Daily Mashriq

حکمران قیادت کے رویے میں تبدیلی آنی چاہیئے

حکمران قیادت کے رویے میں تبدیلی آنی چاہیئے

اس امر پر دو آراء نہیں کہ سیاسی استحکام سے ہی تعمیر و ترقی کے اہداف کا حصول ممکن ہے۔ جمہوری نظام کے چلتے رہنے اور ملک کو آگے لے جانے پر بھی دو آراء ہر گز نہیں مگر جس بنیادی سوال کو نظر انداز کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا جمہوریت‘ نظام حکومت اور تعمیر و ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے جن امور پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے وہ حکومت کے پیش نظر ہیں بھی یا نہیں۔عامتہ الناس کے ایک بڑے حصے کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آئی تو تعمیر و ترقی اور ملکی استحکام کو اپنی ترجیحات کے طور پر پیش کرکے تھی مگر اب ایسا لگ رہا ہے کہ اس کی سب سے بڑی ترجیح سیاسی مخالفین کو حرف غلط کی طرح مٹا دینا ہے۔ اس تاثر کی تائید حکومتی ذمہ داران کے علاوہ خود مختلف شعبہ ہائے زندگی میں متحرک پی ٹی آئی کے کارکنوں کے خیالات سے بھی ہوتی ہے۔ حکومتی رہنما اور پی ٹی آئی کے فعال کارکنان ماضی کی حکومتوں اور مخالف سیاسی رہنمائوں بارے کھلے دبے لفظوں میں جو کہہ رہے ہیں اس سے ایک نئی تقسیم کی بنیاد پڑ رہی ہے۔ جمہوری نظام کے آگے بڑھتے رہنے اور استحکام کے لئے جس سیاسی مروت اور سماجی وحدت کی ضرورت ہوتی ہے انہیں یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اگر یہ کہا جائے کہ حکمران جماعت کے ذمہ داران اور ہم خیالوں کا رویہ سیاسی کارکنوں سے زیادہ فاتح لشکر کا سا ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ اندریں حالات یہ عرض کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ حکمران قیادت اگر ملک میں سیاسی استحکام اور تعمیر و ترقی کے اہداف کے حصول میں سنجیدہ ہے تو اسے فاتح لشکر کا جارحانہ رویہ ترک کرکے سیاسی فہم کے مطابق معاملات طے کرنا ہوں گے۔ ثانیاً اس سیاسی مفاہمت کی ضرورت کو بھی سمجھنا ہوگا جو جمہوریت کے استحکام کے لئے ضروری ہے۔سیاسی مفاہمت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ قانون کی بالا دستی اور یکساں احتساب کے عمل کی ضرورتوں کو نظر انداز کردیا جائے۔ ماضی میں اگر کسی سیاسی رہنما یا دیگر کسی ریاستی ادارے کے اعلیٰ و ادنیٰ نے لوٹ مار کی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے۔ یہ تاثر نہیں ابھرنا چاہئے کہ احتساب کے نام پر انتقامی کارروائی ہو رہی ہے۔ پاکستان کی اکہتر سالہ تاریخ میں ریاستی اداروں کی سیاسی عمل میں مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مناسب یہ ہوگا کہ ہر ادارہ اپنے حصے کے فرائض بجا لائے اور سیاسی حکومت بھی اپنی کارکردگی پر توجہ دے تاکہ سنگین ہوتے مسائل کے حل کی کوئی صورت بن سکے۔ یہ امر بجا ہے کہ غربت اور دوسرے مسائل کا انبار ہے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے دو وقت کی روٹی کا حصول ہی ہمالیہ کی چوٹی سر کرنے جیسا چیلنج بنا ہوا ہو تو اس سے مسائل بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے۔ اس طرح بلوچستان اور پی ٹی ایم کے معاملات میں اداروں کو نہیں سیاسی حکومت کو بات کرنا ہوگی۔ انسداد دہشت گردی کی جنگ میں اداروں کی قربانیاں بجا مگر عوام نے بھی کم قربانی نہیں دی۔ پاکستان آگے اسی طور بڑھ سکتا ہے جب مستحکم جمہوری نظام کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ پائیں۔ غربت ‘ بیروزگاری‘ نا انصافی اور طبقاتی استحصال کا خاتمہ ہو‘ ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد سازی کی ضرورتوں کو کھلے دل سے تسلیم کیا جائے اور یہ تاثر فی الفور ختم ہو کہ فلاں معاملہ سیاسی حکومت کے لئے نو گو ایریا ہے۔ ان امور سے اہم ترین کام یہ ہے کہ حکمران جماعت اپنے طرز عمل اور معاملات کو بہتر بنائے تاکہ یہ تاثر دور ہو کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ کوئی فاتح لشکر ہے اور مفتوحین کے ساتھ جو جی چاہے کرے اس کا اسے حق ہے۔مجھے یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ محض ایک بیان سے یہ تاثر دور نہیں ہوگا کہ کسی ریاستی ادارے کا سیاسی حکومتوں کی تبدیلی یا انتخابی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ مداخلت‘ دلچسپیوں اور خواہشات کی طویل تاریخ ہے۔ یہ تاریخ کیسے بنی اس پر لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کسی تاخیر کے بغیر یہ تاثر دور کرنا ہوگا کہ پاکستان ایک سیکورٹی اسٹیٹ ہے۔ پچھلے اکہتر سالوں کے دوران یہی تاثر پھلا پھولا۔ اس کی وجوہات کیا تھیں یہ کسی سے بھی مخفی نہیں۔ مسئلہ آج بھی بلوچستان کے معاملے سول حکومت اور اداروں کا کوئی کردار نہیں۔ پچھلے دس بارہ برسوں کے دوران مسنگ پرسن اور مسخ شدہ نعشوں کے حوالے سے اٹھتے سوالات کا سول حکومتوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے۔ ریاستی اداروں کے ذمہ داران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ یہاں کوئی ان کا مخالف ہے اور نا کوئی ملک توڑنا چاہتا ہے۔

مسائل و معاملات کے حوالے سے سیاسی حکومتوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ نظام حکومت پر بالا دستی پارلیمان کو حاصل ہے اور پارلیمان دستور کے تابع ہے۔ بد قسمتی سے اس ملک میں دستور اور پارلیمان ہی ہمیشہ غیر اہم سمجھے گئے۔ جس سے یہ تاثر پھیلا بڑھا کہ کوئی طاقت سارے معاملات اپنی مرضی سے کرنے کی خواہش مند ہے اور اس سے اختلاف کرنے والے ایوان اقتدار سے نکال باہر پھینکے جاتے ہیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ اگر آج تمام ادارے دستور میں دئیے گئے کردار کی ادائیگی کے لئے سنجیدہ ہو جائیں‘ پارلیمان اپنے فرائض پر توجہ دے‘ عدلیہ اپنا کام کرے‘ فوج اور د وسرے ادارے اپنا اپنا کام تو سیاسی استحکام بھی ہوگا‘ جمہوری نظام بھی چلے گا اور سیاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد سازی بھی ہوگی۔ مکرر عرض ہے کہ سیاسی استحکام اور مسائل کے حل کے لئے بہت ضروری ہے اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہ کیا جائے اور داخلہ و خارجہ پالیسیوں پر تحفظات کو ملک دشمنی قرار نہ دیا جائے۔ حکومت اور ادارے انتہا پسندی کے بڑھاوے کا ذمہ دار افراد اور تنظیموں سے فاصلہ رکھیں اور ان سے تاویلات پیش کرنے کی بجائے قانون کو اپنا راستہ بنانے دیں۔

متعلقہ خبریں