Daily Mashriq

سرجیکل سٹرائیکس خواب اور سراب

سرجیکل سٹرائیکس خواب اور سراب

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک بار پھر کنٹرول لائن پر سرجیکل سٹرائیکس کے افسانے کو یاد کیا ہے اور اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا ہے کہ کیا سرجیکل سٹرائیکس سے بھارت اپنے مقاصد حاصل کر سکا کیونکہ بقول ان کے دراندازی تو اب بھی جاری ہے۔ مودی کا کہنا تھا کہ سرجیکل سٹرائیکس پُرخطر فیصلہ تھا کیونکہ اسے اپنے فوجیوں کی بحفاظت واپسی کی فکر تھی۔ نریندر مودی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایک جنگ سے سدھرنے والا نہیں اسے سدھرنے میں خاصا وقت لگے گا۔ نریندر مودی نے خاصے عرصے کے بعد ایک بار پھر سرجیکل سٹرائیکس کو یاد کیا ہے اور یوں یہ دعویٰ کرتے ہوئے مودی میں امریکہ کے سابق صدر اوباما کی روح حلول کر جاتی ہے۔ وہ اپنے ملک کو امریکہ اور خود کو اوباما سمجھتے ہیں جس نے ایبٹ آباد آپریشن پلانٹ کرکے اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا مگر وہ اُسامہ بن لادن کی زندہ یا مردہ حالت میں ایک تصویر بھی اس آپریشن کے ثبوت کے طور پر پیش نہ کر سکے، حد تو یہ کہ انہوں نے اُسامہ کی لاش کو سمندر میں بہا دینے کا موقف اپنا کر قصہ ہی تمام کر دیا۔ اوباما نے ایبٹ آباد آپریشن خالص انتخابی ضرورت کے تحت کیا تھا اور وہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کا باب بند کرنا بھی چاہتے ہیں۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک یہ کہانی سن کر امریکی اُکتا چکے تھے۔ نائن الیون کے زخم بھی تیزی سے گزرتے وقت کی ہواؤں کے باعث مندمل ہو رہے تھے۔ ممبئی حملوں کے بعد بھارت کی پوری خواہش اور کوشش تھی کہ اپنے عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کیلئے اسے آزاد کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کا موقع دیا جائے خواہ یہ سٹرائیکس محض علامتی ہی کیوں نہ ہوں۔ مطالبہ صرف یہ تھا کہ پاکستان ایسی صورت میں جوابی کارروائی نہ کرے۔ پاکستان نے اس فلم کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ کنٹرول لائن کی کسی بھی انداز کی خلاف ورزی کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔ بھارت کی اس ضرورت کی وکالت اس وقت امریکہ نے بھی کی تھی مگر پاکستان کے سخت موقف اور ردعمل کے خوف نے اس خواہش کو ناتمام بنائے رکھا تھا۔ اس کے بعد بھارت کی یہ خواہش دل میں ہی دبی رہ گئی تھی۔ نریندر مودی کے دور میں اس ناتمام خواہش کی عکس بندی ایک فلم کے طور پر کی گئی مگر سرجیکل سٹرائیکس کا مقصد کیا تھا اور اس سے کیا حاصل ہوا؟ بھارت آج تک اس کی وضاحت نہیں کر سکا۔ مودی ذہن میں سرجیکل سٹرائیکس کا سارا خواب سجائے اور چھپائے بیٹھے ہیں۔ اب وہ اس افسانے کو یاد کر کے بھارتی ووٹروں کو ٹارزن ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ اب بھارت میں انتخابات کی آمدآمد ہے اور مودی کی سیاسی ضروریات بھی بڑھ گئی ہیں۔ کئی ریاستوں کے انتخابات میں مودی کو شکست ہوگئی ہے۔ رواں برس مرکزی انتخابات کا مرحلہ درپیش ہے۔ مودی کی ترقی کے دعوے سراب ثابت ہوئے ہیں۔ بھارت کا عام ووٹر بی جے پی کی کارکردگی سے مایوس ہو چکا ہے۔ مودی کے پاس ووٹروں کے آگے پیش کرنے کو پاکستان دشمنی کے سوا کچھ نہیں۔ بھارت کے سابق کشمیری النسل جج اور پریس کونسل آف انڈیا کے سابق چیئرمین جسٹس مارکنڈے کاٹجو کا ایک چشم کشا ویڈیو کلپ میڈیا میں گردش کر رہا ہے۔ مسٹر کاٹجو کہہ رہے ہیںکہ بھارت میں آنے والے ماہ وسال مسلمانوںکیلئے سخت ہوں گے، بہت ماردھاڑ ہوگی، بہت برا زمانہ آگیا ہے کیونکہ مودی حکومت نے مسلمان مخالف اور فرقہ وارانہ ماحول بنا دیا ہے۔ مسٹر کاٹجو کا کہنا تھا کہ گائے کو تقدس دیکر دنیا میں بھارت کی ناک کٹوا دی ہے۔ گائے گھوڑے کتے کی طرح ایک جانور ہے۔ کاٹجو نے مودی کے انجام کیلئے اکبر الہ آبادی کا یہ شعر پڑھا

خبر دیتی ہے تحریک ہوا تبدیل موسم کی

کھلیں گے اور ہی گل زمزمے بلبل کے کم ہونگے

گوکہ مسٹر کاٹجو نے دہلی میں تبدیلی موسم کی بات بھارت میں متوقع سیاسی تبدیلی کے تناظر میں کی ہے کیونکہ حالیہ ریاستی انتخابات نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے پیروں تلے قالین کھینچنے کا اشارہ دیا مگر اصل بات یہ تبدیلی موسم پاکستان کیساتھ اختلافات اور تعلقات پر بھی کوئی مثبت اثر چھوڑے گا یا نہیں؟ بھارتیہ جنتا پارٹی کے منظر سے ہٹنے کے بعد پاکستان کیلئے بھارت کی جانب سے خوشگوار ہوائیں آنے کا امکان کم ہی ہے۔ بہرحال یہ ایک معتبر شخص کی مودی اور تیزی سے بدلتے ہوئے بھارت کا مستقبل کے بارے میں یہ چشم کشا رائے ہے۔ ایسے میں بھارت کے حکمرانوں سے کسی بھی حماقت کی توقع کی جا سکتی ہے۔ وادی نیلم میں کنٹرول لائن پر بلااشتعال گولہ باری اسی جنونیت کا مظاہرہ ہے جس میں ایک خاتون شہید اور سکول کے بچے زخمی ہوئے تھے۔ دوسرے روز پاک فوج نے باغ سیکٹر میں بھارت کا جاسوس ڈرون مارگرایا اور اس کیساتھ ہی آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان ایک ڈرون کو سرحدوں کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیتا چہ جائیکہ کوئی انسان سرحد کی خلاف ورزی کرے۔ تباہ شدہ ڈرون جہاں اس کا عملی ثبوت تھا وہیں اس پر میجر جنرل آصف غفور کا ٹویٹر تبصرہ مودی کی سرجیکل سٹرائیکس کے افسانے کا جواب تھا۔ دوسرے دن ایک اور بھارتی ڈرون کو کنٹرول لائن پر مارگرایا گیا اور اس کی تصویر بھی میڈیا کیلئے جاری کی گئی۔ جس دن ڈرون گرایا گیا عین اسی روز بلوچستان میں ایک فوجی چھاؤنی پر حملے میں پاک فوج کے چار جوان بھی شہید ہوئے اور حملہ آور بھی مار گرائے گئے۔ مقبوضہ کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر نصف درجن افراد کو قتل کیا جا رہا ہے۔ بھارتی فوج پکڑو مت مارو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کم عمر سنگ بازوں کو دہشتگرد قرار دیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں ہونے والی ان سرگرمیوں کے ڈانڈے بھی بھارت سے جا ملتے ہیں۔ اس طرح بھارت کی طرف سے کسی مہم جوئی کی خواہش تو موجود ہے مگر زمینی حقائق اس خواش اور خواب کا ساتھ نہیں دے رہے۔

متعلقہ خبریں