Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی میں یونیورسٹی انتظامیہ کا پولیس کیساتھ ملکر آئس کی لعنت کیخلاف شعور وآگہی اور اس لعنت سے بچاؤ کی ترغیبی مہم شروع کرنا بروقت اقدام کے زمرے میں ضرور آتا ہے لیکن حیرت ہوتی ہے کہ خیبر پختونخوا کے اس معاشرے کی بیٹیاں اس لعنت کا استعمال تو کجا اس طرف مائل بھی ہوسکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لعنت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زنانہ ومردانہ کی تمیز کے بغیر سرایت کر چکی ہے۔ ماں باپ کا دل دہلنا اور کپکپی طاری ہونا فطری امر ہے لیکن کیا کیا جائے اپنی بچیوں کو زمانے کے خوف سے تعلیم سے محروم کر کے گھروں میں بھی تو نہیں رکھ سکتے۔ بیٹیاں تو بعض اوقات گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہوتیں۔ حوا کی بیٹی کے تحفظ کیلئے جتنے بھی اقدامات اور کوششیں کی جائیں کہیں نہ کہیں سے کبھی نہ کبھی اس طرح کی خبر آتی ہے کہ دل دہل کر رہ جاتا ہے۔ آج کا معاشرہ باشعور اور مہذب ہے لیکن حالات دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر وہ وقت لوٹ آئے جب پڑوس کی بیٹی بھی اپنی بیٹی سے مختلف نہ ہوا کرتی تھی۔ حوا زادی دیکھنے کو تو اونچے اونچے عہدوں پر بھی بیٹھتی ہے، حاکم بھی بنتی ہے، گڑاگا جہاز بھی اڑاتی ہے، فوجی افسر بھی بنتی ہے، سول سروس میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کرتی ہے لیکن ہوتی غیر محفوظ ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایسے ہی بدنام ہے حوا زادی تو یورپ میں بھی محفوظ نہیں۔ کیا کیا جائے اس کا حل کیا ہو؟ سنا تھا دنیا میں ایک جزیرہ صرف عورتوں کیلئے مخصوص ہے وہاں مرد کا داخلہ ہی ممنوع ہے۔ کیا ساری بیٹیوں کو وہاں بھیج دیا جائے۔ یہ بھی ممکن نہیں کلیجہ منہ کو آتا ہے جب کسی نشے کی عادی عورت کو سڑک پر دیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ اس کی نسوانیت اور نزاکت نشے کی لت نے چھینی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں بھی اس کے تحفظ کی ضمانت نہیں کہ نشہ کرنے والا مرد ہو یا عورت بہت افسوسناک صورتحال سے گزرتا ہے لیکن ایک عورت کی مشکلات کہیں زیادہ ہوں گی۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمارے گھر کی گھریلو بیٹیاں اس لعنت کا شکار نہیں ہوتیں اس لعنت کا شکار ہماری وہ بیٹیاں ہوتی ہیں جن پر ان کے ماں باپ نے اعتماد کر کے آزادی دی ہوتی ہے۔ ان کو تعلیم کیلئے بھیجا ہوتا ہے، وہ جامعات اور کالجوں میں تعلیم اور شعور کی بجائے نشے کی لت میں پڑ جاتی ہیں۔ ان کے ماں باپ پر کیا گزرتی ہوگی جب ان کو اپنی نورچشم کے اس قسم کے لت میں مبتلا ہونے کا علم ہوتا ہوگا۔ بیٹیوں کی تربیت پر خاص توجہ دی جاتی ہے ان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ بیٹی ہے اور بیٹیوں کی حدود کیا ہیں لیکن بعض جگہ یہ تربیت بھی کام نہیں آتی شاید اس کی ایک وجہ اچانک ملنے والی آزادی سے مطابقت پیدا نہ کرنا ہے۔ کڑی نظروں کے سامنے پلنے والی بیٹیاں کھلے معاشرے کا سامنا کرنے میں غلطی کرتی ہیں، اسلئے بیٹیوں پر نظر رکھنے کے باوجود ان کوکڑی نگرانی کا احساس نہ ہونے دیا جائے اور ان کی تربیت میں خوداعتمادی کوٹ کوٹ کر شامل کی جائے تاکہ وہ معاشرے کا سامنا کرسکیں۔

متعلقہ خبریں