Daily Mashriq

بے خودی بے سبب نہیں غالب

بے خودی بے سبب نہیں غالب

وزیراعظم عمران خان کابالآخر اس نتیجے پر پہنچنا کہ جمہوریت میں سیاسی مشاورت اور اتفاق رائے سے چلنا ہوتا ہے ۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اور میڈیا پر شعلہ اگلنے والے وزراء نے جس طرح زبانوں کو لگام دے کر اچھے بچوں کا کردار ادا کرنا شروع کیا ہے اور خود حکومتی عناصر اب تسلیم کر رہے ہیں کہ نیب اب تگڑا ادارہ نہیں رہا۔ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے ارکان کی ابتک کی جذباتیت اوراحتساب کی شدید خواہش یکا یک نرم روی میں کیوں تبدیل ہوئی نیب کے پر کاٹ کر اور قابل احتساب یا پھر مقدمات چلنے والے سیاستدانوں کو ریلیف کی راہ کیوں ہموار کی گئی ۔بیوروکریسی اور تاجروں کے نام پر سیاستدانوں کو این آر او کیوں دیا گیا۔این آر او دینے اور این آر او مانگنے والے سیاستدان یوٹرن لیکر شیروشکر کیوں ہونے لگے ہیں سیاسی جماعتیں اپنے دعوئوں اور یہاں تک کہ نظریات تک سے سمجھوتہ پر کیوں آمادہ ہوگئی ہیں جمہوری حکومت چلانے جمہوری وسیاسی اقدار اچانک اتنے اہم کیوں ہوگئے اس قسم کے بہت سے سوالوں پر غور کیا جائے اور جاری حالات پر ان سوالوں کے جوابات کو منضبط کیا جائے تو اصل حقائق جاننے اور وجوہات کا علم بآسانی نہ سہی تو بمشکل تو ہو پائے گا۔سیاسی سوچ اور موقف کی تبدیلی اگر معروضی حالات اور اصولوں کے مطابق ہو تو اسے واپس مڑنا قرار نہیں دیا جا سکتا کسی مفاد کے تحت کوئی قدم اٹھایا جائے تو اسے ڈیل یا این آر او نہ کہا جائے تو اور کیا قرار دیا جائے۔ہمارے تئیں اصولی فیصلہ وہی ہوتا ہے جو قومی مفاد کا تقاضا ہو ایک ایسا تقاضا جس میں اگر موقف اور قومی مفاد میں سے کسی ایک کو چننا پڑے توپھر یقیناً سوچے بغیر قومی مفاد ہی کا کوچنا جانا چاہیئے۔آرمی چیف کی تقرری اور مدت ملازمت کے حوالے سے قانون سازی کی حمایت قومی مفاد اس لئے ہے کہ اہم ترین ملکی دفاعی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے قانون بنانا عدالت عظمیٰ کا حکم اور پارلیمان کی ذمہ داری ہے کوئی بھی جماعت غیر مشروط طور پر پوری طرح بحث ومباحثہ اور ترمیم وتبدیلی کے مروجہ طریقہ کار کے تحت اس عمل کا حصہ بنتی ہے تو یہ غلط نہیں اور نہ ہی موقف کی خلاف ورزی ہے لیکن اگر اس امر کا شائبہ بھی ہو کہ کسی جماعت نے درپردہ یا اعلانیہ کوئی رعایت حاصل کی ہو تو اس کا موقف مخلصانہ نہیں بلکہ اس رعایت کا حاصل قرار پائے گا بہرحال جوں جوں معاملات آگے بڑھیں گے اخلاص ورعایتی حمایت کا عقدہ خود بخود کھلے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ یکے بعد دیگرے موقف میں تبدیلی اور کل کے سخت بیریوں کی آج بغلگیری بقول غالب بے سبب نہیں ممکن ہے ہمارا گمان درست نہ ہو اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اچانک ہی انس ومحبت کا ایسا جذبہ آیا ہو جو آلودگی کا حاصل نہیں بلکہ خالص اور مجموعی ملکی وقومی مفاد پر مبنی ہو۔ہم سمجھتے ہیں کہ جاری حالات سے قبل ومابعد کی تبدیلیاں اور صورتحال ہی اس امر کی گواہی دیں گے کہ بے خودی بے سبب نہیں غالب،کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے والا معاملہ ہے یا ہمارے حکمران اور سیاستدان اچانک اتنے بالغ نظر اور روادار ہوگئے ہیں کہ وہ ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اور احتساب کے عمل کو بھی متاثر کئے بغیر ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور ساتھ چلنے پر تیار ہوگئے ہیں اور وہ مل بیٹھ کر ملک کو بحران سے نکالنے کے خواہاں ہیں یہ گاڑھی ضروری قانون سازی کے دنوں ہی میں چھنتی ہے یا بعد میں ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ جاتی ہے اور بوتل میں بند جن وقتی مصلحت اور خاموشی کے بعد پھر نکل آتا ہے۔آنے والے حالات ساری چیزوں کا احاطہ اور تشریح کیلئے کافی ہوں گے۔ جو بھی صورتحال بنے اس کے سیاسی معاملات اور خاص طور پر رائے عامہ میں تبدیلی لانے کیلئے ان کی اہمیت مسلمہ ہوگی۔

متعلقہ خبریں