Daily Mashriq

مضافاتی علاقوں کے مسائل زیادہ سنگین نوعیت کے ہیں

مضافاتی علاقوں کے مسائل زیادہ سنگین نوعیت کے ہیں

مشرق ٹی وی فورم کے ذریعے عوامی مسائل کی طرف متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرانے کی ذمہ داری کی ادائیگی کے اگلے پروگرام میں اہم حکومتی اور سیاسی عہدیداروں کے علاقہ بڈھ بیرسے جس قسم کے مسائل سامنے آئے ہیں وہ قبل ازیں سامنے آنے والے شہری مسائل جیسے ضرور ہیں لیکن اب تک شہری علاقوں کے مکینوں کی جانب سے ان سہولیات کے ناکافی اور ناقص ہونے کی شکایات تھیں لیکن بڈھ بیر میں صورتحال ناگفتہ بہ ہے جہاں یہ سہولتیں ناقص اور ناکافی ہی نہیں نا پید اور برائے نام ہیں۔ بڈھ بیر کی یونین کونسل ماشوگگر کے مکینوں نے مشرق ٹی وی کے خصوصی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بجلی تعطل کا دورانیہ گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں کا ہوتا ہے۔ دوسری جانب چھ سال سے سوئی گیس کے کنکشن حاصل کرنے کے باوجود گیس کی فراہمی شروع نہیں ہوئی۔ دہشتگردی سے متاثرہ اس علاقے کے کئی تباہ شدہ سکول اب ملبے کا ڈھیر ہیں جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والے خاندان کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں کی اوچ نہر کا دیرینہ مسئلہ حکومت کے وعدوں اور اعلانات کے باوجود حل نہیں ہوا۔ایک جانب نہر خشک ہوگئی ہے تو دوسری جانب پینے کا صاف پانی بھی مکینوں کو میسر نہیں۔ یہاں کے ٹیوب ویل کا پانی پینے کے قابل نہیںبلکہ مضر صحت ہے۔40 سالہ پائپ لائن بوسیدہ ہوگئی ہے جس کیوجہ سے بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔اس علاقے کے مکینوں کی یہ شکایت خاص طور پر توجہ کے قابل ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں پبلک ہیلتھ کا وزیر اسی علاقے سے تھا مگر یہاں کے عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ ماشوگگر کی سبزیاں پورے علاقے میں مشہور ہیں یہاں کی خصوصی پیداوار ’’مٹر‘‘ تھی اسی طرح یہاں گنا خربوزے اور سبزیاں بھی کاشت کی جاتی ہیں مگر اوچ نہر میں پانی کی بندش سے یہاں کی فصلیں تباہ ہورہی ہیں یہاں کے 80 فیصد مکین کاشت کاری کرتے ہیں مگر اب ان کاروزگار دائو پر لگ گیا ہے۔یہاں قائم ہسپتال سہولیات سے محروم ہے جو مقامی لوگوں کے علاج معالجہ کی ضروریات پوری نہیں کررہا اور لوگ اپنے مریض پشاور کے بڑے ہسپتالوںمیں پہنچانے پر مجبور ہیں۔ بڈھ بیر کی یونین کونسل ماشوگگر میں محکمہ سوئی گیس کا رویہ حیران کن ہے۔لوگ چھ سال قبل سوئی گیس کے کنکشن حاصل کر کے گیس کے منتظر ہیں گیس میٹر بھی لگ چکے ہیں مگر عوام کو گیس فراہم نہیں کیا جارہا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ چھ سال سے صارفین کے نام گیس کے بل بھی بھجوائے جارہے ہیں اور اس کی ادائیگی بھی باقاعدگی کیساتھ کی جارہی ہے مگر عوام گیس کی سہولت سے محروم ہیں۔علاقے کے عوامی مسائل ان کی زبانی جان کر یہ رائے قائم کرنا غلط نہ ہوگا کہ یہاں کے عوام کو جان بوجھ کر پسماندگی کی طرف دھکیلا گیا ہے۔ علاقے کے لوگوں کا یہ شکوہ بجا ہے کہ ان کے علاقے سے گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان سے لیکر مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف حکومتوں میں اعلیٰ عہدوں پر رہے ہیں۔ اب بھی علاقے کی خاطر جواہ نمائندگی صوبے اوروفاق دونوں میں موجود ہے لیکن عوامی نمائندوںکی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو خوا وہ اس دور کے ہوں یا گزشتہ ادوار کے اگر ہر نمائندہ محولہ مسائل کے حل کی طرف بساط بھر توجہ کر کے ان کا حل نکالنے کیلئے سنجیدگی سے کام کرتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ بہرحال اس وقت بھی گورنر شاہ فرمان اور دیگر عوامی نمائندوں کی صورت میں علاقے کے عوام کی حکومتی اور عوامی سطح پر مئوثر نمائندگی موجود ہے تو بجائے اس کے کہ ماضی میںکیا ہوا حال میں کیا ممکن ہے اور عوامی مسائل کس طرح سے جلد سے جلد حل کئے جا سکتے ہیں اس پر پوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی اورلوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے بعد ہی بلوں کی وصولی حق بنتا ہے ۔ امن وامان کی خراب صورتحال کے دنوں سے اس ضمن میں جو مسائل چلے آرہے ہیں اس کا بہترحل یہی نظر آتا ہے کہ متعلقہ حکام عوامی نمائندوں اور عمائدین علاقہ کے ساتھ مل کر اس کا کوئی درمیانی حل نکالیں اس کے بعد بجلی وگیس کی فراہمی اور بلوں کی وصولی کا دوطرفہ نظام رائج کیا جائے جس میں کوئی فریق کوتاہی نہ کرے۔ گیس میٹر ز لگنے کے بعد گیس کی فراہمی ایس این جی پی ایل کی اولین ذمہ داری اور اہالیان علاقہ کا بنیادی حق ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کام وقتی طور پر سیاسی بنیادوں پر انجام دیا گیا ہوگا ضروری ہوم ورک اور تیاری کے بغیر نمائشی اقدامات سے اس قسم کے مسائل کا پیدا ہونا فطری امر ہے لیکن بہرحال گیس کنکشن اور میٹر لگنے کے بعد یہ متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مکینوں کو گیس فراہم کریں۔جس قسم کے مسائل بڈھ بیر کے فورم میں سامنے آئے ہیں مضافاتی علاقوں کے کم وبیش یہی مسائل ہیں جس کو حکومت اور متعلقہ اداروں کو سنجیدگی سے حل کرنے کیلئے اقدامات کرنا چاہیئے۔

متعلقہ خبریں