Daily Mashriq

ترکی کے ساتھ معیشت سمیت تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں، عمران خان

ترکی کے ساتھ معیشت سمیت تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں، عمران خان

ویب ڈیسک: پاکستان اور ترکی کی قیادت کا دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو آگے بڑھانے کا عزم، ترک صدر نے تعلقات کی مزید مضبوطی کی خواہش کا اظہار کیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ پاک ترک تعلقات کو بلندیوں پر لے جانا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر طیب اردوان سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انقرہ کے صدارتی محل آمد پر وزیراعظم عمران خان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے خیر مقدم کیا جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں علاقائی، بین الاقوامی امور اور دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بعد ازاں  مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وزرا کا انقرہ میں خیر مقدم کرتے ہیں، پاکستان کے ساتھ عسکری، سیاسی، تجارتی اور دوستانہ تعلقات ہیں، ترک فاؤنڈیشن سے متعلق پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، وقت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات مستحکم ہورہے ہیں، خواہش ہے کہ پاک ترک تعلقات طویل عرصے تک آگے بڑھیں۔

ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ بطور کھلاڑی عمران خان نے اپنے ملک کے لیے بڑی کامیابیاں حاصل کیں، امید ہے کہ عمران خان کرکٹ کی طرح سیاست کے میدان میں بھی کامیاب ہوں گے، عمران خان نے پاکستان میں تبدیلی کے لیے بہت جدوجہد کی۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کی دوستی کئی دہائیوں پر محیط ہے، پاکستانی علاقے کے لوگوں نے ترکی کی تحریک آزادی میں بڑا کردار ادا کیا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ترکی کے ساتھ تمام شعبوں خصوصاً معیشت پر تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ معاشی ٹیم کو اپنے ہمراہ لایا ہوں، پاکستان میں بے گھر افراد کے لیے 50 لاکھ گھر بنانے جارہے ہیں ہیں جس کے لیے ہاؤسنگ کے شعبے میں ترکی کے تجرے سے استفادہ چاہتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کے خواہش مند ہیں، کسی بھی مہذب معاشرے میں شعبہ صحت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، صحت کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے ترکی کے تجربے سے فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں، تعلیم کے شعبے میں بھی ترکی کی کاوشیں قابل تقلید ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے، امن کے لیے تمام ہمسایہ ممالک بالخصوص بھارت سے بھی مذاکرات کو تیار ہیں لیکن پاکستان اوربھارت کے درمیان  بنیادی تنازع کشمیر ہے اور بھارت کشمیریوں پر اندھا دھند ظلم کررہا ہے، افغانستان کے معاملے پر بھی ترکی کے تعاون کے خواہاں ہیں۔

متعلقہ خبریں