قوم کے اعصاب پر بلا سبب کا بوجھ

قوم کے اعصاب پر بلا سبب کا بوجھ

پانامہ کیس میں عدالتی احکامات پر جے آئی ٹی انکوائری کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کے حتمی مرحلے کے قریب ہے۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات کی پٹاری سے کیا نکلتاہے اس کا تو کسی کو درست اندازہ بھی شاید نہ ہو لیکن باہر اورمیڈیا میں ابھی سے عجیب و غریب اندازے اور بیانات اس کے باوجود بھی دئیے جا رہے ہیں کہ قبل ازیں بھی سپریم کورٹ میں اس مقدمے کے حوالے سے اس طرح کی ہنگامہ خیز صورتحال بنائی گئی مگر فیصلہ بہر حال قانون کے مطابق ہی آنا تھا اس بار بھی ایسا ہی ہونا حقیقت ہے باقی سب اندازے اور سیاست بازی ہے قانونی طور پر معاملے کا حتمی فیصلہ ابھی دور ہے مگر ہر دو جانب کے سیاسی عناصر اس سے جو ہنگام برپا کئے ہوئے ہیں اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ گویا جے آئی ٹی کی رپورٹ جیسے فیصلے کااعلان ہو اس کے فیصلہ کن ہونے کا تو اندازہ غلط نہیں لیکن اس حوالے سے مسلم لیگ(ن) نے جو فضا بنائی ہوئی ہے اور جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے اسے نادانی اور جذباتیت اس لئے قرار دینا مناسب نہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے جغادری ٹھینگا دکھا کر گھٹنا مارنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اگر ان کے بیانات کے تضادات ہی کا جائزہ لیا جائے تو اس ہنگام کو کھیل کا حصہ سمجھنے میں دقت نہیں ہوتی۔ مسلم لیگ کے بعض نا طقین تو حکومت کی رخصتی کے مبینہ خطرات آئندہ کی منصوبہ بندی اور مخالفین کے کردار اور ان کی اس مقدمے سے سیاسی دلچسپی کے معاملات کو موضوع بناتے ہیں تو دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف جے آئی ٹی کے حوالے سے تو حسب سابق خاموش ہیں اور برد باری کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی دانست میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں جس سے یہ امر اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں کسی سیاسی و حکومتی تبدیلی کاامکان کم ہی ہے۔ معاملے پر صرف مسلم لیگی رہنما ہی نہیں بولتے بلکہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کاتو یہ مستقل موضوع بن چکا ہے اور اس حد تک کہ کسی حادثے پر رد عمل دیتے ہوئے بھی وہ پانامہ کیس کا حوالہ نہیں بھولتے۔ ان کی دانست میں پانامہ کیس کا فیصلہ تبدیلی کا باعث ہوگا جو سیاسی تبدیلی سے تعبیر سمجھا جاتا ہے۔ عوامی مسلم لیگ کے سر براہ شیخ رشید کی پیشگوئیاں غلط ثابت ہونے کے باوجود پر اثر اس لئے ہیں کہ ان کے الفاظ و بیان کی قوت میں امید افزائی کی کیفیت بھرپور ہوتی ہے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے تازہ پیش گوئی یہ کی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف پاناما لیکس کے فیصلے سے قبل ہی اسمبلیاں تحلیل کرسکتے ہیں۔نجی ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف کو معلوم ہوگیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)کی رپورٹ آنے کے بعد سپریم کورٹ ان کے خلاف فیصلہ سنائے گی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر بھی اعتبار کرنا اور مشورہ لینا چھوڑ چکے ہیں اور نااہلی کی صورت میں اسمبلیاں تحلیل کرنا ہی ان کے پاس آخری راستہ ہوگا۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے پیش گوئی کی کہ اگلے 6 ہفتے ملکی سیاست کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور اس دوران عدالت وزیراعظم کو نااہل قرار دے دے گی۔ان کا کہنا تھا کہ نااہلی کے بعد آئین میں گنجائش ضرور ہے کہ مسلم لیگ (ن)ہی اپنا وزیراعظم منتخب کرسکتی ہے اور اگرچہ اس عہدے کے لیے حمزہ شہباز شریف اور کیپٹن صفدر ان کے بہت قریبی ہیں، مگر نواز شریف ایسا پھر بھی نہیں ہونے دیں گے۔خیال رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے بیرون ملک کاروباری معاملات کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)کی تحقیقات اب اہم اور اختتامی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ جے آئی ٹی آئندہ ہفتے تک تحقیقات کا عمل مکمل کرلے گی جس کے بعد حتمی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرکے 10 جولائی تک سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ کو جمع کروائی جائے گی۔دریں اثناء مسلم لیگ(ن) نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ شیخ رشید کے اس بیان پر از خود نوٹس لے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دس دن بعد حکومت جانے والی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ درست تناظر یہی ہے کہ محولہ تمام بیانات اور اندازوں کو سیاسی قرار دیا جائے اور درحقیقت معاملات بھی ایسے ہی ہیں۔ سیاستدانوں کے اس طرح کی فضا بنانے کی تو سمجھ آتی ہے لیکن عدالت کا طرفین کی جانب سے جس میں میڈیا کو بھی شامل کرنا غلط نہ ہوگا کے تبصروں تنقید اور اندازوں کے اظہار پر نہ تو جے آئی ٹی عدالت سے شکایت کرتی ہے اور نہ ہی عدالت اس ضمن میں کوئی حدود و قیود اور طریقہ کار طے کرتی ہے۔ اگر عدالت اس ضمن میں کوئی ہدایت جاری کرنا مناسب سمجھتی تو اس سے ملک میں پھیلی ہیجانی کیفیت شاید نہ ہوتی۔ جو فضا اس وقت طاری ہے اس فضاء کا سب سے بڑا نقصان ہی یہ ہے کہ اس سے وہ بہت سے ملکی و غیر ملکی معاملات جن پر غور و خوض اور عوام کی توجہ اور رد عمل کی ضرورت ہے اوجھل ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو معاملہ عدالت میں ہو یا جس کا فیصلہ عدالت سے آچکا ہو ان کو موضوع بحث بنانے کی بجائے ان کو تسلیم کرنے کی روایت ڈالنی چاہئے ۔ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کی اشاعت کے بعد اس کے مندرجات سے پنڈورا باکس کھل گیا ہے اس میں بھی عدالت کا فیصلہ اور ماحول زیر بحث آگیا ہے۔ اسی طرح پانامہ کیس کا فیصلہ آجائے اور ماحول و روایت یہی رہی تو اس پر بھی تبصروں اور تنقید یہاں تک کہ احتجاج غیر متوقع نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے معاشرے کی بہت بڑی خامی ہے کہ ہم معاملات و مسائل کو متعلقہ فورم اور طریقہ کار کے مطابق طے کرنے کی بجائے بر خلاف توقع باندھتے ہیں اور اسے موضوعات بناتے ہیں جن پر سنجیدہ معاشروں میں بات کرنے کو مناسب نہیں گردانا جاتا کجا کہ گرم موضوع بنا کر بحث و مباحثہ میں مہینے ضائع کردئیے جائیں۔

اداریہ