Daily Mashriq


میں نے سبھی حساب جاں برسر عام رکھ دیا

میں نے سبھی حساب جاں برسر عام رکھ دیا

بات تو بڑی پتے کی ہے مگر کوئی کان دھرے بھی تو! صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ترقی یافتہ قوموں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بالکل درست کہا ہے کہ ان کے مزاج میں کتاب کلچر کا فروغ اور مطالعے کی عادت نے انہیں ترقی کی شاہراہ مہیا کی ہے مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جب سے یہ کمپیوٹر آیا ہے ہمارے ہاں ایک مخصوص طبقے میں یہ تاثر عام ہے کہ اب آن لائن دنیا کے ہر ملک کی لائبریری میسر آنے کی وجہ سے کتاب کی وہ اہمیت نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی حالانکہ یہ تاثر آج بھی اسی طرح غلط ہے جس طرح کمپیوٹر کی ایجاد سے پہلے ہوا کرتا تھا۔ مٹھی بھر چند افراد یقینا اس سے استفادہ کرتے ہوں گے مگر جس ملک میں شرح خواندگی بمشکل پانچ دس فیصد ہو' جی ہاں یہ جو شرح خواندگی کا ریٹ ہمیں سرکاری سطح پر بتایا جاتا ہے اس کا کارن تو وہ صورتحال ہے جو اعشاریہ نظام کے تحت اپنے دستخط کرنے والوں کو بھی خواندہ قرار دیتی ہے۔ ماضی پر نظر دوڑائیں تو ہمارے ہاں ایک بار مڈل اور ایک بار بالکل ان پڑھ افراد بھی وزیر تعلیم کے عہدے پر براجمان رہے ہیں اور قیام پاکستان کی ابتداء ہی سے تعلیم اور صحت حکومتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں رہیں۔ خیر جانے دیں آج بھی کونسے ان دو شعبوں پر وہ توجہ دی جاتی ہے جن میں سے ایک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ علم مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ اب تو ہم دوسری طرح کے ''میراثیوں'' میں شامل ہیں۔ چلیں انہیں جملہ ہائے معترضہ سمجھتے ہوئے واپس موضوع کی جانب آتے ہیں کہ ویسے بھی بقول یار طرحدار خالد خواجہ

فضول بحث کا دروازہ کھول دیتا ہوں

خموش رہ نہیں سکتا میں بول دیتا ہوں

بات کتاب اور مطالعے کی ہو رہی تھی اور صدر مملکت نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ طلبائ' اساتذہ اور عام لوگوں کو معیاری اور سستی کتابیں فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ کتاب کلچر کے فروغ کیلئے حکومت سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور دراصل یہی وہ نکتہ تھا جس سے کالم کا آغاز کرتے ہوئے میں نے اسے پتے کی بات قرار دیا تھا مگر ساتھ ہی کان دھرنے کی پخ بھی لگا دی تھی۔ اس پر مجھے اشفاق احمد کے وہ الفاظ یاد آرہے ہیں کہ جس ملک میں جوتیاں شوکیسوں میں اور کتابیں فٹ پاتھ پر فروخت ہوتی ہوں سمجھو اس قوم کو علم کی نہیں جوتوں کی ضرورت ہے اور یہی ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں یہی صورتحال ہے۔ بڑے بڑے خوبصورت سٹورز میں جوتوں کو شیشے کی الماریوں میں سجایا جاتا ہے اور کتابیں یا تو فٹ پاتھوں پر یا کباڑیوں کے ہاں دستیاب ہیں۔ اس کی بھی وجہ ہے اور وہ یہ کہ ہم نے کتاب کے حوالے سے رہنمائی دینے والے اساتذہ کرام کو معاشرے کا گیا گزرا طبقہ بنا کر رکھ دیا ہے اور انہیں صرف الزامات کی وجہ سے عدالتوں میں گھسیٹ کر ان کی توہین کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ حالیہ چند ہفتوں میں جس طرح پنجاب میں وائس چانسلر اور پروفیسرز کو نیب نے ذلیل کیا' یہاں تک کہ چند روز پہلے ایک پروفیسر کی لاش کو بھی ہتھکڑیاں پہنا کر بعد ازمرگ رسوا کرنے تک کا ظلم کیا اس کے بعد تعلیم' کتاب' عالم اور معلم کی کیا وقعت رہ گئی ہے۔ اس حوالے سے بھی ایک تو اشفاق احمد ہی کا وہ واقعہ ہے کہ ٹریفک قوانین سے بے خبری کی وجہ سے ایک بار باہر کے ایک ملک میں ان کا چالان ہوا اور عدالت کے پوچھنے پر کہ وہ کیا کرتے ہیں اور انہوں نے بتایا کہ وہ پروفیسر ہیں۔ بچوں کو تعلیم دیتے ہیں تو جج ان کے احترام میں کھڑا ہوگیا اور نہ صرف انہیں کرسی پیش کی بلکہ ان سے معذرت کرتے ہوئے انہیں بری بھی کر دیا۔ اسی طرح ہم اپنے لڑکپن کے دور میں ایک واقعہ سنتے رہے تھے کہ کسی مغربی ملک ہی میں کام پر جانے والوں کی لمبی قطار بس کے انتظار میں کھڑی تھی۔ اتنے میں ایک استاد آئے اور سب سے آخر میں کھڑے ہوگئے۔ لوگوں میں سے چند انہیں جانتے تھے کہ یہ سکول ٹیچر ہیں' انہوں نے ایک دوسرے کو یہ کہہ کر قطار توڑ دی اور استاد کے پیچھے دوبارہ نئے سرے سے قطار بناتے ہوئے کہا۔ قطار وہیں سے شروع ہوگی جہاں ہمارے بچوں کا استاد ہوگا کیونکہ استاد کو بروقت پہنچنا لازمی ہے تاکہ ہمارے بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر معاشرے کے کام آئیں۔ مولانا ظفر علی خان نے ویسے ہی تو نہیں کہا تھا کہ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اور اپنی حالت بدلنے کیلئے قوموں نے کتاب کلچر کو فروغ یوں دیا کہ سابق سوویت یونین میں نہایت عمدہ اور نفیس کاغذ پر سستی ترین کتب چھاپنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ یوں قوم کو خواندہ بنا کر اور خاص طور پر کلاسیکی لٹریچر کو عام کرکے روسی قوم نے ترقی کی شاہراہ پر چلنا سیکھا۔ دور جانے کی بھی کیا ضرورت ہے' ہمارے ہمسایہ جس کی ہر بات میں ہم کیڑے نکالنا ضروری سمجھتے ہیں' یعنی ہمارا ازلی دشمن بھارت' وہاں درسی کتب اور ادبی لٹریچر کیلئے سرکاری طور پر انتہائی کم ریٹ پر کاغذ دستیاب ہوتا ہے تاکہ علم کے فروغ میں کوئی مسئلہ نہ رہے۔ دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ وہاں کاپی رائٹ ایکٹ پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے یعنی مغربی دنیا کی طرح بھارت میں بھی کتاب تخلیق کرنے والوں کی پذیرائی یوں کی جاتی ہے کہ انہیں پوری رائلٹی دی جاتی ہے اور ہر نئے ایڈیشن پر رائلٹی کی رقم میں اضافہ کردیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں معاملہ بالکل اُلٹ ہے' پہلے تو کسی نئے لکھاری کی کتاب چھاپنے کو پبلشر تیار ہی نہیں ہوتا اور اگر ذاتی طور پر کتابیں چھاپ کر مفت بانٹنے والوں پر بعد میں کوئی پبلشنگ ادارہ رحم کھا کر اس کی کوئی کتاب چھاپ بھی دے تو اسے رائلٹی دینے کا رواج ہی نہیں ہے۔ ہاں گنتی کے چند لکھاری ضرور ایسے ہیں جن کی کتابیں ''ہاٹ کیک'' کی طرح ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہیں مگر ان کیساتھ بھی پبلشر ہاتھ کرنے سے باز نہیں آتے۔ البتہ اب نیشنل بک فاؤنڈیشن نے نسبتاً سستی کتابوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اسے مزید فروغ دینے کیلئے سرکاری طور پر سستا کاغذ فراہم کرنے سے ہی کتاب کلچر فروغ پا سکتا ہے' کہ بقول احمد فراز

دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں

میں نے سبھی حساب جاں برسر عام رکھ دیا

متعلقہ خبریں