Daily Mashriq

چھالیہ اور تمباکو ہر سال سیکڑوں افراد کی جان لے لیتے ہیں، ماہرین صحت

چھالیہ اور تمباکو ہر سال سیکڑوں افراد کی جان لے لیتے ہیں، ماہرین صحت

کراچی:  پاکستان سمیت دنیا بھرمیں کینسرکا عالمی دن پیر کو منایا جائے گا،طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں پان، گٹکا، چھالیہ، تمباکو کے استعمال سے مردوں میں منہ اورخواتین میں چھاتی کا کینسر سب سے زیادہ ہے،بیماری کی بروقت تشخیص کرکے علاج شروع کر دیا جائے تو 30 سے 50 فیصد تک کینسرکے کیسز سے بچا جا سکتا ہے،حکومت چھالیہ کی درآمد مکمل طور پر بند کرے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی یوم سرطان سے متعلق قومی ادارہ برائے صحت اطفال میں ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملے کے لیے میڈیونکس کمیونی کیشن کے تحت آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا، سیمینار کے دوران سابق پروفیسر آف پیڈیاٹرک سرجری و سابق ڈائریکٹر این آئی سی ایچ پروفیسر نظام الحسن، پروفیسر آف سرجری لیاقت نیشنل اسپتال و میڈیکل کالج پروفیسر روفینا سومرو، ڈائریکٹر اٹامک انرجی میڈیکل سینٹر، جناح اسپتال ڈاکٹر محمد علی میمن، ڈائریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایولیوایشن سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ڈاکٹر محمد سلیمان اوٹھو، ای این ٹی سرجن و سیکریٹری جنرل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سینٹر ڈاکٹر قیصر سجاد اورآنکولوجسٹ کرن اسپتال ڈاکٹر اصغر ایچ اصفر نے خطاب کیا، اس موقع پر چیئرمین سی آر پی سی شکیل بیگ، صدر چائلڈ ایڈ ایسوسی ایشن طارق شفیع اور میڈیا کنسلٹنٹ و سی ای او میڈیونکس اختر شاہین رند نے بھی اظہار خیال کیا، سیمینار میں ہینڈز کے کمیونٹی مڈوائف اسکول کی طالبات نے پرنسپل تسمینہ قادر کی قیادت میں خصوصی شرکت کی، پروفیسر نظام الحسن نے کہا ہے کہ کینسر قابل علاج بیماری ہے، تعجب ہوتا ہے چھوٹی چھوٹی عمر کے بچے بھی نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتے ہیں، چھالیہ وغیرہ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ کینسر کی شرح بچوں میں دو فیصد تک ہے، اگر بروقت علاج شروع کر دیا جائے تو بچوں میں کینسر قابل علاج ہے، زیادہ تر اموات کینسر سے نہیں انفیکشن سے ہوتی ہیں،دھواں آلودگی اور دیگر بیماریوں سے کینسر ہو سکتا ہے، ڈاکٹر محمد علی میمن نے کہا کہ 70 فیصد کینسر انفیکشن سے ہوتا ہے، صفائی نصف ایمان ہے اس کا خیال رکھنا چاہیے، چھالیہ پان، تمباکو کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہے،تمباکو سے دنیا بھر میں ایک کروڑ اور پاکستان میں ایک لاکھ  لوگ فوت ہو جاتے ہیں، ساٹھ سے ستر فیصد کینسر ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سے ہوتا ہے، ملک میں ہیپاٹائٹس کے ایک کروڑ تیس لاکھ مریض ہیں، اگر ان چیزوں پر قابو پا لیں تو اتنے پیسوں سے ڈیم بن سکتا ہے،انھوں نے کہا کہ تیس سے پچاس فیصد کینسر کیسز بچائے جاسکتے ہیں، قابل بچاؤ کینسر میں بریسٹ، جگر، جلد، سروائیکل، پھیپھڑے، کولوریکٹل، اورل شامل ہیں، ڈاکٹر محمد علی میمن نے کہا کہ فیملی فزیشن کا انتہائی اہم کردار ہے۔

وہ کینسر کی بروقت تشخیص کریں اور لوگوں کو چاہیے کہ فاسٹ فوڈ کے بجائے صحت مند غذا کھائیں اور اپنے اردگرد کا ماحول صاف رکھیں، ستر فیصد کیسز ختم ہو جائیں گے، انھوں نے عالمی ادارہ صحت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال کینسر کے 18 سے 21 ملین نئے کینسر ہوتے ہیں جبکہ ہر سال ساڑھے نو ملین سے زائد لوگ اسی بیماری کی وجہ سے وفات پا جاتے ہیں، دنیا بھر میں صرف تمباکو سے ہر سال 70 لاکھ جبکہ پاکستان میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد لوگ مرجاتے ہیں،ڈاکٹر محمد سلیمان اوٹھو نے کہا کہ ہر انسان کو آٹھ گھنٹے کام اور آٹھ گھنٹے آرام کرنا چاہیے تاکہ ذہنی طور پر صحت مند رہیں، بہت سے کینسر علاج سے ٹھیک ہو جاتے ہیں، ڈاکٹر قیصر سجاد نے بتایا کہ پاکستان میں منہ کا کینسر نمبر ون بنتا جارہا ہے جو مردوں میں سب سے زیادہ ہے، 70سے 75 فیصد کینسر پان، چھالیہ، گٹکا کی وجہ سے ہوتا ہے، پاکستان میں لوگ بائیوپسی کرانے سے ڈرتے ہیں حالانکہ اسی سے ہی حتمی تشخیص ہوتی ہے۔

انہیں چاہیے کہ اگر مستند ڈاکٹر کہے تو ضرور کرائیں، اس سے کینسر پھیلتا نہیں ہے، پاکستان میں بغیر دھویں والی تمباکو اور دیگر نشہ آور اشیا استعمال کرنے کو برائی نہیں سمجھا جاتا، چالیس فیصد مرد اور تیس فیصد خواتین کسی نا کسی شکل میں چھالیہ استعمال کرتے ہیں، ڈاکٹر قیصر سجاد نے مطالبہ کیا کہ حکومت چھالیہ کی درآمد پر پابندی لگائے، اسکول کے اندر اور باہر کینٹین سے اس کی فروخت پر عائد پابندی پر عمل کیا جائے، انھوں نے کہا کہ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ اس پر عوام کو آگاہی دے، ڈاکٹر اصغر حسین اصغر نے کہا کہ دنیا بھر میں مرنے کی دو بڑی وجوہات دل کا دورہ اور کینسر ہے جس سے بچاؤ ضروری ہے۔

پروفیسر روفینا سومرونے بتایا کہ ہربارہ میں سے ایک خاتون کو بریسٹ کینسر کا خطرہ ہے، جتنی جلدی بیماری کا علاج شروع کریں گے اتنا فائدہ ہو گا، ہر خاتون کو بریسٹ کا معائنہ کرنا آنا چاہیے جو کہ بہت آسان ہے، انھیں اپنا میموگرام  ٹیسٹ ہر دو سال بعد کرانا چاہیے، آج کل خواتین میموگرام سے بھی گھبراتی ہیں، شکیل بیگ نے کہا کہ کینسر کی سب سے بڑی وجہ ملاوٹ ہے، ملاوٹ شدہ چیزیں گردوں کو خراب کرتی ہیں اور کینسر کا باعث بھی ہوتی ہیں، عوام اپنے ہاتھ سے خوشی خوشی زہر خریدتے ہیں، ہمارے معاشرے میں اتائی بھی بہت کام کررہے ہیں جو معاشرے کیلیے بہت بڑا خطرہ ہیں ان کا تدارک ہونا چاہیے، سیمینار کے اختتام میں شرکا  میں شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔

متعلقہ خبریں