تین ممکنہ اور متبادل وزرائے اعظم

تین ممکنہ اور متبادل وزرائے اعظم

سیاست میں ہمیشہ مفاہمت کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ سیاست کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر مبنی ہے ۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کی خبریں زبان زدِعام ہیں زبان خلق کو نقارہ خداکہا جاتا ہے۔کئی مرتبہ حکمران طبقات معاشرے کے بدلتے ہوئے رجحا نات کا بروقت ادراک نہیں کرپاتے ایک بڑے لیڈر کو کن اخلاقی اور سیاسی صفات کا حامل ہونا چاہیے اور بر وقت فیصلوں کو کس طرح یقینی بنانا چاہیے ۔نر گسیت اور نااہلی کے حامل رہنما اس بصیرت سے ہی محروم ہوتے ہیں ۔ اب جب کہ موجودہ حکومت کی کمزوری اور ضعیفی روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے داخلہ اور خارجہ محاذوں پر مسلسل ناکامیاں اس حکومت کا مقدر بن چکی ہیں اداروں کا تصادم اور معاشی اعشاریے کوئی مثبت تاثر نہیں دے رہے ، حکومت اخلاقی طور پر بحران در بحران کی زد میں ہے ، علاقائی اور عالمی سطح پر مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور خارجہ پالیسی کے بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے متبادل راہنمائوں کے ناموں پر غور و خوض شروع ہو گیا ہے تو اس کے تناظر میں آج کے کالم میں ہم پاکستان مسلم لیگ نواز کے انتخابی قلعے یعنی پنجاب سے ممکنہ وزرائے اعظم کا سرسری اور تنقیدی جائزہ لیتے ہیں ، سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، اور الیکٹرانک میڈیا پر تین اہم نام جو ابھر کر سامنے آ رہے ہیں ان کا اہم انفرادی جائزہ لینے کی کوشش کریں گے متبادل ناموں میں مریم نواز شریف ، شہباز شریف ، بیگم کلثوم نواز شریف اور اسحاق ڈار کے نام بھی آئے ہیں لیکن فی الوقت ہم قومی اسمبلی کے اندر موجود تین ناموں کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ''تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی ''کے شہکار اور ویژن 2020ء کے معمار پروفیسر احسن اقبال کا نام بھی متبادل اور ممکنہ وزرائے اعظم کی فہرست میں شامل ہے ۔ پانامہ کیس کے حوالے سے پیدا ہونے والے سیاسی بھونچال اور فضا کو پیش نظر رکھ کر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے احسن اقبال میاں نواز شریف کے اہم ساتھی ہیں۔اپنی پروفیسری ، منصوبہ بندی ، دانشمندی کی وجہ سے پورے ملک میں جانے جاتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے اہم دانشور اور دماغ بھی تصور کئے جاتے ہیں ۔ سیاست اور طاقت کی راہداریوں میں منشور ، اخلاقیات، رکھ رکھائو اور soft power کی پاکستانی سیاق و سباق میں کم اہمیت ہوتی ہے لیکن ان عوامل کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی مشکل امر ہے ۔ احسن اقبال کے ممکنہ متبادل وزیر اعظم بننے کے راستے میں واحد رکاوٹ ان کا ماضی میں جماعت اسلامی سے تعلق بنتا ہے ان کی والدہ جماعت اسلامی کی ایم این اے رہی ہیں۔ لیکن وہ اپنی جماعت کے ساتھ رومانس کو مسلسل وفاداری کی وجہ سے دھو چکے ہیں ، اپر پنجاب سے بطور electableوہ اچھا اور مناسب انتخاب ہو سکتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان ایک سمجھدار اور عملیت پسند سیاست دان ہیں اپنے جذبات اور احساسات پر مکمل قابو رکھنے اور سپاٹ چہرے کے حامل چوہدری نثار ٹی وی ٹاک شوز میں خود نمائی کے برعکس طویل پریس کانفرنسوں پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ اقتدار کے ایوانوں میں راولپنڈی ڈویژن کے بلا شرکت غیرے مالک رہے ہیں۔ لیکن اپنی انا پسندی کی وجہ سے وزیر اعظم نواز شریف کے گرد کسی اور کو دیکھنے کے روادار نہیں ہیں چوہدری نثار امریکہ مخالف سیاست دان کے روپ میں قومی جذبات کی تسکین بھی کرتے رہے ہیں۔ وہ اپنی شہرت پر حرف نہیں آنے دیتے ۔ وہ اپنے آپ کو حکمران خاندان کے لئے ناگزیر تصور کرتے ہیں لیکن کچن کا بینہ کے کچھ ارکان کے ساتھ بول چال بند ہونے ، پانامہ پر خوموشی اختیار کرنے، شہباز شریف کے ساتھ extraیارانہ نبھانے اور وزارت عظمیٰ کے سنجیدہ امیدوار بننے اور اقتدار سے بے اعتنائی کا تاثر دینے ، موبائل فون جیسی سہولت سے بظاہر استفادہ نہ کرنے اور نواز شریف کے دفاع میں غیر جانبدار رہنے کی وجہ سے وہ تکنیکی طور پر وزیراعظم نہیں بن سکیں گے ۔ متبادل وزیر اعظم کا فیصلہ اگر نواز شریف نے کرنا ہے تو پھر یہ قرعہ چوہدری نثار کے حق میں نہیں نکلنے والا یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اسحاق ڈار کی قرابت اور خواجہ آصف کی مہارت اور ذہانت بھی چوہدری نثار علی خان کے سیاسی عزائم میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ چوہدری نثار علی خان سردست وزیر اعظم نواز شریف کی good bookمیں بوجہ نہیں ہیں۔ اور وزارت عظمیٰ کا فیصلہ ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے نہیں کرنا بلکہ یہ فیصلہ میاں محمد نواز شریف خود کریں گے اور وہ اس فیصلے میں اپنے مزاج کے عین مطابق بہت بڑا سر پرائز بھی دے سکتے ہیں پنجاب کے خطہ پوٹھوہار کی چوہدری نثار علی خان نے بھر پور نمائندگی کی ہے اس خطہ سے بطور وزیر اعظم نامزدگی ان کا حق اور استحقاق بھی بنتا ہے۔ 

بہاولپور جنوبی پنجاب کے مرد آہن اور مسلسل پانجویں دفعہ ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے والے میاں ریاض حسین پیرزادہ ایک ایسا سیاسی براعظم ہیں جس کا ننانوے فیصد حصہ ابھی تک ان چھوا پڑ اہے۔ پیرزادہ بنیادی طور پرجذبوں اور تہذیبوں کی لطافت کے پر ستار ہیں ایک تہذیب اور ثقافت کے نمائندہ کردار ہیں۔ رواداری اور وضعداری کے علمبردار ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو ، میاں محمد نواز شریف، سمیت تمام اہم سیاسی اکابرین کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ اقتدار کے پرانے کھلاڑی ہیں لیکن ادب احترام اور سیاسی وضعداری ان کی سرشت میں شامل ہے۔ پاکستان آج ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے ۔ روس، چین ، نئی علاقائی حلقہ بندیوں اور اتحاد و تعاون کے ضمن میں پاکستان کو شاید ریاض حسین پیرزادہ جیسے لوگوں کی راہنمائی کی ضرورت ہے جو قوموں کے عروج و زوال پر نظر رکھتے ہیں اور تاریخ کے پہیے کو آگے لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔بلاشبہ ریاض حسین پیرزادہ قوموں کے عروج و زوال کے وسیع مطالعے کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مئوثر اور جمہوری آواز ہیں ۔

متعلقہ خبریں