کے پی اسمبلی میں بھر تیوں کی تحقیقات

کے پی اسمبلی میں بھر تیوں کی تحقیقات

احتساب کمیشن خیبر پختونخوا کی جانب سے گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران صوبائی اسمبلی میں سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر چہیتوں اور رشتہ داروں کو بھرتی کرنے سے متعلق تحقیقات کا آغاز احسن اقدام ہے ۔ ذرائع کے مطابق احتسا ب کمیشن میں جمع شکایت میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی میں گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران گریڈ4سے19تک 50کے قریب افراد کو بھرتی کیا گیا جن میں 25سے زائد افراد کا تعلق صوابی سے ہے جنہیں سفارشی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا ہے جبکہ اسمبلی سیکرٹریٹ کی بعض اعلیٰ شخصیات کی جانب سے اہم آسامیوں پر رشتہ داروں اور چہیتوں کو بھی بھرتی کیا گیا ہے ۔بھرتیوں کے عمل میں میرٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے اگر چہ حتمی صورتحال تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی بشرطیکہ احتساب کا عمل بلا امتیاز اور بغیر کسی دبائو کے کیا جائے لیکن مبینہ گمنام خط میں جو الزامات لگائے گئے ہیں ان کی تحقیقات اور اس کو ثابت کرنے کے لئے سائنسی بنیادوں پر تفتیش و تحقیق کی ضرورت نہیں اس دوران بھرتی ہونے والوں کے کوائف چیک کرنے سے ساری صورتحال سامنے آئے گی اگر حسن اتفاق ایک مخصوص علاقے کے امید وار ہی اہل اور مو زوں قرار پائے تھے تو اس کی حقیقت بھی سامنے آئے گی اور شکوک و شبہات کا ازالہ ہوگا ۔ اخبارات میں تسلسل کے ساتھ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اندرونی معاملات بارے مختلف نوعیت کی تفصیلات سامنے رہی ہیں ان کی روشنی میں بھی معاملات کو دیکھنے سے حقیقت حال آشکارہ ہوگا ۔ ہمارے تئیں گزشتہ تین سالوں کے دوران کے بھر تیوں کی تحقیقات ہی کافی نہیں البتہ اسے اگر مرحلہ وار تحقیقات کا آغاز کر کے ترجیح اول کے طور پر رکھا جائے تو موزوں ہوگا جس کے بعد درجہ بہ درجہ معکوس انداز میں سابقہ ادوار کی بھرتیوں کی شفا فیت بھی جانچی جائے تاکہ ہر دور میں ہونے والی نا انصافیا ں اور بد عنوانیاں طشت ازبام ہوں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کی جا سکے ۔

پبلک سروس کمیشن یا مذاق
خیبر پختونخوا کے زیر انتظام اعلیٰ صوبائی ملازمتوں کے امتحان کے پرچہ جات کے حوالے سے ہمارے نمائندے کی جو خصوصی رپورٹ شائع ہوئی ہے وہ چشم کشا ہی نہیں حیرت انگیز اور افسوسناک بھی ہے۔ پرانے پرچے پر سنہ تبدیل کرکے امیدواروں کو تھمانے کا جو طریقہ کار اختیار کیاگیاہے اس طرح کی سنگین غفلت اور فرائض منصبی سے ظلم کی تو قع کسی غیر ذمہ دار سے غیر ذمہ دار استاد سے بھی نہیں کی جاسکتی کجا کہ صوبے کی اعلیٰ ملازمتوں کے ممتحنین یہ جگ ہنسائی کرنے والا کام کریں۔ یہ کوئی ایسی سہو نہیں جو غلطی سے سرزد ہوئی ہو بلکہ پورے ہوش و حواس کے ساتھ انجام دی گئی ڈھٹائی کا بدترین مظاہرہ ہے جس کی تحقیقات کے بعد ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر سبکدوش کیا جائے۔ پبلک سروس کمیشن کے اعلیٰ عہدوں پر فائز تمام ذمہ دار افراد کا بلا امتیاز احتساب کیا جائے اور صوبائی حکومت اس ارتکاب غفلت کے ازالے کے لئے امیدواروں اور عوام سے معافی مانگے۔ وزیر اعلیٰ اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے کچھ عہدیداروں کی فوری برطرفی اور کنٹریکٹ کی منسوخی عمل میں لائے۔اس فاش غلطی سے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کا جو وقار مجروح ہوا ہے اور اس کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے اور امیدواروں و عوام کا اس ادارے سے جس طرح اعتماد اٹھ گیا ہے اس کی بحالی آسان نہیں۔ یہ تبھی ممکن ہوگا جب اس غفلت کے ذمہ داروں کو ان کی غفلت و کوتاہی کی کڑی سزا نہ دی جائے اور آئندہ کے لئے عوام کو اس کے اعادے کی عملی یقین دہانی نہ کرائی جائے۔

اداریہ