Daily Mashriq


زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیرِ نو کی رقم کہاں گئی؟

زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیرِ نو کی رقم کہاں گئی؟

سن 2005ء میں ایک خوف ناک زلزلہ آیا تھا۔ اس زلزلے نے خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی تھی۔ بالاکوٹ کا پورا شہر تہہ و بالا ہو گیا تھا۔ بہت سی عمارتوں کے ملبے کا ڈھیر ہی ان کے مکینوں کی قبریں بن گیا تھا۔ ان میں سکولوں کی عمارتیں بھی تھیں جن کے بچے کبھی واپس نہ آئے۔ دنیا بھر سے میڈیکل ٹیمیں ‘ خوردونوش کا سامان‘ خیمے‘ کمبل اور دیگر امدادی اشیاء بھاری مقدار میں پاکستان آئی تھیں اور اس کے ساتھ تباہ شدہ علاقے کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے بھاری رقمیں بھی آئی تھیں۔ آج اس تباہی کو تیرہ سال ہو چکے ہیں لیکن جو لوگ بے گھر ہوئے تھے آج بھی پناہ گاہوں میں پڑے ہیں۔ اس حوالے سے ایک درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ روز نہایت برہمی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے زلزلہ زدہ علاقوں کی بحالی اور تعمیرِ نو کی اتھارٹی کے افسروں سے سوال کیا تھاکہ ’’زلزلہ زدگان کے لیے مکانات تعمیر کرنے کی خاطر جو رقم آئی تھی وہ کہاں ہے؟ متاثرہ علاقوں میں ایک بھی سکول یا ہسپتال نہیں ہے۔‘‘ 2005ء کے بعد آنے والی حکومتوں نے امدادی رقم سے علاقے کی بحالی کے لیے کچھ نہ کیا۔ زلزلہ زدہ علاقوں کی بحالی او رتعمیرِ نو کی اتھارٹی ایرا کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ہم نے علاقے میں دس ہزار منصوبے مکمل کیے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بتائیں کیا ایرا نے علاقے میں ایک غسلخانہ بھی تعمیر کیا؟ ایرا کے افسر نے بتایا کہ ہم نے اتنا ہی کام کیا جتنا کہ دستیاب فنڈز میں کیاجا سکتا تھا۔ درخواست گزار نے بتایا کہ ایک سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے آنے والی رقم میں سے 55کروڑ روپے ملتان کے ترقیاتی ادارے کو منتقل کر دیے تھے اور 35کروڑ روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دے دیے تھے۔ درخواست گزار نے کہا کہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان شوگران تو گئے لیکن انہیں بالاکوٹ جانے کی توفیق نہ ہوئی۔ اس سماعت کے بارے میں تفصیل قارئین کی نظر سے گزر چکی ہے۔ تاہم اٹارنی جنرل آف پاکستان اور وفاقی سیکرٹری خزانہ کے بیانات قابلِ غور ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کی اس بارے میں وزیر اعظم سے گفتگو ہوئی ہے وہ اس معاملے سے بے خبر ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا کہ ملک کا چیف ایگزیکٹو متاثرین کے ابتلاء سے بے خبر ہے! سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ بدھ کو کابینہ کا اجلاس ہونے والا ہے اس میں یہ معاملہ بھی زیرِ غور آئے گا۔ سیکرٹری خزانہ اپنے محکمے کے ذمہ دار تھے ان کا کابینہ ڈویژن سے تعلق شمار نہیں کیا جا سکتا۔ نہ جانے انہوں نے کیوں یہ کہہ دیا کہ بدھ کو کابینہ کے اجلاس میں اس معاملہ پر غور کیا جائے گا ۔ لیکن کابینہ کے اجلاس کی جو خبریں شائع ہوئی ہیں اس میں بالاکوٹ‘ مانسہرہ کے زلزلہ زدگان کے مسائل کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ ممکن ہے اس معاملہ پر آئندہ کسی فورم میں غور کیاجائے گا۔ تاہم یہ بات بڑی افسوس ناک ہے کہ 2005ء سے 2018ء تک زلزلہ زدہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو میں مناسب پیش رفت نہیں ہوئی۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ جو امداد اس مقصد کے لیے آئی تھی اس کا کل حجم کتنا تھا۔ درخواست گزار کے بیان سے معلوم ہوا کہ اس میں سے نوے کروڑ روپے ملتان کی ترقی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے منتقل کر دیے گئے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ ضرور موجود ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم کے پاس اس رقم کو زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کی بجائے دیگر کاموں پر خرچ کرنے کا کیا اختیار تھا۔ سابق وزیر اعظم نے آیا کابینہ سے اس کی منظوری لی تھی یا نہیں یا اس رقم کی منتقلی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے اس اقدام کا کیاجواز ریکارڈ کیا تھا۔ ایرا کے ڈائریکٹر جنرل نے جو یہ بیان دیا ہے کہ ان کی اتھارٹی نے زلزلہ زدہ علاقے میں دس ہزار منصوبے مکمل کیے ہیں ان کی تفصیل کیا ہے۔ تاہم چیف جسٹس کے ریمارکس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں نہ کوئی سکول تعمیر کیا گیا ہے ‘ نہ کوئی ہسپتال قائم کیا گیا ہے حتیٰ کہ ایک غسلخانے جتنی عمارت بھی تعمیر نہیں کی گئی۔ جن دنوں زلزلہ زدگان کے لیے ملک بھر سے اور ساری دنیا سے امدادی اشیاء آ رہی تھیں ان دنوں بھی یہ خبریں عام تھیں کہ ان میں بااثر افراد خوردبرد کر رہے ہیں۔ ایک خبر ایسی بھی شائع ہوئی تھی کہ ایک بااثر شخصیت نے امدادی اشیاء سے بھرے ہوئے دو ٹرکوں کو اپنے کمپاؤنڈ میں بند کر دیا۔ دورانِ سماعت یہ بھی بتایا گیا تھا کہ تعمیر نو اور بحالی کے لیے جو نقد رقوم حاصل ہوئی تھیں انہیں حکومت وقت کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے ایرا کے نام سے ایک اتھارٹی قائم کی گئی تھی۔ کتنی رقم حکومت کے پاس جمع ہوئی تھی اور کتنی ایرا تک بحالی اور تعمیر نو کے لیے پہنچی اس بارے میں بھی اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ البتہ درخواست کی سماعت کے دوران ایرا کے ڈائریکٹر جنرل کے اس بیان سے کچھ اشارہ ملتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جتنی رقم دستیاب تھی اس کے مطابق کام کیاگیا ہے۔ ایرا کے چیئرمین کو عدالت نے اگلی سماعت پر طلب کر لیا ہے۔ اور سارا حساب کتاب بھی۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس معاملے میں مکمل انکوائری ہو گی اور زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے حاصل ہونے والی رقوم کے استعمال سے پاکستان کے عوام آگاہی حاصل کر سکیں گے اور اگر اس میں کوئی خوردبرد سامنے آتی ہے تو اس پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں