Daily Mashriq

صادق وامین کے ساتھ ؟

صادق وامین کے ساتھ ؟

بلا شبہ یہ با ت درست ہے کہ عمر ان خان کی ٹیم میں ناتجر بہ کا ری ٹھسی پڑ ی ہے جس کی وجہ سے عوام بھی ششدر ہیں کہ وہ یہ نہیں جا ن پارہے ہیںکہ حکومت کی پالیسی کیا ہے کیو ں کہ آئے دن حکومت کی پالیسیوں میں رد وبدل ہو تا رہتا ہے ، چنا نچہ وثو ق سے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی رائے متعین نہیں کی جا سکتی ۔ صرف ایک بات سمجھ میں آتی ہے کہ پی ٹی آئی اپنے حزب اختلا ف کے زما نے میںجس طر ح مسلم لیگ ن کے پیچھے پڑی تھی سو اب بھی اسی میں استحکام پایا جا تا ہے اب تو پی ٹی آئی کو اقتدار کی سیڑھیا ں چرھانے میں سہو لت کا ر بننے والی جما عت پی پی بھی اسی نشانے پر آگئی ہے چنا نچہ گزشتہ دنو ں سندھ میں پی پی کی حکومت کا اقتدار پلٹ جانے کے بارے میں خوب ڈونڈی پیٹی گئی مگر کیا ہو ا کہ چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے سند ھ میں گورنر راج کے قیا م کے بارے میں جب یہ ریمارکس آئے کہ عدالت دوسیکنڈ میں گورنر راج ختم کر دے گی ، اس کے بعد کیا ہوا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بچ گئی۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری جوان دنو ں سندھ کے دورے پر فارورڈ بلاک کی بات کر رہے تھے انہوں نے بھی اپنی پارٹی کے ورثے کے مطا بق یوٹرن لیا اور فرمایا کہ ان کے دورہ کا مقصد سند ھ کی حکومت کو گرانا نہیں تھا نہ فارورڈ بلاک بلکہ و زیراعلیٰ سندھ کو تبدیل کر دیا جائے وزیر اعلیٰ سندھ اسمبلی کے منتخب کردہ وزیراعلیٰ ہے اور ان کو اپنی اسمبلی کا مینڈیٹ حاصل ہے زیادہ سے زیادہ ان سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں۔ پاکستان کی سیاسی بد قسمتی یہی ہے کہ منتخب حکومتوں کو اسی طرح توڑا جاتا ہے یا ان کے خلاف اسی طرح کی سازشیں ہوتی رہی ہیں۔کیا خود پی ٹی آئی اس جیسے کھیل کو اپنے اندر قبول کر لے گی یہ بات ناممکن ہے۔پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ ان کو ایک بھاری مینڈیٹ نہیں ملا ہے ایک سادہ اکثریت کی بنیاد پر اس کی وفاق میں حکومت قائم ہے اور ایسی کوشش ان کے مخالفین کی طرف سے بھی کی جاسکتی ہے۔ تحریک کے لیڈروں کے گمان میں یہ ہے کہ ان کا قائد جس کی انگلی پکڑ کر سیاست اور اقتدار میں چل رہا ہے اس سے وہ محفوظ ہیں ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ پچھلے دنوں پھر مینگل کا نام بھی سامنے آتا رہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں سندھ حکومت گرانے کے جواب میں یہ کوشش کر رہی ہیں کہ اخترمینگل کی قیادت میں وفاقی حکومت قائم کر دی جائے ایک طرف وہ پیپلزپارٹی ہے دوسری طرف نواز شریف ہے۔ ان کے متحد ہوجانے سے حزب اختلاف میں اکثریت کا عنصر بڑھ سکتا ہے اور اس حد تک قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ تحریک انصاف کی حلیف جماعتیں بھی اب تحریک انصاف سے غیر مطمئن ہو چکی ہیں وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے ساتھ جو وعدے کیے گئے تھے وہ صحیح طور پر پورے نہیں کیے جا رہے ہیں اس میں خاص طور پر بی این پی کے بارے میں بھی یہ گمان ہے کہ وہ بہت زیادہ غیر مطمئن ہے جبکہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ نون کا اگر اتحاد ہو جاتا ہے اور ان کو مولانا فضل الرحمن کی حمایت بھی یقینی طور پر حاصل ہوجائے گی تو یہ اتحاد وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے بعض عناصر کا اشارہ ہے کہ ایسی ہلچل رازداری کے ساتھ چل رہی ہے کیونکہ تحریک انصاف کی ایک بڑی حلیف جماعت بی این پی کے اخترمینگل مطمئن نہیں ہیں ۔ حالات اس امر کی نشاندہی کررہے ہیں کہ اگر ان کو چھیڑا گیا تو وہ سندھ کارڈ استعمال کریں گے کیونکہ بلاول بھٹو نے اپنی تقاریر اور بیانات میں جا رحانہ انداز میں کہا کہ جس صوبے سے سب سے زیادہ قدرتی گیس نکلتی ہے اسی صوبے کے عوام کو اس سے محروم رکھا جا رہا ہے اس طرح کا بیان دینے کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ اگر ہم سے پنجہ آزمائی کی گئی تو سندھ کارڈ کا کھل کر استعمال ہوگا۔ خود پی ٹی آئی میں بے چینی کی کا فی لہر پائی جا تی ہے اب تو پی ٹی آئی کے رہنما کھلے عام بے اطمینا نی کا اظہا ر کر نے لگے ہیں ، پی ٹی آئی کے منتخب نمائند و ں اور خاص طورپر وہ رہنما جو حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں وہ پی ٹی آئی کے غیر منتخب لیڈروں کی حکومتی امو ر میں مداخلت سے سخت نا لا ں ہیں ، خاص طور پر جہا نگیر ترین کی مداخلت سے عاجز ہو چکے ہیں ، اب تو وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جس شخص کو عدالت عظمیٰ جیسے عظیم ادارے نے کر پٹ قرار دید یا ہو اور ساری زندگی کے لیے نا اہل قرار دے دیا ہو اس کا ایک امین وصادق لیڈر اور حکمر ان کے ہمہ وقت آگے پیچھے منڈلاتے رہنا کسی طور منا سب نہیں اور حکومتی امو ر میں اس کی مداخلت اخلا قیا ت کے بھی برعکس ہے ۔ایک جہا نگیر ترین کا معا ملہ نہیں ہے بلکہ غیر منتخب افراد پر مشتمل جو مشیر و ں کی بھرتی کر رکھی ہے ان کی مد اخلت سے بھی عاجز ہیں ۔ گڈگورننس کی یہ حالت ہے کہ پہلے ایک قد م اٹھا یا جا تا ہے پھر اس کی تردید کر دی جا تی ہے اور وہ اقدام واپس لے لیا جاتا ہے ، جس کی ایک مثال فرخ نسیم کی تقرری ہے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ کے ذریعے واضح کیا ہے کہ فرخ سلیم حکومت کے ترجمان نہیں، جبکہ 3 ماہ پہلے فواد چوہدری نے ہی ایک ٹویٹ میں فرخ سلیم کی تقرری کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ جلد نوٹی فیکیشن جاری کر دیا جائے گا۔اب ٹویٹ کیا ہے کہ فرخ سلیم حکومت کے ترجمان نہیں وہ کوئی بھی رائے دینے میں آزاد ہیں۔ وزیراطلاعات کی اس وضاحت سے پہلے فرخ سلیم کی جانب سے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی گئی تھی۔گزشتہ روز فرخ سلیم نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی کے باوجود برآمدات میں اضافہ نہیں ہوسکا، حکومت کی حکمت عملی کام نہیں کر رہی۔

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں