Daily Mashriq

بھارت کے انتہا پسندوں کا اصل چہرہ

بھارت کے انتہا پسندوں کا اصل چہرہ

برطانوی راج سے آزادی کے بعد بھارت کی خوش قسمتی یہ رہی کہ انڈین نیشنل کانگریس کو تحریک آزادی کے رہنماؤں کی قیادت طویل عرصے تک حاصل رہی، میری مراد بالخصوص پنڈت جواہر لال نہرو اور ان کے ساتھی ہیں۔ پنڈت نہرو کے ذریعے ہندوستان کو تین چار اہم کامیابیاں آزادی کے ابتدائی برسوں میں حاصل ہوئیں۔ پہلی یہ کہ بھارت کو بہت جلد ایک متفقہ آئین ودستور ملا، اگرچہ اس نئی آئین سازی میں برطانوی راج کے 1935ء کے ایکٹ کا بنیادی کردار رہا۔ آئین آزادی کے صرف دو سال بعد یعنی 1949ء میں وجود میں آیا اور1951۔52ء کو الیکشن ہوگئے جس سے ہندوستان میں جمہوریت کی بنیادیں استوار ہونا شروع ہوئیں اور نہرو پہلے وزیراعظم کی حیثیت سے سامنے آئے اور 1947۔64ء تک بھارت کی تاریخ میں طویل ترین مدت تک برسر اقتدار رہے۔ 1964ء سے 1966ء تک گلزاری لعل اور شاستری مختصر مدت کیلئے وزیراعظم رہے لیکن اس کے بعد نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی 1966۔77ء اور 1980۔84ء تک ہندوستان کی قیادت کرتی رہیں۔نہرو خاندان کی حکمرانی نے بھارت کی خارجہ پالیسی اور دنیا کے سامنے بھارت کا جو چہرہ بنا کر دکھایا وہ لبرل سیکولر، غیرجانبدار اور زمین پر سب سے بڑی جمہوریت کا تھا۔ اگرچہ باطنی چہرہ اس وقت بھی تعصب اور تنگ نظری ہی کا غازہ لئے ہوئے تھا۔ گاڈسے جیسے پڑھے لکھے انتہا پسند اس وقت بھی موجود تھے جس نے مہاتما گاندھی کو 1948ء میں قتل کیا۔ گاڈسے ہندوستان کی تحریک آزادی کا کارکن ' وکیل اور آر ایس ایس کا ممبر تھا اور ہندو مہاسبھا سیاسی جماعت کا رکن تھا لیکن نہرو اور جمہوریت نے بہرحال ایک مدت تک بھارت کا ہندو انتہا پسندانہ چہرہ چھپائے رکھا اور اس کی بیٹی اندرا گاندھی اس میں اس حد تک کامیاب رہیں کہ نہرو غیرجانبدار تحریک (ایفروایشین) اقتصادی' ثقافتی اتحاد کا چیمپئن بن کر سامنے آیا لیکن اس کے باوجود ان کے دلوں سے مذہبی تعصبات کا غبار کبھی بھی ہلکا نہ ہوسکا۔

پنڈت جواہر لال نہرو تو ایک مدبر سیاستدان کی حیثیت سے اپنے دل کی بعض باتیں چھپا کر رکھنے میں کامیاب رہے لیکن ان کی بیٹی اندرا گاندھی مسلمانوں کیخلاف تاریخ ہندوستان میں بھارت پر مسلمانوں کی حکمرانی کا کینہ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں جنوبی ایشیاء میں انتہا پسندی اور تنگ نظر اور خاص کر مذہبی تعصب کا ایسا بیج بو گئی کہ بنگلہ دیش کے قیام پر چین کے مدبر سیاستدان چو این لائی کو کہنا پڑا کہ ''اندرا گاندھی نے کانٹوں کی فصل بوئی ہے' طوفانوں سے کٹے گی''۔ یہ طوفان اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل کی صورت میں سامنے آیا اور اس کیساتھ ہی بھارت میں نہرو خاندان کی حکومت ختم ہوگئی۔ اگرچہ نیشنل کانگریس برسر اقتدار رہی لیکن اس سیاسی جماعت کی گرفت کمزور ہونے لگی اور آخرکار ہندوستان میں بی جے پی جیسی متعصب سیاسی جماعت کی حکومت اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں قائم ہوئی۔ نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوبی ایشیاء کے ممالک کے درمیان تجارت' ثقافت' تعلیم اور دیگر رابطے کمزور پڑنا شروع ہوئے کیونکہ سارک تنظیم مودی کی متعصبانہ سیاست کی بھینٹ چڑھ گئی۔ مودی کے چار برسوں میں مقبوضہ کشمیر میں بدترین مظالم ہوئے اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں اور یہ ایک معمول بن گیا۔ لیکن یہ سب پاکستان اور مسلمانوں کیساتھ تعصب کے سبب ہوا اور ہو رہا ہے لیکن اب مودی حکومت کا تعصب اور تنگ نظری اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے کہ اس سے شاید اس کی جماعت کے معتدل پیروکار بھی نہ بچ سکیں۔ مودی دور میں ہندوستان کے مسلمانوں' مسیحیوں' سکھوں اور دیگر ذاتوں کیساتھ جو مظالم ہوئے وہ اس چار سالہ اقتدار کی بدترین تاریخ شمار ہوگی۔ اسلئے پچھلے دنوں انڈین سپریم کورٹ کے جج مرکنڈے کائجو نے علی الاعلان کہا کہ ''میں سائنٹفک آدمی ہوں لہٰذا گائے کو دیگر جانوروں کی طرح ایک جانور مانتا ہوں نہ کہ ماتا اور اس نے ایسے لوگوں کو جو گؤماتا کی ذبح پر انسانوں (مسلمانوں) کو ذبح کرتے ہیں گدھے قرار دیا''۔

پچھلے دنوں ہندوستان کی کیرالہ ریاست کے ایک مندر میں پولیس کی نگرانی میں رات کے اندھیرے میں دو خواتین عبادت کیلئے گئیں تو انتہا پسندوں نے اس پر بلوا کرکے ایک خاتون کو ہلاک اور پندرہ کو زخمی کر دیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ آج کے ماڈرن دور میں خواتین مندر میں عبادت کیلئے داخل ہوئیں تو انہوں نے ایسا کیا پاپ کیا کہ وہ اتنی سنگین سزا کی مستحق ٹھہریں۔الحمدللہ! کہ ہم مسلمان ہیں اور پاکستان ہمارا وطن ہے۔ اگرچہ یہاں بھی بعض عناصر ایسے ہیں جو تعصب' تشدد اور تنگ نظری پر مبنی رجحانات رکھتے ہیں لیکن شکر ہے کہ وہ حال نہیں ہے جو بھارت میں ہے۔ خواتین اور اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان میں بھی بعض واقعات جہالت پر مبنی ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن حکومت' علماء اور عوام کی اکثریت انتہا پسندی اور تنگ نظری سے کوسوں دور ہے لیکن پاکستان کے اس روشن چہرہ کی نقاب کشائی کیلئے مناسب قیادت میسر نہ آسکی۔ اب اگرچہ امید سی ہوچلی ہے اور انشاء اللہ پاکستان کی اصل روادارانہ اور اعتدال ومحبت پر مبنی پہچان دنیا میں عام ہوگی اور بھارت کا یہ مکروہ چہرہ مغرب کے سامنے آئے گا۔

متعلقہ خبریں