صفائی کا سال اور پشاور

صفائی کا سال اور پشاور

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی اس صاف گوئی کی دل کھول کر تعریف و تحسین کی جانی چاہئے۔ انہوں نے اس امر کا برملا اعتراف کیا ہے کہ وہ پشاورکو پھولوں کا شہر کے الفاط سنتے آ رہے ہیں لیکن یہ شہر حقیقت میں ایسا نہیں۔انہوں نے کہا کہ پشاور کی خوبصورتی پر کوئی کمپرومائز نہیں ہو گا۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پشاور کے 80 فیصد با شندے آلودہ پانی پیتے ہیں جو بیماریوں کا اصل سبب ہے۔پشاور میں صفا پیخور کے نام سے سال 2017ء کو صفائی کا سال کے طور پر منانے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہاں محولہ حقیقت بیانی کا مظاہرہ کیا ہے وہاں وزیر اعلیٰ کا دعویٰ ہے کہ ان کے د ور حکومت میں ان مسائل کے حل کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں اور وزیر اعلیٰ کی دانست میں یہ مسائل حل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے چند ایک اقدامات کا حوالہ بھی دیا۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے موخر الذکر خیالات سے اس لئے اتفاق ممکن نہیں کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا اپنا استدلال ہو سکتاہے اور ان کے بیان کو ''سیاسی'' بھی قرار دینے کی گنجائش ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جن اقدامات کا حوالہ دیا ہے ان سے انکار نہ بھی ہو تب بھی ان کے نتائج پر عدم اطمینان کے پورے پورے مواقع موجود ہیں۔ پشاور نجانے کب پھولوں کا شہر تھا۔ کسی زمانے میں پشاور واقعی پشاور ہوگا اور پشاور پھولوں کاشہر کہلاتا ہوگا مگر جب سے شہرائو کا عمل بڑھا ہے اور پشاور کی آبادی فصیل شہر سے نکل کر کھیتوں' کھلیانوں اور باغات کو لپیٹ میں لے کر اینٹوں کی عمارتوں اور پختہ و نیم پختہ او رکچی گلیوں اور خاص طور پر نکاسی آب کے انتہائی نامعقول اور ناقا بل قبول نظام کی زد میں آگیا ہے اس کے بعد پشاور کو پشاور تو پھر پشاور ہے اور اسے پھولوں اور باغات کا شہر قرار دینا خلاف حقیقت ہے۔ پشاور کی آبادی جس دن فصیل شہر سے باہر جھلکی ہوگی وہ دن اس شہر کی وسعت نہیں بلکہ اس کی تنگ دامنی اور تباہی کا دن ہوگا۔ پشاور میں جس طرح منصوبہ بندی کا فقدان ہے اور جس انذداز سے زرعی اراضی پر دھڑا دھڑ آبادی بنتی گئی ہے اس سے صرف زراعت و باغات اور ثمر و اشجار کی نہیں قدرتی ماحول اور پرند و چرند کی بھی حیات متاثر ہوئی ہے۔ پشاور فضائی کثافت کے لحاظ سے دنیا کے خطرناک ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے اور ایشیاء کے گندہ ترین شہروں میں اس کا شمار نمایاں ہے۔ پشاور کا نوحہ ہی یہ ہے کہ اسے ہر دور حکومت میں نظر انداز کیاگیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ پشاور کو صوبائی دارالحکومت ہونے کے باوجود کبھی اپنے شہر سے وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا اعزاز نہیں ملا۔ ایک لحاظ سے ایسا کہنا غلط بھی ہے کہ پشاور میں ہر وزیر اعلیٰ کا گھر ضرور ہے مگر چونکہ یہ ان کا حلقہ انتخاب نہیں اس لئے پشاور کبھی بھی حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔ اس کے باوجود کہ پورے صوبے کی آبادی اور لاکھوں افغان مہاجرین جن کی آمد کے بعد سے تو پشاور بد ترین صورتحال کا شکار رہااس کے باوجود صوبائی دارالحکومت ہونے اور صوبے کا سب سے بڑا شہر اور سب سے بڑی آبادی کاحامل شہر ہونے کے اس کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیاگیا ۔ افسوسناک امر تو یہ ہے کہ ایک د ور حکومت میں پشاور سے سینئر اور با اختیار صوبائی وزیر کے علاوہ کابینہ میں کئی ''فرزندان پشاور '' شامل تھے مگر افسوس اس دور میں بھی پشاور نہ تو پشاور بن سکا نہ پشاور کی آہ و بکا کسی نے سنی اور نہ ہی کسی کو اس امر کی توفیق ہوئی کہ وہ اسے صوبائی دارالحکومت کے شایان شان بنانے پر توجہ دے۔ آج کا پشاور ناکوں اور سڑکوں کی بندش کے باعث شہریوں کے لئے نو گو ایریا بن چکا ہے اور اس کے باعث شہر بھر کی ساری ٹریفک کے لئے ایک ہی سڑک بچی ہے جس کی بنا پر شہر میں فضائی کثافت اور آلودگی کی شرح انسانی صحت کے لئے مضر کی حد سے قاتل کی حدود میں داخل ہوچکی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اگر پشاور کے مسائل کے حل میں واقعی سنجیدہ ہیں تو ان کو بلند سڑکوں اور گزر گاہوں کو کھلوانا ہوگا تاکہ ٹریفک کی تقسیم ہو اور آلودگی کی روک تھام میں قدرے بہتری آئے۔ شہر میں سڑکوں کے کناروں پر گرین بیلٹ لگانے کا کام ایک مرکزی سڑک ہی پر کیوں نظر آتا ہے اور ہم اس سڑک پر گزرنے والے مہمانوں کو پشاور کا بہتر چہرہ دکھانے کی سعی میں کیوں مگن ہیں۔ مرکزی سڑک سے ہٹ کر پشاور میں آلودگی کی خطرناک حد کو قابو میں لانے کے لئے شجر کاری سمیت دیگر معروف طریقے اختیار کیوں نہیں کر پاتے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے ہر شہری کو شجرکاری کے لئے پودا دینے کی تجویز اپنی جگہ کیا شہری ان پودوں کو کھلے گٹر لائن میں گاڑ دیں یا ان گلیوں میں لگائیں جہاں بمشکل گزرنے کی گنجائش ہے۔ شہر کے جن علاقوں اور مقامات پر شجر کاری کی گنجائش ہے یا وہاں شجر کاری ہوتی ہے کیا یہ المیہ نہیں کہ سال میں تین دفعہ انہی گڑھوں میں پودے ٹکائے جاتے ہیں اور ہفتہ بعد نظر نہیں آتے یا پھر سوکھ چکے ہوتے ہیں۔ متعلقہ محکموں سے باز پرس کیوں نہیں ہوئی کہ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں پودوں کے ضیاع کا ان کا مقصد کیا ہے۔ شہر میں جدید ٹرانسپورٹ نظام رائج کرنے کے دعوے پر عملدرآمد سے مایوسی کا اظہار خلاف حقیقت نہیں حکومت کو اس مد میں اپنی بلا وجہ ہونے والی ناکامیوں کا اعتراف کرنا چاہئے۔صوبائی دارالحکومت پشاور میں صفائی کا سال منانے کا تقاضا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے جن جن مسائل کی نشاندہی کر کے اس کی ذمہ داری گزشتہ حکومتوں پر ڈالی ہے ان کے حل میں ناکامی کا بھی اگر اعتراف کر لیتے تو کم از کم غلطی کا اعتراف درست سمت آغاز سفر کا مصداق ضرور بن سکتا ہے اس کے باوجود کہ موجودہ حکومت کے دور میں پشاور میں کئی ایک نافع اور اہم منصوبے مکمل کئے جا چکے ہیں مگر شہر میں مسائل کا انبار اتنا ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ صفائی کا سال منانے کا تقاضہ ہے کہ شہر سے کوڑے کرکٹ کے ڈھیرروزانہ کی بنیاد وں پرہٹانے کا معقول انتظام کیا جائے ۔گندی نالیوں کی تعمیر و مرمت اور صفائی کا بندوبست کیا جائے ۔ نکاسی آب کے نظام کو معقول بنا یا جائے ۔ حیات آباد سمیت جن جن علاقوں میں تھوڑی سی توجہ کے ساتھ کافی بہتری کی گنجائش موجود ہے ان علاقوں میں کم از کم عملہ صفائی اور پی ڈی اے کے ہار ٹیکلچر ل ڈیپارٹمنٹ اور اسی طرح ٹائو نز میں ان شعبوں کے عملے کو باقاعدہ اور فعال بنا یا جائے ۔شہر یوں کو صفائی کا شعور دے کر اور ان کے تعاون سے صفائی کا سال منا کر مسائل پر قابو نہ پا یا جا سکے تو کم از کم قابل توجہ بہتری تو ممکن ہوگی ۔

اداریہ