Daily Mashriq


نوجوان تباہی کی دہلیز پر

نوجوان تباہی کی دہلیز پر

پاکستان کی نوجوان نسل میں منشیات کا استعمال فیشن بنتا جارہا ہے۔ پاکستان میں نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، اور ہر سال پچاس ارب روپے مالیت کی منشیات استعمال کی جارہی ہے۔ ملک کی 22 فیصد دیہی آبادی اور 38 فیصد شہری آبادی منشیات کا شکار ہے۔تشویش ناک بات یہ ہے کہ منشیات سے سب سے زیادہ 13 سے 25 سال کے نوجوان لڑکے لڑکیاں متاثر ہورہے ہیں۔ اور لرزا دینے والی بات یہ ہے کہ ان میں 50 فیصد نوجوان لڑکیاں شامل ہیں۔منشیات کی عادت ایک موذی مرض ہے جو نہ صرف انسان بلکہ اس کے گھر، معاشرے اور پورے ملک و قوم کو تباہ کردیتا ہے۔ کسی بھی ملک کو ترقی کی منازل تک لے جانے کے لیے نوجوان ہی اس ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے منشیات کا استعمال اب ملک کے تعلیمی اداروں میں بھی فروغ پا رہا ہے۔ جن اداروں میں مستقبل کے معمار تیار ہوتے تھے، جہاں سے ملک کا روشن مستقبل پروان چڑھتا تھا، وہاں اب دشمن نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور انہی نوجوانوں کی زندگی میں زہر انڈیلنا شروع کردیا ہے۔ ماضی میں صرف امیر گھرانوں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نشہ کرنے کو برا نہیں سمجھتے تھے، لیکن اب یہ لت متوسط اور نچلے طبقے میں بھی تیزی سے پھیلتی جارہی ہے۔ عموماً نوجوانوں میں نشے کا آغاز ایڈونچر، کچھ مختلف کرنے اور دوستوں کے دبائو اور ذہنی الجھنوں سے بچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن ان میں 70 فیصد ذہنی پریشانی یا اقتصادی بحران سے نجات پانے کے لیے نہیں بلکہ محض شوقیہ نشہ کرتے ہیں، اور پھر اس دلدل سے نہیں نکل پاتے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف 2013ء اور 2014ء کے درمیان شوقیہ نشہ کرنے والوں کی تعداد میں سو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امیر گھرانوں کے بالخصوص بڑے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جن کی عمریں عام طور پر 13 سے 25 سال ہوتی ہیں، نشے کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

منشیات میں سگریٹ، چھالیہ، نسوار، پان، چرس اور شیشہ وغیرہ کی مقبولیت کے بعد اب ''آئس'' نامی مہنگے نشے کا بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سے دو سال قبل شیشہ کی وبا آئی تھی، لیکن اب آئس کی وبا ہماری نوجوان نسل کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں۔ نوجوانوں میں پہلے چرس، ہیروئن، شراب اور شیشہ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی لیکن اب آئس، میتھافٹامائن، ڈیکسٹرو متھارفن اور کوکین کا نشہ کرنے والوں میں نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی شامل ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں سگریٹ روٹی سے بھی سستی ہے۔ یہ نہ صرف صحت عامہ بلکہ معیشت کو بھی متاثر کررہی ہے۔

آئس نوجوانوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نشہ ہے۔ یہ بہت ہی طاقتور اور اثرپذیر ہے، جس کی ایک خوراک ہی انسان کو اس کا عادی بنادیتی ہے۔ شفاف چینی کے دانوں کی شکل میں ملنے والے اس نشے کو گلاس یا کرسٹل میتہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایکسپائر ہوجانے والی پیراسٹامول، پیناڈول، وکس، اور نزلہ و زکام کی دیگر ادویہ سے ایفیڈرین اور ڈیکسٹرو میتھارفن نکال کر تیار کی جاتی ہے۔ اس کے فروغ کی ایک بڑی وجہ اس کا بغیر بدبو کے ہونا ہے۔اس نشے میں بیدار رکھنے کی خاصیت موجود ہونے کی وجہ سے طلبہ اس کی جانب راغب ہوتے ہیں تاکہ وہ امتحان کی ڈٹ کر تیاری کرسکیں، مگر انہیں اس بات کا علم نہیں کہ اس طرح وہ کس عذاب میں مبتلا ہونے جارہے ہیں۔تاہم ماہرین نفسیات کے مطابق آئس کے اثرات بہت تباہ کن ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس سے انسان کا حافظہ کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی ایک وجہ فلموں اور ڈراموں میں شراب، چرس اور دیگر نشہ آور اشیاء کا سرعام استعمال بھی ہے۔ کیونکہ نوجوانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ لباس، فیشن وغیرہ تمام چیزوں میں انہی فلمی اداکاروں کی نقل کرتا ہے۔ شراب و منشیات کے فروغ میں فلموں اور ڈراموں کا کردار بہت نمایاں ہے۔ کسی نہ کسی شکل میں نشہ خوری کے مناظر تمام فلموں، ڈراموں میں دکھائے جارہے ہیں۔ یہ چیز نوجوانوں میں منشیات کی لت پیدا کرنے کا ایک بنیادی سبب ہے۔

منشیات کا استعمال کرنے والے نوجوانوں میں زیادہ تر کا تعلق پڑھے لکھے طبقے سے ہے اور یہی نوجوان ملک کا اثاثہ ہیں، ان کو منصوبہ بندی کے تحت اس نشے کی لت لگائی جارہی ہے۔ ہماری نوجوان نسل کو صحت مند سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔ ان کو بنیادی سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں کہ وہ اپنے آپ کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرسکیں۔ بے کاری، کسی مثبت، صحت مند، اور مفید مشغولیت کا نہ ہونا بگاڑ کی راہ پر لے جانے کا بہت طاقتور ذریعہ ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ معاشرے سے منشیات کی لعنت ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے، اینٹی نارکوٹکس کو مزید فعال بنائے اور اس گھناؤنے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں، ان کے مشاغل کیسے ہیں۔ جائے، نشہ کی فروخت پر پابندی لگائی جائے، اور اس کا کاروبار کرنے والے ضمیر فروشوں کو کڑی سے کڑی سزا دی ۔ ان تمام اسباب و عوامل پر بند لگانے کی کوشش کی جائے جو منشیات کے فروغ میں معاون ہوسکتے ہوں۔

متعلقہ خبریں