دسمبر کا قرض

04 جنوری 2017

دسمبر مقروض ہی گزر گیا ہے اب کی بار ۔ایک بوند کا تحفہ بھی نہ دے پایا ۔خشک دسمبر بھی ہم نے اور آپ نے گزشتہ برس دیکھ ہی لیا۔جاڑے کا موسم اپنے تمام تلازموں کے ساتھ گزر رہا ہے لیکن بارش کا ایک مگر بھرپور تلازمہ مسنگ رہا ہے ۔سو دسمبرمیںنرگس کے پھولوں نے بھی نہیں کھلنا تھا سو نہ کھلے جو کھلے بھی ان میںخوشبو وافر کہاں تھی۔چند دنوں کی زندگی لیے یہ پھول اپنے اندر بے پناہ خوشبو لیے ہوتا ہے ۔خوشبو بھی ایسی کہ جس کا اثر سر چڑھ کربولے ۔مجھے تو سال بھر اس پھول کا انتظار رہتا ہے ۔ سال بعد اس کی آمد کتنی خوشگورا ہوتی ہے ۔شاید اس پھول کی کمیابی ہی میں اس کی شان مضمر ہو۔ نئے سال کی نئی جنوری کے تیسرے دن کی صبح نے دسمبر کا قرض چکانے کی اپنی سی کوشش کی تو جاگنے پر جی خوش ہو اکہ چلو آسمان اور زمین کا رشتہ کچھ تو واپس جڑا۔گملے میں انگڑائی لیتے ہوئے نرگس کے پھولوں کو بھی شاید بارش کی بوندیں بھاگئی تھیں ۔تادم تحریر بارش کچھ زیادہ تو نہیں ہوئی لیکن ہم تو کم پر ہی خوش ہونے والوں میں سے ہیں شروع ہوتو گئی اللہ آگے بھی بارشوں کا سلسلہ بحال رکھے گا ۔ گزشتہ روز پڑنے والی سردی سے کچھ کچھ تو اندازہ ہوچلا تھا کہ اگلا دن بارش کا ہے ،اوپر سے انٹرنیٹ پر بھی پیشگوئیاں درج ہوچکی تھیں ۔پچھلی رات تو بہت سردی تھی ۔گرم کمروں کو چھوڑ کر باہر جانے کا دل کس کا کرے ۔مگرکالم نگار صبیح احمد کے نوجوان برخوردار عارفین کا ولیمہ تھا۔ نقص امن کے خدشے کو کم کرنے کے لیے اس ولیمے پر حاضری بہرحال ضروری تھی سو چل پڑے ۔مقام شکرہے کہ گاڑیوں میں جاپانیوں نے ہیٹنگ کامناسب بندوبست کردیا ہے۔ شادی ہال تک پہنچنے میں آسانی ہوئی ۔لیکن گاڑی سے نکلتے ہی سردی نے بوڑھی ہڈیوں کوآن دبوچا ۔ناگمان کالج کے پروفیسرنیاز محمدپہلے سے موجود تھے گپ شپ ہوئی ۔باتیں بھی خوب کرلیتے ہیں پروفیسر صاحب ۔اچھے ایڈمنسٹریٹر اور اکیڈمیشن ہیں ۔چار برس میں ایک نئے کالج کو کامیابیوں سے ہمکنار کرنا اس کا ثبوت ہے ۔ناصر علی سید اور ہمسایہ کالم نگار مشتاق شباب کی آمد کے بعد گپ شپ میں مزید نکھا ر آگیا تھالیکن ناصر علی سید ابھی اپنی بذلہ سنجی کی پوری فارم نہیں آئے تھے کہ کھانے کی دعوت مل گئی ۔کھانا ٹھنڈا تھا مگر لذیذ تھا۔عارفین کی عمر بیس برس ہوگی اور صبیح احمد عام رواج سے ہٹ کر اس کی دلہن لے آئے ہیں ۔خود بھی توکل کے بندے ہیں اور بیٹے کو بھی توکل کی راہ پر ڈال دیا ہے اللہ ان کے نصیب اچھے فرمائے ۔ گھرآئے تو لحاف کو غنیمت جان کر اوڑھ لیا ۔ ڈاکٹر تاج الدین تاجور کی ایک کتاب جو کہیں روپوش ہوگئی تھی کل تلاش کرنے پر واپس مل گئی ۔یو ں توڈاکٹر صاحب غیر ارادی طور پر ہماری بہت سی کتابیں ہڑپ کرچکے ہیں لیکن اپنی دی ہوئی کتابیں انہیں ضرور یاد رہتی ہیں ۔ ہم انہیں کہتے ہیں کہ جیسے ہم نے اپنی مرحومہ کتابوں پر صبر شکر کرلیا ہے آپ بھی کرلیں مگر وہ امید کا ساتھ نہیں چھوڑتے اور بھری محفل میں ہمیں کتاب واپس نہ لانے کے نتائج بڑے پیار سے بیان فرمادیتے ہیں ، ان''ممکنہ '' نتائج پر سوچنے پر تصور میں جو تصویریں ابھرتی ہیں وہ ناقابل بیان ہیں ۔اب کتاب چونکہ دریافت ہوچکی ہے تو اسے پڑھ کر واپس کرنے کا ارادہ کیا ۔مگر وہ کتاب ایسی نستعلیق زبان میں لکھی گئی ہے کہ ایک ایک لائن پر پڑاؤ کرنا پڑتا ہے سو چندصفحوں سے آگے ناجاسکے ۔نستعلیق زبان کا اپنا ایک چٹخارہ ہوتا ہے کہ جس سے کہانی کی جزیات میں جیسی ایک روشنی سی شامل ہوجاتی ہے ۔اور جس زمانے کا اس ناول میں بیان ہے اس کے لیے ایسی ہی سجی ہوئی زبان درکار ہے ۔شمس الرحمان فاروقی کا یہ ناول ''کئی چاند تھے سر آسماں ''خاصے کی چیز ہے سو سردیوں کے موسم میں لحاف میں دبک کر اس کو پڑھنا بالکل ڈرائی فروٹ کھانے کے مترادف ہے ۔یہ ضخیم ناول دہلی کی لٹی پٹی تہذیب کا نوحہ ہے ۔یہ ناو ل کیسے کیسے گم نام اور نامور لوگوں کی زندگی کی بازیافت ہے ۔کتنے بڑے بڑے ناموں کے مکروہ چہرے اس کتاب میں بیان کردیے گئے ہیں ۔ زبان ایسی کہ خود اپنی تحریروں پر شرم سی آنے لگے ۔ ناول ادب کہ وہ ارفع صنف ہے کہ جس میں انسانی نفسیات کی اجتماعیت سامنے آتی ہے ۔ ناول میں وقت کا کرب سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے ۔ ناول میں فلسفہ حیات کو کہانی کی شکل میں پڑھ کر زندگی کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے ۔ناول دنیا بھر میں قوموں کا مرغوب مطالعہ ہوتا ہے ۔افسوس کہ ہمارے ہاں ناول کی وہ قدر افزائی نہیں رہی کہ جس کا حقدار ناول ہے ۔اردو زبان میں ایسے ایسے ناول موجود ہیں کہ جن کا مطالعہ قاری کی تہذیبی تربیت میں بڑا کردار ادا کرتا ہے ۔ ہم جیسے لوگو ں کو کہ جن کی زندگیوںمیں سکون کی مقدار کم ہے ان کے لیے تو ناول جیسی صنف میں بہت کچھ رکھا ہے ۔ناول ایک ایسا سپلیمنٹ ہے کہ جو روحانی طاقت فراہم کرتا ہے ۔جسمانی طاقت کے بعض سپلیمنٹ بدذائقہ ہوتے ہیں کہ جنہیں کھانے میں دقت ہوتی ہے، منہ کڑوا ہوجاتا ہے لیکن بعض سپلیمنٹ لذیذ اورذائقہ دار ہوتے ہیں جوحد مقدار سے زیادہ بھی کھالیے جاتے ہیں ۔ ناول میں بھی ذائقہ اور مزا موجود ہے ۔ کہانی کسے مرغوب نہیں ؟ کہانی بھی پڑھ لیجئے اور کچھ سیکھ بھی لیجئے ،ساتھ ہی روحانی وقلبی سکون بھی مل جائے تو اس سے اور اچھی چیز کیا ہوسکتی ہے ۔ہمسایہ کالم نگار پروفیسر تنویر جو بہت زیادہ مطالعے کے قائل ہیں ۔ہمیں ان پر رشک آتا ہے ۔سو ہم بھی انہی کی تقلید میں مطالعے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان تک کہاں پہنچ پاتے ہیں ۔اسی لیے ان جیسے شاندار کالم لکھنے کی حسرت دل ہی میں رہتی ہے ۔

مزیدخبریں