Daily Mashriq

صدر ٹرمپ کا نیا بیانیہ

صدر ٹرمپ کا نیا بیانیہ

پاکستان کیساتھ کچھ عرصہ تک مخاصمانہ رویہ اختیار کرنے اور پاک امریکہ تعلقات میں تلخی کا عنصر شامل ہونے کے بعد بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روئیے میں تبدیلی کے آثار پیدا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ نئے سال2019ء کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کیلئے امریکہ کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی صدر ٹرمپ کی اسلام آباد کیساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی خواہش سے واضح ہوگئی ہے۔ کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں کیساتھ گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ نئی پاکستانی قیادت سے جلد ملنے کے منتظر ہیں اور پاکستان کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم طالبان اور دوسرے لوگوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ امریکہ ہزاروں میل دور رہ کر ہی افغانستان میں کیوں لڑے' پاکستان اور روس کو بھی افغانستان میں مزید کردار ادا کرنا چاہئے۔ صدر ٹرمپ نے امریکہ کے گزشتہ موقف کے برعکس افغانستان میں روس کی مداخلت کو بھی درست قرار دیا۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی نے افغانستان میں لائبریری بنا کر باربار جتایا۔ بھارت نے جتنے پیسوں میں لائبریری بنائی امریکہ اتنے پیسے افغانستان میں 5گھنٹے میں خرچ کر دیتا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ماضی میں پاکستان ہمارے ساتھ ٹھیک طریقے سے نہیں چل رہا تھا اس لئے پاکستان کو ایک اعشاریہ 3ارب ڈالر دینا بند کر دئیے۔ ایسے ملکوں کی امداد بند کر رہے ہیں جو ہمیں کچھ نہیں دیتے۔ اب وہ پاکستان کیساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کے خواہش مند ہیں۔ سال نو کے آغاز پر امریکی صدر کی جانب سے پاکستان سے دوبارہ تعلقات بہتر کرنے کی خواہش سے ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر جمی ہوئی برف پگھلنے کے آثار واضح ہو رہے ہیں۔ جہاں تک صدر ٹرمپ کے ان الزامات کا تعلق ہے کہ پاکستان ماضی میں ہمارے ساتھ ٹھیک طریقے سے نہیں چل رہا تھا اس لئے پاکستان کو 1.3ارب ڈالر دینا بند کر دئیے اور ایسے ممالک کی امداد بند کر رہے ہیں جو ہمیں کچھ نہیں دیتے تو اس پر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ ''لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ ونام ہے' یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں'' صورتحال یہ ہے کہ امریکہ جس کو امداد کہہ رہا ہے وہ زمانے اب گزر چکے ہیں جب امریکہ پاکستان کو امداد کے نام پر نقد رقم امریکی گندم' خشک دودھ اور بٹر آئل (دیسی گھی) بطور امداد دیا کرتا تھا' حالانکہ وہ بھی حقیقت میں امداد نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ تب امریکہ کو پاکستان نے پشاور کے علاقے بڈھ بیر کے مقام پر ایک ہوائی اڈہ دیا تھا جو امریکہ سابق سوویت یونین کیخلاف جاسوسی کیلئے استعمال کرتا تھا اور جہاں سے اُڑ کر جانے والے یوٹو طیارے کو روس نے مار گرایا اس کے پائلٹ پر مقدمہ چلایا تو خروشیف نے پشاور کے نقشے پر سرخ رنگ کا دائرہ لگا کر پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی تھی اور حالیہ جس رقم کا تذکرہ صدر ٹرمپ نے کیا ہے وہ بھی امداد نہیں بلکہ افغان جنگ میں پاکستان کی خدمات یعنی پاکستان کے اڈے' پاکستان کی شاہراہیں وغیرہ استعمال کرنے اور خاص طور پر پاکستانی افواج اور عام لوگوں کی بے مثال قربانیوں کے عوض اور دیگر خدمات کا حقیر سا نذرانہ ہے کیونکہ یہ رقم عظیم قربانیوں کا متبادل نہیں ہو سکتا بلکہ جو نقصان پاکستان نے اُٹھایا ہے اس کا معاوضہ بھی کہیں زیادہ ہے مگر یہ رقم روک کر امریکہ نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور وعدہ خلافی کا ثبوت دیا ہے کیونکہ اس سے کہیں زیادہ رقم امریکہ کے ذمے بنتی ہے تاہم جو ملک پیشگی رقم ادا کرنے کے باوجود ایف16 طیاروں کی فراہمی سے پاکستان کو محروم رکھے بلکہ انہی طیاروں کو امریکہ ہی میں کھڑا کرکے ہینگرز کے کرائے بھی وصول کرے اس کی اخلاقی کمزوری پر کیا تبصرہ کیا جائے۔ بہرحال اگر بالآخر امریکی صدر کو اپنے نامناسب روئیے کا احساس ہوگیا ہے اور وہ پاکستان کیساتھ تعلقات کو معمول پر لانے میں دلچسپی رکھتا ہے تو یہ ایک خوش کن خبر ہے۔ البتہ امریکی صدر کے افغانستان پر روسی حملے کو جائز قرار دینے پر حیرت کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے کیونکہ تاریخ تو اب جس طرح ماضی کے حالات وواقعات کو کھول کھول کر بیان کر رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوویت یونین کو خود امریکہ ہی نے گھیر گھار کر افغانستان کی دلدل میں اُترنے پر مجبور کیا تھا تاکہ نہ صرف اس سے ویت نام کی شکست کا بدلہ لیا جائے بلکہ اسے معاشی طور پر کمزور کرکے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اور امریکہ دنیا کی واحد قوت بن کر اُبھرے۔ جہاں تک بھارت پر طنز کا تعلق ہے تو اس حوالے سے بھی امریکہ کے منفی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا' وہ پاکستان کو ہر طرف سے دباؤ میں لانے کیلئے بھارت کو جس طرح افغانستان میں اہم کردار دینے کی کوشش کرتا رہا ہے' پاکستان کی بہادر افواج نے بھارتی جاسوسی نیٹ ورکس کو تہس نہس کرکے امریکہ کی یہ چال بھی ناکام بنا دی ہے' اب اگر صدر ٹرمپ بھارت پر تبرہ تول رہا ہے تو یہ بھی کوئی چال ہی ہوسکتی ہے جس سے آنکھیں بند کرنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوسکتا اس لئے ہمیں چوکنا رہنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں