Daily Mashriq

پاک ترکی تعلقات میں نیا موڑ

پاک ترکی تعلقات میں نیا موڑ

پاکستان اور ترکی کے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات صدیوں پر محیط ہیں اور ان میں ہمیشہ بہتری کی نہ صرف گنجائش رہی ہے بلکہ عملی طور پر بھی دونوں ملکوں کی جانب سے اقدامات کئے جاتے رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ان دنوں ترکی کے دورے پر ہیں جہاں گزشتہ روز انہوں نے قونیہ میں عالم اسلام کی عظیم ہستی مولانا رومی کے مزار پر حاضری دی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ترکی کیساتھ اپنے مثالی برادرانہ تعلقات پر فخر کرتے ہیں اور اس تعلق کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ ترکی سے تاریخی' تہذیبی اور ثقافتی تعلقات صدیوں پر محیط ہیں۔ پاکستان کے عوام قونیہ کے لوگوں سے گہری محبت کرتے ہیں اور مولانا جلال الدین رومی کی بہت تعظیم کرتے ہیں۔ مولانا رومی کے روحانی پیغامات نے تمام مذاہب اور ہر شعبۂ زندگی کے افراد کو انسانیت میں متحد کرنے میں کردار ادا کیا۔ پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال بھی مولانا جلال الدین رومی کے روحانی شاگرد تھے جبکہ مولانا کی صوفیانہ تصنیفات روحانی موضوعات پر شاہکار اور لازوال ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ترکی کے صدر طیب اردگان کی دعوت پر دو روزہ دورے پر دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے گئے ہیں اور ان سطور کے شائع ہونے تک وہ واپس پاکستان آچکے ہوں گے۔ اس دورے کے دوران دونوں ملکوں کے مابین کیا کیا معاہدات طے پاتے ہیں یہ تو بعد میں پتہ چل جائے گا تاہم جہاں تک دونوں ملکوں کے تعلقات کا تعلق ہے تو برصغیر کے مسلمانوں نے انگریز عملداری میں ہوتے ہوئے بھی جس طرح ترکی میں خلافت کیخلاف مغربی استعماری قوتوں کی سازشوں کیخلاف نہ صرف آواز بلند کی بلکہ حقیقی معنوں میں دامے' درمے' سخنے مدد کی اسی وقت سے ہی ترکی عوام کے دلوں میں برصغیر کے مسلمانوں کیلئے تشکر اور محبت کے جذبات موجزن ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد دونوں ملکوں کے مابین بھی برادرانہ تعلقات ہمیشہ قائم رہے جبکہ آر سی ڈی کے نام سے پاکستان' ایران اور ترکی کے مابین دوستانہ برادرانہ تعلقات ایک نئی بلندی کو چھوتے نظر آتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ تنظیم بعد میں ختم ہوگئی تھی مگر پاکستان اور ترکی کے باہمی تعلقات پر کبھی کوئی آنچ نہیں آئی۔ اب ایک بار پھر دونوں ملکوں نے ان تعلقات کو فروغ دینے پر توجہ دی ہے تو امید ہے کہ یہ تعلقات نئی بلندیوں کا مظہر بن کر اُبھریں گے۔

قبائلی علاقوں میں ریڈیو نشریات

خیبر پختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع میں غیر ملکی میڈیا کا پشتو زبان میں جاری نشریات اور ممکنہ منفی پروپیگنڈے کو روکنے کیلئے ریڈیو سٹیشنز کھول کر پشتو زبان میں پروگرام نشر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں چند برس پہلے وفاقی حکومت نے ریڈیو نشریات کا اہتمام کیا تھا اور اس سلسلے میں ریڈیو پاکستان کے ایک ریٹائرڈ سینئر اہلکار سابق ڈائریکٹر پروگرامز فقیر حسین ساحر مرحوم کی نگرانی میں ریڈیو سٹیشنز قائم کئے تھے مگر بعد میں جب دہشتگردی کی آگ ان علاقوں تک پھیل گئی تو مجبوراً یہ سٹیشن غیرفعال ہوگئے تھے۔ اس دوران بعض غیرملکی نشریاتی اداروں نے پشتو نشریات شروع کرکے ان کا دائرہ قبائلی علاقوں تک بڑھایا اور اب وہاں سے بڑی حد تک منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے تو اس پروپیگنڈہ کا توڑ کرنے کیلئے قبائلی علاقوں میں ریڈیو نشریات شروع کرنے اور ملکی سلامتی کیخلاف معاندانہ پروپیگنڈے کا راستہ روکنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس لئے جس قدر جلد ہو سکے نشریات کا دائرہ ان علاقوں تک وسیع کرنے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھانے پر توجہ دی جائے۔ اس مقصد کیلئے ماہرین نشریات سے استفادہ کرتے ہوئے منفی پروپیگنڈے کا توڑ کیا جاسکتا ہے۔

گیس پریشر میں کمی

صوبائی دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافے کیساتھ ہی سوئی گیس پریشر میں کمی کی شکایات اُبھر کر اب عوام کی جانب سے احتجاج کرنے کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ہم اس سے پہلے بھی اس حوالے سے گزارشات کر چکے ہیں مگر نہ تو سوئی ناردرن حکام کے کانوں پرکوئی جوں رینگتی دکھائی دیتی ہے نہ ہی حکمران عوام کے مسائل پر توجہ دے رہے ہیں۔ سوئی گیس حکام تو بی آر ٹی منصوبے کی آڑ لیکر جھوٹ بولتے دکھائی دیتے ہیں کہ اس منصوبے کی وجہ سے پائپ لائنوں کی تبدیلی سے پریشر کم کیاجاتا ہے جبکہ اس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے بلکہ صوبے کی گیس کو دیگر صوبوں کو سپلائی کرنے اور خیبر پختونخوا کے عوام کو اپنی ہی گیس سے محروم کرنے کا یہ شاخسانہ ہے جو وزیراعلیٰ کی فوری توجہ کا طلبگار ہے۔

متعلقہ خبریں