Daily Mashriq

قبائلی اضلاع کی انتظامیہ کے دفاتر وہیں منتقل کئے جائیں

قبائلی اضلاع کی انتظامیہ کے دفاتر وہیں منتقل کئے جائیں

نئے اضلاع بنانے کے طریقہ کار میں تبدیلی اور سیاسی بنیادوں پر نئے اضلاع بنانے سے احتراز سے متعلق خیبر پختونخوا کا بینہ کے اجلاس کا فیصلہ اپنی جگہ اہمیت کا حامل ضرور ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے حال ہی میں اپر چترال کو ضلع بنانے کے اپنے وعدے کی تکمیل ہے جبکہ قبائلی اضلاع کا قیام بہرحال قانونی وآئینی ضرورت ہے ۔ نئے ضلع کے قیام پرچار ارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہونے سے صوبے میں صرف ایک ضلع بنانے پر صوبائی خزانے پر چار ارب روپے کا بار پڑتاہے اس صورتحال کے تناظر میں صوبائی حکومت کو قبائلی اضلاع کیلئے پہلے سے موجود بنیادی اساس کو بہتر بنانے اور اضلاع کی ضروریات پوری کرنے کیلئے وفاقی حکومت سے فنڈز کیلئے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت اس کیلئے وسائل فراہم کر ے یا پھر وعدے کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کا تین فیصد حصہ ان اضلاع کے حصے کے طور پر فوری فراہم کیا جائے۔ کابینہ کا اگلا اجلاس ضلع خیبر میں منعقد کرنا اور وزراء کے قبائلی اضلاع کے دورے احسن اقدامات میں شمار ہوں گے۔ قبل ازیں اگر اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ قبائلی اضلاع کے حاکموں اور محکموں کے دفاتر ان علاقوں میں فوری طورپرمنتقل کئے جائیں تاکہ متعلقہ حکام اور محکموں کے اہلکار ان اضلاع کے عوام کے مسائل وہاں بیٹھ کر حل کریں اور عوام کو فاصلوں کے باعث اضافی مشکلات سے نجات ملے۔

شہر کے تاریخی دروازے پر لگے بینر کون اتارے گا؟

سٹی پیج پر گزشتہ روز کی اشاعت میں موزوں جامع کیپشن کے ساتھ شائع شدہ پشاور کے تاریخی دروازوں کی تصویریں ملاحظہ ہوگئی ہوں گی۔تصویروں میں ایک خاص جماعت کے بینرپر درج نعروں کو اشاعت میں مخفی کرنا ادارتی پالیسی تھی لیکن دن کے مختلف اوقات میں جو ہزاروں افراد یہاں سے گزرتے ہیں ان کو اس امر کا بخوبی علم ہے کہ ان تاریخی دروازوں کا چہرہ کس طرح چھپا کر مسخ کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شہر بھر میں وال چاکنگ کے خلاف مہم کے دوران بھی ضلعی انتظامیہ اور شہری حکام کو ان دروازوں کو بینرز اور فلیکس سے پاک کرنے کا خیال نہیں آیا۔ پشاور کے یہ دروازے اس شہر کی میراث اور شناخت ہیں جن کی بحالی کا مقصد شہر کی قدیم شناخت کو اجا گر کرنا تھا۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ محکمہ بلدیات اور متعلقہ ناظمین اور بلدیاتی نمائندوں کو اس غلطی کا احساس ہوگا اور ان بینروں کو اتار کر پوسٹرز ہٹا کر ان دروازوں کی دیواریں صاف کر کے شہر کی تاریخی شناخت کو واضح کیا جائے گا اور آئندہ اس قسم کی حرکت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی ہوگی اور ان تاریخی دروازوں کی صفائی اور تحفظ کا مناسب انتظام یقینی بنایا جائے گا۔پشاور کے شہریوں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نہ صرف ان تاریخی دروازوں کو صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری نبھائیں بلکہ ان دروازوں کو اشتہار بازی کا ذریعہ بنانے والی جماعتوں اور افراد کی مذمت بھی کریں ساتھ ہی اُن کو شہری حکام کی غفلت پر احتجاج بھی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان تاریخی دروازوں کی حفاظت اور صفائی میں اپنا کردار ادا کیا جاسکے۔

اقلیتی برادری کیلئے قابل اطمینان اقدام

محکمہ آثارقدیمہ، کھیل اور سیاحت و ثقافت کی جانب سے پشاور میں واقع ہندو مقدس مقام پنج تیرتھ کو قومی ورثہ قرار دے کر اس کے تحفظ کیلئے اقدامات دیر آید درست آید کے مصداق ہے ۔محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق انٹیکویٹی ایکٹ کے تحت اب پنج تیرتھ کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی اورواضح رہے کہ پنج تیرتھ میں ہندوئوں کے 5مقدس تالاب ہوا کرتے تھے اسی طرح دو مندر آج بھی موجود ہیں ۔اس مقام کو 1747میںدرانی دور کے دوران کافی نقصان پہنچا گیا تاہم پشاور میں سکھ حکمرانی کے دوران 1834میں مقامی ہندوئوں نے اسے دوبارہ سے آباد کر کے یہاں اپنی عبادات شروع کر دی تھیں۔یہاں کے دو مندروں میں بڑے والا مندر تین رویہ ہے اور وہ بہتر حالت میں آج بھی موجود ہے جبکہ چھوٹے والا مندر چار رویہ ہے تاہم اسکی حالت مخدوش ہو چکی ہے۔اقلیتوں کے قابل احترام مقامات کا تحفظ ان کا حق اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے ان تاریخی مقامات کے تحفظ اور ان کی تاریخی اہمیت سے متعلق معلومات کی فراہمی سے متعلقہ مذہب کے پیروکاروں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کا بڑی تعدادمیں ان مقامات کو دیکھنے میں دلچسپی ظاہر کرنا فطری امر ہوگا جس کے دوہرے فوائد حاصل ہوں گے۔اس سے ہندوبرادری خاص طور پر اور دیگر اقلیتی برادری کو بالعموم اطمینان ہوگا اس ضمن میں ماضی میں جو کوتاہیاں سرزد ہوئی تھیں ان کا اعادہ نہ کیا جائے بلکہ کوشش کی جائے کہ ان کا ازالہ بھی ہو سکے۔

متعلقہ خبریں