمتی نے بورڈ آف ریونیو کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ تیسرا موقع ہے کہ حکومت مالکان کو ان کی اپنی ہی زمین سے محروم کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس زمین کو قانونی طور پر معاہدے کے تحت 2 مرتبہ بیچ اور باقاعدہ عمل کی تکمیل کے بعد اسے لوگوں کو الاٹ کرچکی ہے اور اب دوبارہ متعلقہ محکمہ تحصیل پسنی کے 19 گاؤں کے رہائشیوں سے شدید زیادتی کر رہا ہے۔

کمال کلمتی نے کہا کہ مقامی لوگ اس زمین کے مالک تھے اور زمین کی ملکیت کے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تحصیل پسنی کے عوام سے یہ زیادتی ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور تمام فورمز پر ان کے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔

متعلقہ خبریں