اقوام متحدہ غیر موثر کیوں؟

اقوام متحدہ غیر موثر کیوں؟

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک ٹویٹ ان دنوں خصوصی طور پر موضوع بحث بن کر رہ گیا ہے ۔جس میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ بہت پوٹینشل کا حامل ادارہ ہونے کے باوجود محض مل بیٹھنے ،گپ شپ اور وقت گزاری کا ایک کلب بن کر رہ گیا ہے۔چھبیس جنوری کے بعد ایک واضح تبدیلی دیکھنے میں آئے گی ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے جواب کے طور پر اقوام متحدہ کا ایک ٹویٹ بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا جس میں اس عالمی ادارے کے دس شعبوں میں کام کی وضاحت کی گئی ہے جس میں اسی ملکوں کے اسی ملین عوام کو خوراک کی سہولیات کی فراہمی' دنیا کے چالیس فیصد بچوں کے لئے خطرناک بیماریوں سے بچائو کی ویکسین ،سوالاکھ کے قریب فوجیوں کے ساتھ امن کے لئے مشن کی سرگرمیاں، لوگوں کو غربت سے بچانا ،حقوق انسانی کی پاسدار ی کے اعلامیوں اور معاہدوں کے ذریعے انسانی حقوق کا تحفظ،خواتین کی صحت وغیرہ شامل ہے ۔یوں امریکہ کے نومنتخب صدر اور عالمی ادارے کے درمیان ٹویٹر ہی ٹویٹر میں کچھ شکوہ جواب شکوہ ہوا ۔اس کی وجوہات کیا ہیں یہ تو عالمی ادارہ اور اس کا میزبان ملک ہی جانتا ہو گا مگر بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارے کے بارے میں اپنے جذبات اور تبصرے کا اظہار اس وقت کیا جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف ایک بے ضرر سی قرار داد منظور کی گئی تھی ۔ اس قرارداد میں اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی مذمت کی گئی تھی اور اسے مسئلہ فلسطین کے حل میں پیچیدگی پیدا کرنے کی کوشش قراردیا تھا ۔بعد میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے بھی اسرائیل کو انتباہ کیا تھا کہ وہ فیصلہ کرے کہ جمہوری ریاست ہے یا یہودی ۔جان کیری نے کہا تھا کہ ان بستیوں کی تعمیر سے دوریاستوں کا تصور کمزور پڑ سکتا ہے ۔اقوام متحدہ کی اس قرار داد سے یہودی بستیوں کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس سے اسرائیل کی اس سرگرمی پر محض عالمی ادارے کی ناپسندیدگی کا اظہار ہوتا تھا۔اس علامتی سے احتجاج پر بھی اسرائیل سیخ پا ہو ئے بغیر نہ رہ سکا ۔ اس قرارداد کو مسٹر ٹرمپ کے پیش رو باراک اوباما کے ایما پر پیش کیا گیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اس قرار دادکو امریکہ کے سچے دوست کی توہین قرار دیا تھا۔امریکہ کی نائب صدر کی سابق امیدوار سارہ پیلن نے تو مسٹر ٹرمپ کو اس غیر فعال ادارے کو خیر باد کہنے کا مشورہ دے دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے بارے میں استہزایہ انداز ایسے وقت میں اپنایا جب جاپان سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اپنی دس سالہ مدت پوری کرکے اس عالمی ایوان سے رخصت ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ پرتگال کے سابق وزیر اعظم اینٹونیوگوٹرس سیکرٹری جنرل کے طور پر ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ اس لحاظ سے حیر ت انگیز ہے کہ تیسری دنیا کے چھوٹے ملکوں کے سربراہوں کی طرف سے تو اس طرح کے خیالات ظاہر ہوتے رہے ہیں مگر عالمی نظام اور سیاست کے سب سے مرکزی کردار امریکہ کے کسی حکمران کی جانب سے اس طرح کی بات کم ہی ہوئی ہے ۔ حقیقت میںمسٹر ٹرمپ کے خیالات سو فیصد درست ہیں ۔ تعلیم ،صحت اور غربت کے خلاف کوششیں کرنا بجا مگر دنیا کے پیچیدہ اور دیرینہ سیاسی تنازعات میں یہ ادارہ عملی اقدامات تو درکنار جرات اظہار کا مظاہرہ بھی نہیں کر سکا۔اپنے کردار کے باعث اس ادارے کی کارکردگی فارسی محاورے ''نشستند، گفتندوبرخاستند '' کی طرح ہو کر رہ گئی ہے ۔یعنی یہ محض ایک ڈبیٹنگ کلب جس میں بحث ہوتی اور طاقتور اپنی پسند کے فیصلے اورقراردادیں منظور کرانے کے بعد اپنی راہ لیتے ہیں۔اقوام متحدہ پہلے بھی زیادہ موثر اور معتبر ادارہ نہیں تھا مگر اسے عالمی اور علاقائی تنازعات کے حل کے لئے ایک کمزور سے فورم کی حیثیت ضرور حاصل تھی ۔اس ادارے کا اصل زوال اس وقت شروع ہوا جب سوویت یونین کے انہدام کے بعد دنیا یو نی پولر ہو کر رہ گئی اور امریکہ نے یک طرفہ فیصلے مسلط کرکے اس ادارے کو بتدریج غیر موثر کرنا شرو ع کیا ۔امریکہ نے جہاں چاہا اقوام متحدہ کا نام استعمال کیا اور جب اور جہاں چاہا اس ادارے کو ڈیپ فریزر کی نذر کرنے میں دیر نہیں لگائی ۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جو طوفان امریکہ نے دنیا میں برپا کیا اس دوران اقوام متحدہ کی حیثیت محض ایک ربڑ سٹمپ کی رہی ۔امریکہ نے اپنی پسند کا بیانیہ اقوام متحدہ میں فروخت کیا اور دنیا نے اسے گرم کیک کی طرح دیوانہ وار ہاتھوں ہاتھ لیا ۔امریکہ نے اقوام متحدہ کے ذریعے منظور ہونے والی ہر قرارداد پر انگوٹھا لگو اکر طاقت کا بے محابا استعمال کیا ۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دنیا میں آزادی کی تحریکوں اور دہشت گردی کے تصورات کے درمیان باریک سا فرق بھی باقی نہیں رہا ۔قریب تھا کہ لغت سے جدوجہد آزادی کا حرف ہی مٹادیا جائے گا۔افغانستان اور عراق امریکہ کی اس حکمت عملی کا شکار ہوئے ۔اس لئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جو دردناک تصویر کھینچی ہے اس کی زیادہ تر ذمہ داری ان کے اپنے ملک پر عائد ہوتی ہے ۔کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ مسائل کا حل طلب چلے آنا اقوام متحدہ کی بے بسی اور بے کسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔امریکہ کو اس صورت حال کا اندازہ اب ہوا جب امریکہ کے مقابلے میں روس اور چین کی صورت میں دوسرا پول اُبھر چکا ہے۔روس شام میں امریکہ کے مقابل آکر اپنے نئے کردار کا آغاز کر چکاہے ۔ اب دنیا کا منظر بدل رہا ہے اب بھی امریکہ اس عالمی ادارے کو موم کی ناک بنانے کی پالیسی ترک کرے تو یہ ادارہ دوبارہ موثر ہو کر دیرینہ تنازعات کے حل میں ممد ومعاون ثابت ہو سکتا ہے۔

اداریہ