Daily Mashriq


چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا

چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا

لڑنا جھگڑنا انسان کی فطرت میں شامل ہے، ایسا کرنا اگرچہ اچھی بات نہیں، لیکن جینے کیلئے جیتنا بھی ضروری ہوتا ہے سو ایسا کرنا پڑتا ہے اور لڑنے جھگڑنے یا جنگ وجدل کا مقصد اپنے حقوق کو حاصل کرنا، دوسرے کے حقوق پر قبضہ جمانا، اپنے مدمقابل کو نیچا دکھانا یا اس سے سبقت لے جانے کے علاوہ ذہنی فتور بھی ہوتا ہے۔ لڑائی جھگڑا یا جنگ وجدل کا عمل بہت برا ہوتا تو شاعر مشرق کبھی نہ کہتا کہ۔

اُٹھا پردہ ساقیا اس راز سے

لڑا دے ممولے کو شہباز سے

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو تخلیق کیا تو فرشتوں نے نکتۂ اعتراض پیش کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ آدم خاکی دنیا میں جاکر لڑائی جھگڑا کرے گا شر اور فساد پھیلائے گا جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں اپنے کاموں پر اچھا سمجھتا ہوں گویا یہ لڑائی جھگڑا، جنگ وجدل اور فساد بھی امر الٰہی سے برپا ہوتا ہے۔ اک زمانہ تھا جب دو مخالف قوتیں برسر پیکار ہوتیں یا میدان کارزار میں اُترتیں تو ان کے ہاتھوں میں نیزے، برچھے، گرز، تلواریں، ڈھال اور خنجر ہوتے۔ نقارہ جنگ بجتا، رجز پڑھے جاتے، ایک دوسرے کو للکار کر ان پر حملہ کیا جاتا یا رات کی تاریکی میں شب خون مارا جاتا۔ لڑائی کے میدان میں گھوڑے اور ہاتھی بھی اپنے شہسواروں کیساتھ میدان جنگ میں اُترتے اور پہیہ نامی بہت بڑی ایجاد کے متعارف ہونے کے بعد برق رفتار گھوڑوں کے پیچھے ہلکے پھلکے رتھ بھی باندھ کر انہیں میدان جنگ میں دوڑا کر دشمن کو ضرب کاری کا شکار کیا جاتا۔ قلعہ بند دشمن پر آتشیں گولے یا پتھروں کی برسات کرنے کیلئے منجنیق کا استعمال ہوتا۔ یہ سارا سامان حرب اس دور کا جدید ترین اسلحہ سمجھا جاتا تھا جب توپ وتفنگ اور گولہ بارود کا استعمال شروع نہیں ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ بارود کا پہلی بار استعمال ظہیرالدین بابر نے پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کے ہاتھیوں والے لشکر کیخلاف کیا تھا اور یوں اس نے برصغیر ہندو پاک میں اس مغلیہ سلطنت کی بنیاد ڈالی جس کے شہزادے بابر کی بہادری کو کیش کرتے رہے۔

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

اب ٹھہرتی ہے دیکھئے جانظر کہاکر ں

سامان حرب میں جدت کی تلاش پتھر کے زمانے ہی سے شروع ہوگئی تھی۔ ایسا کرنے کیلئے پتھر کے زمانے کے انسان نے نوکیلے پتھروں سے برچھے اور نیزے بنائے۔ موت کے خوف یا ناگہانی آفات وشدائد موسم سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کیلئے وہ کھلے میدانوں کی بجائے پہاڑوں کی غاروں میں زندگی کے شب وروز گزارنے میں عافیت سمجھتا تھا اور جب اس کے سر پر آپڑتی تو وہ دستیاب وسائل سے اپنا دفاع کرنے کے علاوہ دشمن کو زیر کرنے کی کوشش کرتا۔انسان وقت کی رفتار کیساتھ چلتے ہوئے سامان حرب میں نت نئی اختراعات کرتا رہا، برچھوں، نیزوں، تیر اور تلوار سے جنگ جیتنے اور دشمن کو زیر کرنے کا زمانہ گزرا تو آتشیں گولہ بارود نے عہد رفتہ کے سامان حرب کی جگہ لینی شروع کردی، انگریز لیکر آئے تھے سور اور گائے کی چربی والے کارتوس 1857ء کی جنگ آزادی میں، لیکن سور اور گائے کی چربی والے کارتوسوں نے وہ کارنامہ انجام نہیں دیا جو انگریز کی پھیلائی ہوئی اس افواہ نے کر دکھایا جس میں انہوں نے انگریزوں کیخلاف اُٹھنے والی بغاوت کی جنگوں میں یہ بات پھیلا دی تھی کہ خبردار اس کارتوس کو دانتوں میں چبا کر ہرگز استعمال نہ کرنا کہ اس میں سور کی چربی ہے، چنانچہ مسلمان حریت پسندوں نے اس کارتوس کو دانتوں میں چبانا تو کجا اسے ہاتھ تک لگانا پسند نہ کیا، اسی صورتحال کا سامنا فرنگیوں کیخلاف جنگ آزادی لڑنے والے اہل ہنود کو کرنا پڑا اور یوں انگریز کی پھیلائی ہوئی افواہ یا اس کی چال نے 1857ء کی جنگ آزادی کو 1857ء کے غدر کا نام دیدیا اور یوں

اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

کے مصداق برصغیر پاک وہند میں فرنگی راج پختہ سے پختہ تر ہونے لگا تاوقت یہ کہ دوسری جنگ عظیم نے فرنگی سامراج کی جڑیں کھوکھلی کرنی شروع کردیں، جنگی جنونیوں نے گولہ بارود، توپ ٹینک، کلاشنکوف، مشین گن، مارٹر گولے، تارپیڈو، آبدوزیں، جنگی جہاز، راکٹ اور جانے انسان اور انسانیت کو ختم کرنے کے کتنے آلات ایجاد کئے۔ بات بارود سے ہوتی ہوئی ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کے علاوہ کیمیائی ہتھیاروں تک جا پہنچی اور یوں کرۂ ارض کی بری، بحری اور فضائی حدود کو بھی جنگ وجدل یا ملکی وملی دفاع کیلئے استعمال کیا جانے لگا، جس طرح افواہ طرازی کے کارڈ کو 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران ایک خاموش مگر سنگین ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا اس طرح اس کی کارکردگی دوسری جنگ عظیم کے دوران بھی بے حد کارگر ثابت ہوئی، آج کل ہم جس حالت جنگ میں ہیں وہاں گولہ بارود اور اسلحہ سے بڑھ کر نوجوان نسل کو عریانی، فحاشی، عیاشی، بدکرداری، غنڈہ گردی اور منشیات کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے نت نئی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔ عہد جدید میں قوموں کیخلاف استعمال ہونے والا یہی وہ ہتھیار ہے جو آتشیں سامان حرب سے بھی تباہ کن ہے۔ کس سے کہیں، کون سنے گا

کس سے امید کریں کوئی علاج دل کی

چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا

متعلقہ خبریں