Daily Mashriq


تعلقات کی خواہش بھی اور بد اعتمادی بھی ؟ 

تعلقات کی خواہش بھی اور بد اعتمادی بھی ؟ 

افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی عجب منطق واستدلال کے ساتھ پاکستان سے مصالحت پر زور دے رہے ہیں اگر وہ شک و شبہ سے بالا تر ہو کر اعتماد پر مبنی ذہن اورارادے کے ساتھ پاکستان سے اچھی ہمسائیگی اور تعلقات قائم کر نا چاہیں تو ان کو کسی مشکل کے پیش آنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہو تا۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے قیام کا خواہاں ہے مگر یہ افغان حکمرانوں کے شکوک و شبہات پر مبنی رویہ اور بھارت پر اعتماد کا شاخسانہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات بہتر ہونے کی بجائے بگڑتے جارہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت اگر پاکستان کو اپنے ملک سے مستقل اسلامی ممالک اور پڑوسی کی حیثیت دینے کے ساتھ بھارت سے بھی تعلقات بہتر رکھے تو کسی کو اعتراض نہ ہوگا۔ یہ افغانستان میں بھارت کا اثر و رسوخ اور بھارت کو افغانستان میں پاکستان کے مقابلے میں غیر ضروری اہمیت بلکہ پاکستان کے خلاف سہولیات نہ دی جائیں اور دونوں ملکوں کے درمیان توازن پر مبنی تعلقات رکھے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں اعتماد اور استحکام نہ آئے۔ دوسری بڑی وجہ افغانستان کا اپنے داخلی معاملات میں پاکستان پر مداخلت کا الزام لگانا ہے۔ پڑوسی ممالک کے درمیان شکوہ شکایات کی تو گنجائش نکلتی ہے لیکن دوسرے ملک پر ہر الزام ٹھونسنے اور الزام تراشی پر مبنی رویہ سے تعلقات پر منفی اثر پڑنا فطری امر ہے ۔ گو کہ اشرف غنی کے بیانات اور دھمکیاں پرانی بات نہیں مگر اس کے باوجود پاکستان کی جانب سے وسعت قلبی کا مظاہرہ ہی مصلحت ہوگی لیکن اس کیلئے اشرف غنی کو ماضی کے برعکس کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس بارے دورائے نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات ہی میں دونوں ممالک کا مفاد پوشیدہ ہے اور دونوں ممالک کو چاہیئے کہ وہ آپس کے تعلقات میں بہتری لانے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھیں ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ افغان حکام کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوگا اور ان کا ازالہ کر کے پاکستان کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات کے قیام پر سنجید گی سے توجہ دیں گے ۔ 

خواتین انٹر نیٹ کا استعمال احتیاط سے کریں

پاکستان میں انٹر نیٹ ، ویب سائیٹس موبائل میسجز اور بلاگس کے استعمال کے دوران چونتیس فیصد خواتین کو ہراساں کرنے کی رپورٹ اور ستر فیصد خواتین کو سماجی رابطو ں کی ویب سائیٹ پر تصاویر اپ لوڈ کرتے وقت خوف کا شکار ہونا روایتی معاشرے کے تناظر میں کم شرح نظر آتی ہے ۔ رپورٹ کی صداقت پر کسی شبے کے اظہار کی بجائے اگر روایتی معاشرے کی صورتحال کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو اس امر کا سو فیصد امکان ہے کہ نیٹ استعمال کرنے وا لی تقریباًہر خاتون کو ہراساں کرنے کی سعی کا سامنا کرنا پڑ ے بہر حال خواتین کو نیٹ کی سہولت سے دور رہنے کا تو مشورہ نہیں دیا جا سکتا البتہ ان کو اس کے استعمال سے قبل ہر طرح سے آگاہی اور محفوظ طریقہ کار سے آگاہی کا مشورہ دینا مناسب ہوگا۔ اگر ناگزیر نہ ہو تو سوشل میڈیا پر تصاویر کی اشاعت کے شوق سے بھی احتراز خود خواتین کے مفاد میں ہوگا۔ رابطے کے دیگر ذرائع کا استعمال احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ کیا جائے تو ان کی افادیت اور عدم احتیاط کے نقصانات کے مظاہر کسی سے پوشیدہ امور نہیں ۔ طالبات کو سکولوں کا لجوں اور یونیورسٹیز میں اس ضمن میں خاص طور پر احتیاطی اور حفاظتی تدابیر سے آگاہی پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ احتیاط کے باوجود کسی چھوٹی غلطی سہو یا بلا وجہ کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑے تو بجائے اس کے کہ طالبات اور خواتین اسے چھپا کر پانی سر سے اونچا ہونے دینے کی غلطی کریں اگر وہ اس کی شکایت اپنے والدین بھائیوں یا کسی قریبی عزیز کی مدد سے قانون کا سہار ا لیں اور خاندان کے با اعتماد افراد کے علم میں لائیں تو نوبت خرابی بسیا ر تک نہ پہنچے گی۔ بہر حال اس کا انحصار اعزہ اور اہل خاندان پر بھی ہے کہ وہ الٹا الزام دینے کی بجائے کسی معمولی غلطی سہو اور بلاوجہ مشکل کا شکار ہونے والی بہن اور بیٹی کی مدد کر کے اسے تحفظ دینے کا رویہ اپنائیں ۔ ایسا کر کے ہی کسی بڑی مشکل سے بچنا ممکن ہوگا اور یہی مناسب طریقہ بھی ہے ۔

متعلقہ خبریں