اسرائیل جمہوری یا یہودی ریاست!

اسرائیل جمہوری یا یہودی ریاست!

باراک اوباما اور جان کیری نے مشرق وسطیٰ کے پر آشوب اور د یرینہ حل طلب مسئلہ فلسطین کو شاید ٹھنڈا کرنے یا کچھ وقت کے لئے سائیڈ لائن کرنے کے لئے فلسطین میں امن کے قیام کی خاطر دو ریاستوں کے قیام کی حمایت کرلی اور اسی کے نتیجے میں گزشتہ دنوں بیت المقدس کے علاقے میں اسرائیلی آبادکاری کے خلاف سلامتی کونسل میں قرار داد منظور ہوئی جو یقینا عدل و انصاف کے مطابق ہے اور مظلوم اقوام کے حق کے لئے امریکہ کے علاوہ دنیا کی دیگر ساری اقوام اور ملکوں کی تائید و حمایت ہے۔اہل فلسطین اور مسلمان ممالک کی اکثریت نے اسرائیل کے ناجائز قیام اور غیر قانونی و غیر اخلاقی آباد کاری کی ہمیشہ مذمت و مزاحمت کی۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل اور جنرل اسمبلی میں اسرائیلی آباد کاری کے خلاف ہمیشہ قرار دادیں پیش ہوئیں اور ان قرار دادوں کی حمایت بھاری اکثریت نے کی لیکن امریکہ بہادر ہمیشہ ایسی قراردادوں کو ویٹو کرکے معاملہ اسرائیل کے حق میں کرلیتا۔اس دفعہ یہ عجیب واقعہ ہوا کہ سیکورٹی کونسل میں اسرائیل کی مذمت میں قرار داد منظور ہوئی کیونکہ امریکہ نے ویٹو نہیں کیا لیکن اس پر اسرائیل بہت غضب ناک ہے ۔'' میرے خیال میں وائٹ ہائوس چھوڑتے چھوڑتے باراک اوباما نے ضمیر سے مجبور ہو کر کسی حد تک اپنے سیکرٹری سٹیٹ جان کیری کو بھی قائل کرلیا ہوگا کہ آپ بھی عمر کے آخری حصے میں ہیں لہٰذا آئیں مل کر جاتے جاتے کھل کر حق اور مظلوموں کی حمایت نہ سہی کم از کم ظالموں کے ساتھ بھی تو کھڑے نہ ہوں اور یوں جان کیری نے اسرائیلی آبادکاری کی مذمت تو نہیں کی لیکن مذمتی قرارداد کی ووٹنگ میں حصہ نہ لے کر گویا دوسرے لفظوں میں مذمت کرنے والوں کو کھلی چھٹی دے دی جس کا نتیجہ اور بہت ہی اچھا اور خوشگوار نتیجہ مذمتی قرارداد پاس ہونے کی صورت میں نکلا جو آگے جا کر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورموں پر اسرائیل کے لئے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔خیر وہ تو بعد کی باتیں ہیں' کل کس نے دیکھا ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر چھوٹے سے اسرائیل میں اتنی طاقت کہاں سے آئی کہ امریکہ اور یورپ کے طاقتور ممالک ایک حق بات کے لئے بھی اس کی مخالفت کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔اصل بات یہودی قوم کی ہے۔ یہودی اس وقت دنیا بھر میں کل ملا کر زیادہ سے زیادہ دو ڈھائی کروڑ ہی ہوں گے لیکن اپنی ذہانت' محنت اور اپنے نصب العین (ڈیوائن سٹیٹ کے قیام) کے ساتھ بے لاگ و بے لوث کمٹمنٹ کے سبب پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہیں۔ امریکی انتخابات میں ان کے اثر و رسوخ کی ایک دنیا اور پورا امریکہ قائل ہے۔ یہودی دنیا کے سارے اہم ممالک کے انتخابات اور معاملات میں ایسا گہرا عمل دخل رکھتے ہیں کہ ہم جیسے لوگوں کو تو کہیں برسوں بعد تھوڑے بہت مطالعہ کے سبب پتہ چل جاتا ہے کہ اوہ! وہ فلاں معاملہ یوں ہوا تھا! اور اس میں یہودیوں کا یہ کردار تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کون کہتا تھا کہ وہ امریکہ کا صدر بن جائے گا لیکن یہودیوں کو معلوم تھا کہ دنیا کے حالات جس رخ پر جا رہے ہیں اس میں اسرائیل کو ٹرمپ کے مزاج کے امریکی صدر کی سخت ضرورت پڑے گی پھر ٹرمپ آگئے اور یہودیوں کی دور اندیشی کا کوئی اندازہ کرکے داد ہی دے سکتا ہے کہ جب امریکہ نے مذکورہ قرارداد پر اسرائیلی لعن طعن کے جواب میں اپنی پوزیشن واضح کرنا چاہی تو بہت اصولی اور اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل سے پوچھا گیا کہ ''اسرائیل فیصلہ کرے کہ وہ جمہوری ریاست بن کر رہنا چاہتا ہے یا یہودی ریاست؟ کیا امریکی انتظامیہ کو واقعی معلوم نہیں کہ اسرائیلی ریاست کیا ہے؟ ویسے سیاست کی زبان میں بات کی جائے تو اسرائیل تو سرے سے ریاست ہی نہیں ہے۔ ریاست کی تعریف پولیٹیکل سائنٹسٹوں نے یہ کی ہے کہ ''عوام' انتظامیہ (آئین و دستور) اور متعین سرحدوں پر مشتمل رقبہ و احاطہ وغیرہ) کو ریاست کہا جاتا ہے۔'' اسرائیل کی سرحدیں تو آج تک متعین نہیں ہیں بلکہ اس نے اپنی جو سرحدیں بنائی ہیں وہ تو نیل کے ساحل سے لے کر دریائے فرات تک ہیں جس میں خاکم بدھن پورا حجاز بھی شامل ہے اور اردن سے لے کر عراق تک یو این کے رکن ممالک بھی۔ اسرائیل (یہودیوں کی طاقت دیکھ سکتے ہیں)۔ دنیا میں دوسرا کوئی ملک ایسی کھلی دہشت گردی کا مظاہرہ کرسکتا ہے اس لئے اوباما انتظامیہ نے کہا ہے کہ ہم نے ووٹنگ میں خاموش رہ کر در اصل اسرائیل کی سلامتی و حفاظت چاہی ہے کہ اگر دنیا کے مسلمان ممالک فلسطین میں اقوام متحدہ کی قرارداد کی وجہ سے دو ریاستوں کا فیصلہ قبول کرلیں تو اسرائیل کے قیام کو شاید جواز مل جائے لیکن ایسا ہوگا نہیں۔ اگرچہ مسلمان ممالک میں چند ایک کو چھوڑ کر باقی خیر سلا ہے۔ کیونکہ ٹرمپ نے کھل کر دنیا کو چیلنج کیا ہے کہ اسرائیل کی مخالفت کرنے والے میرے مقابلے میں جنگ کے لئے تیار ہوجائیں۔ بس اسرائیل اتنا صبر کرے کہ وہ 20جنوری آجائے اور میں اقتدار سنبھال لوں پھر دنیا کی گلیوں میں مرزا یار جیسا چاہیں پھریں۔ٹرمپ کی اسرائیلی حمایت میں مسلمانان عالم بالخصوص حکمرانوں کے لئے بہت بڑا سبق ہے اور وہ یہ کہ اپنے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر مسلمان ممالک میں اللہ و رسولۖ کی شریعت مطہرہ کا خوبصورت و پاک نظام نافذ کروا کر خود بھی سکون سے رہیں اور مسلمان عوام کو سکون فراہم کریں۔ مسلمانوں کی خود داری و خود اختیاری تیسری دنیا کے کمزور و مظلوموں کے لئے بھی بہت بڑا سہارا و سکون ہوگا۔

اداریہ