Daily Mashriq


سُخن ہائے گفتن

سُخن ہائے گفتن

اسلام میں بادشاہت اور ملوکیت کی مخالفت اس لئے ہے کہ بادشاہ اور ملوک اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگتے ہیں۔ اپنی ہر خواہش کی تکمیل اور اپنی ہر بات کو قانون بنانے کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ایسے میں عوام جی حضور! جان کی امان پاؤں تو۔۔۔ اور ہر وقت اس جستجو میں رہتے ہیں کہ بادشاہ سلامت کی خوشنودی کیسے حاصل کی جائے تاکہ کچھ فوائد حاصل کئے جائیں اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر سارا معاشرہ خوشامدی بن جاتا ہے اور خوشامد پر مبنی معاشرے میں خودی اور خودداری، صداقت اور بہادری جیسی صفات عنقا ہو جاتی ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ یہ حال ہو جاتا ہے کہ لاکھوں کروڑوں لوگوں میں ایک سچے آدمی کا ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔یزید کیخلاف حضرت حسین بن علیؓ کا خروج اس مقصد کیلئے تھا کہ اسلامی معاشرہ ملوکیت کے شکنجے سے محفوظ رہ سکے۔ اس لئے اپنے خاندان اور مخلص دوستوں اور ساتھیوں کو راہ حق میں قربان کر دیا۔ اگرچہ اس عظیم قربانی کے نتیجے میں ملوکیت سردست ختم تو نہ ہوئی لیکن اس کے اثرات اتنے ہمہ گیر اور دوررس رہے کہ امویوںکی مضبوط ملوکیت زوال پذیر ہوگئی۔ عباسیوں کی ملوکیت اس لئے طویل عرصہ تک چلی کہ اُنہوں نے امویوں کیخلاف جدوجہد کرکے جو ملوکیت حاصل کی تھی اُس کو خلافت کے لبادے میں چھپائے رکھا لیکن چونکہ عباسی بادشاہ بہرحال بادشاہ تھے اور آخرکار ملوکیت کی خرابیوں کے سبب ان کا معاشرہ اس حال پر پہنچا کہ آخری خلیفہ معتصم باللہ کے وزیر خزانہ علقمہ اپنے ہی آقا یعنی بادشاہ کیخلاف ہلاکو خان کے مخبر بنے اور پوشیدہ خزانوں کی کنجیاں اُن کے حوالے کرکے بڑا منصب حاصل کرنے کے متمنی ہوئے جس کے جواب میں اُن کو موت سے ہمکنار کیا گیا۔ ہلاکو خان نے تاریخی جملہ کہا کہ تم جب اپنے محسن بادشاہ کے جنہوں نے آپ کو اتنا بڑا منصب دیا تھا وفادار نہ رہے تو ہمارے ساتھ کیا وفاداری کرو گے اور سچ یہی ہے کہ غدار اور غداری کی سزا موت ہی ہونی چاہئے۔ بہرحال خلافت علی منہاج النبوۃ کیلئے حضرت حسین بن علیؓ کی قربانی آج تک دوبارہ خلافت تو بحال نہ کروا سکی لیکن یہ بہت بڑی بات ہے کہ اس قربانی اور اسلامی تعلیمات کے اثرات پوری دنیا پر ثبت ہو کر رہے۔ مغرب میں بھی اس کے گہرے اثرات بتدریج موجودہ جمہوریت کی صورت میں سامنے آئے۔ مغرب کی جمہوریت کوئی مذاق نہیں ہے۔ اس کا اگر عمیق مطالعہ ومشاہدہ کیا جائے تو اس میں اسلامی خلافت کی پرچھائیں نظر آتی ہیں۔ خلافت کے چیدہ چیدہ شعبوں میں بیت المال (سرکاری خزانہ) امانت ودیانت (Merit)، احتساب (Accountability) اور قانون کا نفاذ سب کیلئے یکساں (Across the board) شامل ہیں اور یہ ساری صفات آج کی مغربی جمہوریت میں بدرجہ اتم موجود ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اگرچہ اسلامی دنیا میں بادشاہت تو کم وبیش معدودے چند ملکوں میں باقی ہے اور دیگر ملکوں میں نہ بادشاہت اور نہ جمہوریت والی کیفیت ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ واقعہ کربلا کے بعد کسی اسلامی ملک میں ملوکیت وبادشاہت کا شائبہ تک نہ ہوتا، لیکن یہ بات حیران وششدر کرنے والی ہے کہ آج 1300برس بعد بھی اسلامی ملکوں میں نہ خلافت کی طرز پر کوئی حکومت قائم ہوسکی اور نہ ہی مغربی جمہور کی حکومت۔۔ نیمے دروں نیمے بیروں، آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کی کیفیت نے اسلامی ملکوں اور معاشروں کا بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے لیکن گزشتہ ایک عشرے سے اسلامی ملکوں میں میڈیا کے انقلاب کے زیراثر جو صورتحال بنی رہی ہے اُس سے یہ بات صاف طور پر نظر آنے لگی ہے کہ بھلے ان ملکوں میں نظام حکومت کوئی بھی ہو لیکن اب ڈکٹیٹرشپ کے انداز بہرحال عوام کو قبول نہیں۔ بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں اور اقوام متحدہ کے دباؤ پر اب بنیادی انسانی حقوق کیخلاف اقدامات کو قالین کے نیچے چھپانا مشکل ہورہا ہے۔ اپنے وطن عزیز میں جو بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور بڑے بڑے لوگ سلاخوں کے پیچھے ہیں اور دیگر عدالتوں کے چکر کاٹتے ہوئے انتظار میں ہیں۔ پاکستان کی عدلیہ، افواج، حکومت اور میڈیا ومعاشرہ سب تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ اب حالات اتنے تبدیل ہوچکے ہیں کہ کوئی زورآزمائی کا مظاہرہ کر بھی لے تو اُس کا خمیازہ بہت جلد بھگتنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں کسی نے سوچا بھی تھا کہ حکومت کے دو وزراء عدالت کے خوف سے استعفیٰ دینے پر بھی مجبور ہوںگے۔ پاک افواج اپنے اندر کے احتساب کی کہانی آئی ایس پی آر کے ذریعے سامنے لانے پر مجبور ہوں گی۔ اور وطن عزیز کے وہ بڑے سیاستدان جن کو عوام نے ووٹ دیکر ملک وقوم کی امانتیں سپرد کی تھیں اور وہ بدترین خیانت کا ارتکاب کرتے ہوئے منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے اپنی تجوریوں میں منتقل کرنے کیلئے شیطانی آنت جیسے طریقے اختیار کر چکے ہیں اس وقت اپنے آپ کو عرصۂ محشر میں محسوس کر رہے ہیں۔ پاکستان بدل رہا ہے اور بدل کر رہے گا۔

متعلقہ خبریں