Daily Mashriq

اسلامی قیادت صفات اور ذمہ داریاں

اسلامی قیادت صفات اور ذمہ داریاں

میں جب بھی تاریخ اسلامی کے اوراق بنظر مطالعہ پلٹتا ہوں تو اس میں خلفائے راشدین سے لے کر آج تک کے حکمران اور مسلمان ممالک اور ریاستوں کی قیادت کے خدوخال سامنے آتے ہیں؟ تو فطری طور پر خود بخود ایک تقابلی مطالعہ بن جاتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ طیبہ اور اس پاک ریاست سے ملحق علاقوں اور خطوں کو اسلامی ریاست کے اصولوں کے مطابق چلانے کے لئے والی' عامل اور حکام (گورنر وغیرہ منتخب کرکے بھیجاکرتے تھے۔ ان کے انتخاب کے لئے پہلی شرط تقویٰ (خوف خدا) اور دوسری شرط اہلیت' صلاحیت اور مہارت ہوتی تھی۔ ہر کام کے لئے اہل اور مہارت کے حامل شخص کو اس کی صلاحیتوں کے مطابق مالی اجرت ( مشاہرہ اور تنخواہ) بھی مقرر فرماتے اور ان کو رہنما اصول عطا فرماتے اور پھر ان عمال کی مصروفیات اور کارکردگی کی نگرانی فرماتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس دنیا سے رخصت ہو رہے تھے تو حضرت ابو بکر صدیق کے حوالے سے قیادت کی وصیت لکھواتے رہ گئے اور اس میں حکمت اور مشیت الٰہی یہ تھی کہ آئندہ زمانوں میں مسلمان حالات و ضروریات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ اصولوں کے مطابق کوئی مناسب نظام حکومت قائم کروا کر مسلمان عوام اور ریاست کے معاملات احسن طریقہ پر چلائیں۔ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر نظام حیات ہے لہٰذا اس کے اصولوں (قرآن و سنت) میں بدرجہ اتم یہ گنجائش موجود ہے کہ ہر دور اور ہر قوم و ملک اور علاقے کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق نظام اور طریقہ کار وضع کیا جائے۔ خلفائے راشدین نے اس اصول پر عمل کرتے ہوئے نظام خلافت کے تحت حکومتیں اور ادارے قائم کئے اور اس سلسلے میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کا دور مبارک بے مثال ہے۔ اسی دور میں مختلف امور کی بطریق احسن انجام دہی کے لئے مختلف دیوان قائم ہوئے اور یہی ادارے آج کے جدید ریاستی اداروں کے لئے رہنما اصول قرار پائے۔ امام الحرمین علامہ جوینی لکھتے ہیں کہ اسلامی سربراہ ریاست و مملکت کے لئے تقویٰ و ورع (خشوع و خضوع) دونوں لازمی ہیں کیونکہ اسلامی فقہ کے مطابق جب چند روپوں کے معاملے میں فاسق آدمی کی گواہی قبول نہیں ہوتی تو تقویٰ اور خوف خدا سے خالی ایک شخص کو کسی مسلمان ملک وریاست کی اتنی بڑی ذمہ داری کیسے سونپی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے اسلامی تاریخ میں خلفائے راشدین کا ریاستی اور نجی امور میں تقویٰ اور خشیت الٰہی اس انداز کی ہے کہ اگر بعد کی مسلمان قیادتیں ان پر پچاس فیصد پر عمل پیرا رہ جاتیں تو امت کے معاملات یوں نہ بگڑتے۔ اس سلسلے میں حضرت عمر فاروق کا تقویٰ اپنی مثال آپ ہے۔ اس لئے تو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاروق اعظم کے ایمان لانے کے لئے دعا فرمائی تھی۔ '' اے اللہ! حضرت عمر بن خطاب کے ذریعے خاص اسلام کو قوت عطا فرما۔'' آپ کے دور خلافت کی یہ بات تو ضرب المثل بن چکی ہے کہ'' دریائے فرات کے کنارے پیاس سے ایک کتے کی مرنے کی ذمہ داری عمر پر ہوگی''۔ تقویٰ کا لازمی نتیجہ اخلاق فاضلہ ہے جو اسلامی حکمرانوں کے لئے لازمی ہے۔ اخلاق کی تفصیل بہت طویل ہے لیکن اس کا عرق و نچوڑ یہ ہے کہ مسلمان حکمران صادق اور امین ہو اور عدل و احسان کے ساتھ امور مملکت سر انجام دینے والا ہو۔ اس حوالے سے عمر بن عبدالعزیز کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے قابل ہے '' سر براہ اور حکمران کی مثال بازار کی طرح ہوتی ہے۔ بازار میں جس چیز کی طلب ہوتی ہے خرید و فروخت کے لئے وہی چیز لائی جاتی ہے۔ اگر بازار میں (حکمران کے ہاں) اعلیٰ اخلاقیات و اقدار' صداقت امانت' عدل و انصاف کی مانگ اور طلب ہوگی تو عوام اور رعایا یہی چیزیں لائیں گے ورنہ جھوٹ' ظلم' خیانت اور دیگر اخلاق رزیلہ کا دور دورہ ہوگا۔حضرت عمر فاروق کے عہد میں ایک والی و حاکم نے اپنے صوبے سے وافر مقدار میں بیت المال کے لئے اموال بھیجے تو امیر المومنین نے فرمایا بیت المال کی طرف زیادہ مال بھیجنا امانت و صداقت کا ثبوت ہے۔ مجلس کے شرکاء میں ایک صاحب نے کہا' امیر المومنین آپ خود امین ہیں اس لئے لوگ خرد برد کا سوچ بھی نہیں سکتے۔امام ماوردی نے لکھا ہے کہ عوام اپنے حکمرانوں کی تقلید کرتے ہیں اور ان کے اخلاق و معمولات سے متاثر ہوتے ہیں۔ بادشاہ اور حکمران جس طرح کے اخلاق اور ذوق و شوق کے حامل ہوتے ہیں عوام بھی ان ہی چیزوں کا شغل رکھتے ہیں۔ حجاج بن یوسف کے دور میں لوگ صبح کو ایک دوسرے سے پوچھتے کہ گزشتہ شب کتنے سر قلم ہوئے۔ ولید بن عبدالملک تعمیرات محلات اور باغات کا شوقین تھا۔اس کے دور میں عوام ان کاموں میں مشغول رہے۔ سلیمان بن عبدالملک نکاح کرنے اور کھانوں کا شوقین تھا۔ اس دور میں عوام نے چار نکاحوں کے علاوہ باندیاں رکھنا اور کام لب و دہن کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا تھا۔ اور پھرجب وہ صاحب یقین اسی پر فتن دور میں آیا تو لوگ دین کی طرف یوں مائل ہوئے کہ گویا خلفائے راشدین کا دور واپس آیا۔ یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز تھے۔آج کے دور کے مسلمان حکمرانوں کے مشاغل اور اخلاق و معمولات ملاحظہ کیجئے اور پھر عوام پر نظر ڈالیں۔ عالم اسلام کے حکمران ایک دوسرے کے ساتھ الجھے ہوئے اور عدم تعاون اور عدم اتحاد کا شکار ہیں۔ عوام بھی مختلف اقسام کی فرقہ واریت میں مبتلا ہیں۔ حکمران ( الا ماشا ء اللہ) امین و صادق نہیں رہے تو مسلمان ریاستوں میں ہر ادارہ کرپشن کاشکار ہو کر زوال پذیر ہو رہا ہے۔

اداریہ