دسمبر میں پوچھیں گے کیا حال ہے

04 جنوری 2017

فی الوقت تو سال نو کے آغاز پر دوست احباب آئندہ ایام کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں اور غالب کی طرح ہمیں بھی ایک برہمن نے سال کے اچھا ہونے کی نوید دی ہے۔ اب دیکھئے ہم جیسے عشاق اس سے کیا فیض پاتے ہیں۔ آج کل تو روزانہ ایک انتہائی اہم خبر سے پاکستانی قوم کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ اور وہ ایک پاکستانی نژاد برطانوی باکسر جس کی بیوی کا نام فریال بتایا جاتا ہے اپنی ساس سسر اور نندوں سے اس کی چپقلش کے مصالحہ دار واقعات بارے میں ہے۔ نجی ٹی وی کے چینلز پر خبر ناموں میں کرکٹ ٹیم کے کپتان کی ریٹائرمنٹ کی خبر کے بعد متذکرہ خاندانی چپقلش کی اطلاعات پر مبنی خبر کا دوسرا یا تیسرا درجہ ضرور ہوتا ہے۔ ہم نہیں سمجھتے ہیں پاکستانی قوم کو ایک ایسے برطانوی باکسر کے جس کی رینکنگ بھی غالباً نیچے سے پہلے نمبر پر ہے' خانگی معاملات جاننے میں کتنا ثواب ملتا ہے۔ جب کسی ملک کے میڈیا کی عوام کو خبریں پہنچانے کی یہ ترجیحات مقرر کی گئی ہوں تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حکمرانوں کو عوامی مسائل میں کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔ ابلاغ عامہ کے اداروں کو سمجھانے کے لئے کسی افلاطونی دانش کی ہر گز کوئی ضرورت نہیں' وہاں پہلے ہی سے بقراطوں کی بریگیڈ موجود رہتی ہے۔ انہیں اس حقیقت کا علم ہونا چاہئے کہ پاکستان کی 60فیصد آبادی خط غربت پر کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگ رہی ہے۔ خدا کے بندو! وہ ٹوٹے پھوٹے مکان کی ایک ایسی چھت کے آرزو مند ہیں جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ مکمل سکون سے اگر نہیں تو نیم سکونی سے زندگی بسر کر سکیں۔ وہ روز گار چاہتے ہیں جہاں وہ گوشت' پلائو اور بریانی نہیں دال روٹی پر اپنا گزارا کرسکیں۔ انہیں اپنے بچوں کے لئے تعلیم کی ضرورت ہے کیونکہ مملکت خدادادکے ڈھائی کروڑ بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔ عوام کو اپنی جان و مال کا تحفظ درکار ہے جہاں ایک جلسے پر 10کروڑ روپے قومی خزانے سے خرچ کردئیے جاتے ہیں۔ بتانا صرف یہ مقصود تھاکہ میڈیا پر صحت'تعلیم' روز گار اور امن و امان جیسے سلگتے مسائل پر گفتگو کرنے کی بجائے بالعموم ایسے نان ایشوز کو زیر بحث لایا جاتا ہے جن کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ گزشتہ تین دنوں سے ایک سیاسی جماعت کے سابق صدر اور موجودہ سربراہ کے ایک دوسرے پر پاگل ہونے کے الزامات کا چرچا ہے اور اب اسی مسئلے پر بحث و تمحیث کا طوفان برپا ہے۔ اس لا یعنی گفتگو میں عوامی نوعیت کی ایک اہم لرزہ خیز خبرپس منظر میں چلی گئی ہے۔ اس خبر کے مطابق لاہور کے تین بڑے ہسپتالوں کے درمیان شٹل کاک بننے کے بعد قصور کی رہائشی ضعیف العمر اور ایک نادار مریضہ آخر کار جناح ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان کی بازی ہار گئی۔ اس خبر سے بے حسی کے کئی پہلو سامنے آئے۔ بتایا جاتاہے کہ پیر کی صبح نئے سال کے پہلے روز قصور کی رہائشی ایک 60سالہ مریضہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیسے بھاری بھر کم نام کی ایک علاج گاہ میں لائی گئی۔

یادرہے کہ اس انسٹی ٹیوٹ کا ایمرجنسی وارڈ سرکاری خزانے سے نہیں مخیر لوگوں کے 50کروڑ کے عطیات سے تعمیر کیا گیاہے۔ اس علاج گاہ کے معالجین نے دل کے عارضے کی بجائے گردوں کا مرض تشخیص کیا اور مریضہ کو فوری طور پر سروسز ہسپتال پہنچانے کا مشورہ دیا۔ وہاں پر بھی اس کے علاج سے معذوری ظاہر کردی گئی اور مریضہ کے لواحقین کو علاج کی بجائے فوری طور پر جناح ہسپتال شفٹ کرنے کے گران قدر مشورے سے نوازا گیا۔ وہاں کے میڈیکل یونٹ میں مریضہ کے لئے کوئی خالی بیڈ ہی نہ ملا۔ چنانچہ اسے رضائی میں لپیٹ کر ٹھنڈے فرش پر ہی لٹا کر اسے ڈرپ لگا دی گئی۔ ظاہر ہے یہ کوئی مناسب علاج نہ تھا چنانچہ یخ بستہ فرش پر کسی مناسب لیبارٹری ٹیسٹ کے بغیر غیر ضروری ڈرپ لگانے کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے مریضہ کی حالت غیر ہوگئی اور چند لمحوں کے بعد ہی تڑپ تڑپ کر جان کی بازی ہار گئی۔ دریں اثناء صوبائی وزیر صحت لواحقین کی اشک شوئی کے لئے ہسپتال پہنچے۔ انہوں نے نم آلود آنکھوں کے ساتھ مریضہ کی لاش کو ایمبولینس تک پہنچانے میں لواحقین کی بھرپور مدد فرمائی۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے حسب معمول اس سانحے کے ہر پہلو سے تحقیقات کرکے 24گھنٹوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم صادر فرما دیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اس رپورٹ کے نتیجے میں کتنے ذمہ داروں کو کیا سزا ملتی ہے اور مرحومہ کو کتنی نفلوں کا ثواب پہنچتا ہے۔ لواحقین کی اگر تسلی نہ ہوئی تو لواحقین کے کسی احتجاج کی پیش بندی کے طور پر وزیر اعلیٰ کے قصور پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی اور پھر ان کو پچاس ہزار روپے کا چیک پیش کرتے مرحومہ کے کسی وارث کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے دکھایا جائے گا۔ یہ تو جب ہوگا تب ہوگا فی الوقت تو ہمیں نجی ٹی وی چینلز پر برطانوی باکسر اور اس کی بیوی کے ایک دوسرے کے خلاف الزامات کی چٹخے دار خبریں فراہم کی جارہی ہیں۔

مزیدخبریں