گنج ہائے گراں مایہ

گنج ہائے گراں مایہ

موت سے کس کو رستگاری ہے 

آج وہ کل ہماری باری ہے
موت کا ذائقہ تو ہر ذی روح نے چکھنا ہے سو شریف فاروق نے بھی گزشتہ روز طویل علالت کے بعدجان جان آفریں کے سپرد کر دی ، یہ زندگی بھی عجیب چیز ہے ، بقول شخصے روکر گزار یا اسے ہنس کر گزار دے ، ہنس کر گزار نے کا مقصد یہ ہے کہ اپنی زندگی میں ایسے کام کرکہ بعد میں تجھے لوگ نیک نامی سے یا د رکھیں۔ شریف فاروق بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل تھے جن کی یادیں ہمیشہ روشن رہیں گی۔ انہوں نے ایک بھر پور زندگی گزاری ، تحریک پاکستان کے ایک سرگرم اور فعال کارکن کی حیثیت سے انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے اس جلسے میں بھی شرکت کی جس میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی وہ تحریک آزادی کے حوالے سے جب اپنی یادوں کے دریچے کھول کر ان حالات وواقعات پر روشنی ڈالتے جو بر صغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی راہ میں قربانیاں دینے کے حوالے سے ہماری تاریخ کا حصہ ہیں تو محفل میں شریک لوگوں کی آنکھیں ترہو جاتیں ، تحریک پاکستان کے حوالے سے وہ ایک بیش بہا خزینہ ذہن میں رکھتے تھے اور گاہے گاہے اس کا اظہار بھی کرتے ۔ ان کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ
مقدو ر ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئییم
تونے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے
شریف فاروق سے اہل پشاور کا تعارف 1951ء میں اس وقت ہوا جب انہوں نے لاہور سے آکر روزنامہ شہباز کی ادارت سنبھالی ، وہ نہایت فعال اور سرگرم صحافی کے طور پر جلد ہی یہاں کے سیاسی ، صحافتی اور ادبی حلقوں میںنمایا ں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ، وہ نہ صرف اعلیٰ پائے کے صحافی تھے بلکہ ادب کے شعبے میں بھی بہت فعال رہے ، انہوں نے آتے ہی روزنامہ شہباز کو نئے رنگ روپ میں ڈھالا اور پشاور کے ادبی حلقوں کو بھی اس دور میں روزنامہ انجام اور روزنامہ شہباز نے اپنی تخلیقات کو عوام کے سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا ، روزنامہ شہباز کے ساتھ ان کی وابستگی کا پہلا دور1962ء تک رہا ، جس کے بعد وہ روزنامہ نوائے وقت کے ساتھ وابستہ ہوگئے ، انہوں نے نوائے وقت کے لندن بیورو کے چیف کے طور پر بھی کچھ برس انگلستان میں گزارے ، بعد میں وہ راولپنڈی میں نوائے وقت کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے رہے ، اور قسمت انہیں ایک بار پھر پشاور لے آئی ، جہاں کچھ عرصہ بعد انہوں نے روزنامہ جہاد کے نام سے اپنا ذاتی اخبار جاری کیا۔اس سے پہلے وہ لاہور سے ہفت روزہ جہاں نما جاری کر چکے تھے جسے ازاں بعد روزنامہ میں تبدیل کر لیا ، پشاور سے روزنامہ جہاد کو کامیابی سے چلانے کے بعد انہوں نے ایبٹ آباد سے ایک اور روزنامہ اتحاد کا اجراء کیا جبکہ اسلام آباد سے بھی روزنامہ جہاد کا اجراء کیااور ان اخبارات کے وہ تادم مرگ بطور چیف ایڈیٹر تھے ۔ انہوں نے نہ صرف بطور صحافی ایک بھر پور زندگی گزاری بلکہ ملک میں صحافتی ٹریڈیونینز کو فعال بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا اور مالک ومدیر اخبارات کی حیثیت سے انہوں نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کی کامیابی میں بھی اہم کردار ادا کیا ، شعیب بن عزیز نے بالکل درست کہا ہے
کوئی رو کے کہیں دست اجل کو
ہمارے لوگ مرتے جارہے ہیں
بانئی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے حوالے سے جناب شریف فاروق نے جو کتابیں لکھیں وہ نہ صرف تحریک پاکستان کیلئے ان دونوں ہستیوں کی جدوجہد کی ایسی دستاویز ہیں جو ان دونوں عظیم شخصیات کی زندگی اور کارناموں پر روشنی ڈالتی ہیں بلکہ دونوں کتابیں آنے والے دور میں تحریک آزادی کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کیلئے انتہائی اہم معلومات کا خزانہ لئے ہوئے ہیں۔ ان کی کتاب ، حضرت قائد اعظم ، بر صغیر کا مرد حریت جو نہایت ضخیم کتاب ہے ، پر جب میں نے کالم لکھا اور تبصرہ کر کے کتاب کی اہمیت پر اظہار خیال کیا تو انہوں نے فون کر کے نہ صرف میرا شکریہ ادا کیا ، کالم پر پسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ اس بات پر حیرت کا اظہار کئے بناء نہ رہ سکے کہ انہوں نے تو مجھے اپنی یہ کتاب بھیجی ہی نہیں تھی تو میں نے کتاب کہا ں سے حاصل کر کے اس پر تبصرہ کر دیا ، اور اگلے ہی روز کتاب کا ایک نسخہ مجھے عنایت فرما دیا ، جو اب بھی میرے پاس محفوظ ہے کیونکہ یہ ایک اہم دستاویز ہے جو بطور ریفرنس استعمال کی جا سکتی ہے ، گزشتہ تقریباً پندرہ بیس برسوں سے شریف فاروق سے ملاقاتیں پشاور کی ادبی زندگی کا سرمایہ ہیں ، مرحوم پر وفیسر خاطر غزنوی کے دولت کدے پر منعقدہ ماہانہ ادبی نشست میں جو ان کی تنظیم سنڈیکیٹ آف رائیٹرز کے تحت ہوتی ، شریف فاروق لازمی طور پر شامل ہوتے اور اپنی یادداشتوں کے پھول کھلاتے ۔ خاطر کی رحلت کے بعد جب سنڈیکیٹ آف رائیٹر ز کی سرپرستی ڈاکٹر خالد مفتی نے قبول کر کے عبادت ہسپتال کے حق بابا آڈیٹوریم کے دروازے سنڈیکیٹ کیلئے کھولے تو شریف فاروق وہاں بھی اکثر تقریبات کی صدارت کیلئے تشریف لاتے اور محفلوں کی رونق بڑھاتے ۔ حکومت پاکستان نے گزشتہ برس ان کی صحافتی خدمات کے صلے میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا تاہم ان کی خدمات کا تقاضا ہے کہ انہیں ہلال امتیاز سے نوازا جائے ۔
خدارحمت کندایں عاشقان پاک طینت را

اداریہ