Daily Mashriq


ہمیں دیمک نے چاٹا ہے شجر کاری کے موسم میں

ہمیں دیمک نے چاٹا ہے شجر کاری کے موسم میں

روزنامہ مشرق کی سپر لیڈ سرخی ہے کہ پشاور میں گیس کی قلت گھریلو صارفین پریشان ، متعدد سی این جی سٹیشن بند ، ذیلی دوسر خیوں میں شہر کے ان علاقوں کے ناموں کی تفصیل ہے جن علاقوں میں گیس ندارد ہے ۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ وہ علا قے ہیں جو اندرون شہر کے علاوہ قدیم فصیل شہر کے ساتھ ساتھ آباد ہیں گو یا خبر پر سرخی جمانے والے ایڈیٹر نے کوزے کو دریا میں خوبصورتی اور کامیابی کے ساتھ بند کر کے شہر آشو ب لکھنے کی کوشش کی ہے ، اور اس حوالے سے شہریوں کو جن مسائل سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے وہ یہ ہیں کہ صبح اور شام کے اوقات میں تین سے پانچ گھنٹے گیس نہیں ہوتی ، لوگ ناشتہ کئے بغیر روزگار پر جانے اور کھانے پینے کی اشیاء ہوٹلوں سے منگوانے پر مجبور ہیں۔مستزاد وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے ورسک روڈ پر صفائی مہم کے آغاز کے موقع پر منعقد ہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا خوب فرما یا ہے کہ پشاور پھولوں کا شہر نہیں ، 80فیصد شہری آلودہ پانی پیتے ہیں۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ جنگلا ت کھاپی کر ہضم کرنے والے قوم کے مجرم ہیں ، درختوں کی بے دریغ کٹائی کا نقصان سیلابوں کی صورت میں اٹھایا ۔ موصوف کے اس بیان پر وہ شخص یاد آیا جس کا ایک قرض خواہ گھر پر آیا تو اس نے چھوٹے بیٹے کویہ کہلو ا کر کہ ابو گھر پر نہیں ہیں ، باہرہی سے اسے رخصت کروادیا ۔ ہم ایسے قلم گھسیٹے ایک عرصے سے صوبائی حکومت ( موجودہ اور سابق تمام ) کی توجہ ان مسائل کی جانب ایک عرصے سے دلاتے آرہے ہیں مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ، بلکہ ان مسائل کے حوالے سے ہر متعلقہ حکمران '' میں گھر پر نہیں ہوں ' ' کا ورد کرتے دکھائی دیئے ۔ یہ نہیں کہ یہ حکمران ہمارے قرض دہندہ ہیں مگر یہ ہمارے یعنی عوام کے جائز حقوق کے قر ضدار ہیں کہ انہیں عوام نے ووٹ دے کر اسی لئے اقتدارکے سنگھاسن پر براجمان کرانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے کہ یہ عوام کے جائز حقوق کی باز یافت کریں گے مگر حیرت ہے کہ جو شکایات عوام کو ہیں یہ بھی انہی شکایات کا اعادہ کر کے عوام کو انگشت بندندا ں کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔جس صورتحال کی جانب وزیر اعلیٰ نے توجہ دلائی ہے یعنی جنگلات کی کٹائی کے ناجائز اقدامات سے پیدا ہونے والے حالات جن میں نہ صرف قومی خزانے کو کھربوں کے نقصان سے دو چار کردیاگیا اور جس کے دیگر نتائج میں سیلابوں سے ہونے والے نقصانات ہیں جبکہ موسم کے شدائد میں اضافہ' بارش کم ہونے' ماحولیات کی بربادی بھی شامل ہے تو اس حوالے سے نہ صرف موجودہ بلکہ سابقہ ادوار میں آنکھیں بند کرنے کی پالیسیاں بھی شامل ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب بھٹو نے بطور صدر اس دور کے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقہ جات کا گیارہ روزہ دورہ کیا تھا تو گورنر ہائوس پشاور میں میری گنہگار آنکھوں اور کانوں نے یہ نظارہ بھی کیا اور سنا کہ مرحوم گورنر ارباب سکندر خان خلیل سے ضلع ہزارہ کے ایک ایم پی اے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بھٹو نے کہا۔ ارباب صاحب میں نے اس جنگل چور کے بارے میں تحریری طور پر آپ کو اسے گرفتار کرنے کا کہا مگر یہ ابھی تک آزاد گھوم رہا ہے۔ محولہ ''جنگل چور'' ایم پی اے کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا تھا اور وہ کھسیانی ہنسی ہنس کر بغلیں بجانے پر مجبور ہوا تھا مگر جب صرف تین ماہ بعد بلوچستان میں بھٹو کے غیر جمہوری طریقے سے این اے پی اور جے یو آئی کی صوبائی حکومت کو ہٹا کر وہاں بگٹی مرحوم کی سربراہی میں گورنر راج قائم کیا جس کے نتیجے میں احتجاج کے طور پر یہاں مفتی محمود حکومت اور ارباب سکندر نے بطور گورنر استعفے دے دئیے تو بھٹو نے اسی ''جنگل چور'' کو پیپلز پارٹی کی حکومت میں ایک اہم وزارت سونپ کر کلین چٹ دے دی۔ پھر نہ وہ جنگل چور تھا نہ کوئی اور مسئلہ۔ اور یہی وہ وتیرہ ہے جس کو اختیار کرکے ماضی میں بھی جنگلات کی دولت لوٹنے کی اجازت دی جاتی رہی۔ یہ سلسلہ اب بھی کسی نہ کسی طور جاری و ساری ہے تو پھر اس کا علاج کیا ہے۔ اس کاجواب اگر وزیر اعلیٰ خود ہی دے دیں تو شاید عوام کو کچھ ''افاقہ'' ہے۔ مگر وزیر اعلیٰ تو خود بے بسی کی تصویر نظر آرہے ہیں اور ''طاقتور چوروں'' کے خلاف فریاد کناں نظر آتے ہیں۔ بقول مصحفی

حسرت پہ اس مسافر بے کس کے روئیے

جو رہ گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے

یہ فریاد اٹھارہویں ترمیم کے بعد بے معنی سی لگتی ہے کہ صوبے کو گیس کی قلت کا سامنا ہے۔کیونکہ آئین کی رو سے (جس کا حوالہ میں کئی بار کالموں میں دے چکا ہوں) جس صوبے میں گیس کے ذخائر موجود ہوں ترجیحی بنیادوں پر اس صوبے کی ضروریات پہلے پوری کی جائیں گی اس کے بعد اضافی گیس کو دوسرے علاقوں کو مہیا کیا جائے گا جبکہ ہمارے صوبے کی گیس کی ضروریات صوبے میں پیدا ہونے والی گیس سے کہیں کم ہیں۔

لیکن بد قسمتی سے جس طرح بجلی کی تقسیم کے نظام کو وفاق نے اپنے قبضے میں رکھ کر ہمارے ہاں لوڈ شیڈنگ کا عذاب مسلط کر رکھا ہے اسی طرح گیس کی تقسیم بھی صوبے کے حوالے کرنے کی بجائے گر گری گیس فیلڈ اور کوہاٹ سے ملنے والی گیس کو پہلے میاں والی پہنچا یا جاتا ہے اور وہیں سے واپس صوبے کو اپنی ہی گیس کنڑولڈ صورت میں مہیا کر کے گیس کی قلت پیدا کی جا رہی ہے ،سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی ضرورت کی انتہائی کم مقدار کیوں نہیں دی جاتی اور سابق کے ساتھ ساتھ موجود ہ صوبائی حکومت اپنے حقوق کی باز یافت کیلئے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کے اقدامات سے کیوں گریزا ں رہی اور اب بھی یہی صورتحال ہے ؟ بقول عباس تابش

ہمارے کھلنے اور جھڑنے کے دن اک ساتھ آتے ہیں

ہمیں دیمک نے چاٹا ہے شجر کاری کے موسم میں

متعلقہ خبریں