Daily Mashriq

ارمان لونی کی قلعہ سیف اللہ میں تدفین، بلوچستان کے پشتون علاقوں میں ہڑتال

ارمان لونی کی قلعہ سیف اللہ میں تدفین، بلوچستان کے پشتون علاقوں میں ہڑتال

Image captionکوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے شمال میں دیگر پشتون آبادی والے علاقوں میں بھی کاروبارِ زندگی معطل ہےپشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما ابراہیم ارمان لونی کی ہلاکت کے خلاف بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور پشتون اکثریتی علاقوں میں پیر کو ہڑتال کی جا رہی ہے۔

ابراہیم ارمان دو روز قبل لورالائی میں پولیس کی جانب سے گرفتاری کی کوشش کے دوران مبینہ تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ابراہیم ارمان کی بہن وڑانگہ لونی اور ان کی جماعت پی ٹی ایم کا الزام ہے کہ ابراہیم ارمان کی موت پولیس تشدد سے ہوئی ہے تاہم لورالائی پولیس نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔لورالائی میں ہلاک ہونے والے ارمان لونی کون تھے؟پولیس کے ایک سینیئر اہلکار کا دعویٰ ہے کہ نہ ارمان کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق لورالائی کے مقامی تھانے کے اہلکار کا کہنا ہے کہ تاحال ابراہیم ارمان کی ہلاکت کا کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ابھی تک مدعیان کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی درخواست نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی پولیس نے اپنے طور پر کوئی کارروائی کی ہے۔ارمان لونی کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال کی کال پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے دی تھی جبکہ بعض دیگر سیاسی جماعتوں نے اس کی حمایت کی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے باعث کوئٹہ شہر کے مرکزی علاقوں میں تمام کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔ کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے شمال میں دیگر پشتون آبادی والے علاقوں میں بھی کاروبارِ زندگی معطل ہے۔

ابراہیم ارمان کو اتوار کی شب ان کے آبائی علاقے قلعہ سیف اللہ میں سپردِ خاک کیا گیا اور ان کے جنازے میں عوام کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ابراہیم ارمان کی لاش کو پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد کوئٹہ سے قلعہ سیف اللہ لایا گیا۔ سول ہسپتال کوئٹہ کے ایم ایس ڈاکٹر سلیم ابڑو نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ پیر تک آجائے گی۔

ابراہیم ارمان کی بہن وڑانگہ لونی نے الزام لگایا کہ ان کے بھائی کی موت پولیس تشدد سے ہوئی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ دیکھی ہے جس میں ان کے سر پر تشدد کے نشانات ہیں۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے پابندی کے باوجود پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کے علاوہ ارکانِ اسمبلی علی وزیر، محسن داوڑ اور پی ٹی ایم بعض دیگر رہنما جنازے میں شرکت کے لیے قلعہ سیف اللہ پہنچنے میں کامیاب رہے تھے۔

تدفین کے موقع پر منظور پشتین، ابراہیم ارمان کی بہن وڑانگہ لونی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما نواب ایاز خان جوگیزئی نے بھی خطاب کیا۔

منظور پشتین نے اپنے خطاب میں ابراہیم ارمان کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابراہیم ارمان صرف اس علاقے کا ہیرو نہیں بلکہ پورے پشتون وطن کا ہیرو تھا۔

انھوں نے پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر پشتون متحد ہوجائیں تو ان کے علاقوں میں قتل و غارت گری کا جو بازار گرم کیا گیا ہے وہ ختم ہو جائے گا۔

منظور پشتین کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی ایم ابراہیم ارمان کے سوئم کے بعد صلاح و مشورے سے اس سلسلے میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

متعلقہ خبریں