Daily Mashriq


محنت

محنت

آپ کام سے کیوں جی چراتے ہیں؟یہ ایک ایسا سوال ہے جسے سن کر بہت سے لوگ پریشان ہو جاتے ہیںلیکن اس بات کو ماننے کے لیے کوئی بھی تیار نہیںہوتا کہ وہ واقعی کام چور ہے اب ایسا بھی نہیں ہے کہ سارے لوگ کام چور ہوتے ہیں لیکن اسے آپ ہماری بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے یہاں کام سے جی چرانے والی مخلوق اچھی خاصی تعداد میں پائی جاتی ہے۔ ہمیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری بنیادی تربیت میں کوئی کمی ہے جو ہم اس قسم کے رویوں کا شکار ہوجاتے ہیںجاپانیوں اور چینیوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ کام کرتے ہیں جاپانی تو اتنا زیادہ کام کرتے ہیں کہ وہاں بہت سے لوگ کام کی زیادتی کی وجہ سے اس دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں!کہتے ہیں زیادتی کسی بھی چیز کی اچھی نہیں ہوتی اور پھر ایسی کون سی تباہی آ پڑی ہے کہ بس کام ہی کرتے چلے جائو ہر شخص کے حصے میں ساٹھ ستر برس کی زندگی ہی آتی ہے کچھ تو اس سے بھی پہلے رخصت ہوجاتے ہیں اور کچھ کو جانے میں تاخیر بھی ہوجاتی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایک دن اس پتنگ نے کٹنا ہوتا ہے۔ مناسب رویہ تو یہی ہے کہ اپنے حصے کا کام اچھے طریقے سے کیا جائے سستی اور کاہلی سے دامن بچایا جائے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کیا جائے کام سے جی چرانے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ ذمہ داری قبول نہیں کرتے صاحب کے آفس میں ڈھیروں فائلیں میز پر دھری رہتی ہیں۔ سائل بیچارے اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ ان کی فائل ضروری مراحل طے کرکے اپنی منزل مقصود تک پہنچے لیکن صاحب دستخط کرنے کی ذمہ داری سے گھبراتے ہیں۔ بہت سے دستخط تو اس لیے بھی نہیں کیے جاتے کہ فائل کے ساتھ مٹھائی کی رقم نہیں ہوتی !یہ تو ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں مختلف حیلے بہانوں سے غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو کام کی طرف آتے ہی نہیں ہیں بس کھانا پینا اور آرام کرنا ان کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے۔ انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہوتا کہ کام ایک بہت بڑی نعمت ہے سست اور کاہل انسان کسی کام کا نہیں ہوتا اس کی زندگی مقصد سے محروم ہوتی ہے ہمارے یہاں اداروںکی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ان میں کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں جنہیں ہر حال میں اپنا ذاتی مفاد عزیز ہوتا ہے۔ وہ اپنے چند روپوں کے ذاتی فائدے کے لیے ادارے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اداروں میں بہت سے ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو محنت سے کام کرتے ہیں لیکن ان کے ساتھ ہی ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو ان کی مدد نہیں کرتے نہ صرف مدد نہیں کرتے بلکہ ان کی راہ میں روڑے بھی اٹکاتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے بہت سے ادارے ناکام ہوتے چلے جارہے ہیں ہم اس وقت بڑے عجیب ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک ایسا ماحول جس میں برائی کو اچھا سمجھا جاتا ہے اور اچھائی کی مذمت کی جاتی ہے۔ مذاق اڑایا جاتا ہے یوں کہیے گھوڑے اور گدھے کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جارہا ہے۔ کام کرنے والوں کی کوئی قدر نہیں ہے اور جو کام نہیں کرتے ان کی مذمت نہیں کی جاتی اس حوالے سے تو ہمارے معاشرے میں ایک جملہ بہت مقبول ہے'' اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا''یقینا اس قسم کا رویہ بہت خطرناک ہے یہ صورتحال اس وقت جنم لیتی ہے جب ہم اپنے ارد گرد اپنے رفقائے کار کو کام نہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور جب ان کے کام نہ کرنے کی شہرت ہوجاتی ہے تو افسران بالا انہیں ہر قسم کی ذمہ داریوں سے فارغ کردیتے ہیں اور اسی ادارے میں جو محنت سے کام کرنے والے ہوتے ہیںان پر مزید ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں۔یہ ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ ہمارے اداروں میں کام کرنے اور نہ کرنے والوں کے لیے ایک جیسی مراعات ہیں!مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کچھ عالمگیر سچائیاں ہوتی ہیں جنہیں جھٹلانا ہم میں سے کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہوتا محنت سے کام کرنا ایک عالمگیر سچائی ہے اور اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا دنیا میں جن اقوام نے ترقی کی ہے ان میں محنت کا جذبہ پورے عروج پر نظر آتا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں کردار کا بحران بہت زیادہ ہے بحیثیت مجموعی کردار نظر نہیں آتا اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم تن آسانی کا شکار ہیں ہم اپنے لیے ہمیشہ شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں یہ محنت ہی کی کرشمہ سازی ہے کہ ہم اپنے وقت کی حقیقی قدروقیمت سے آگاہی حاصل کرتے ہیں وقت کی اہمیت کا احساس ہمارے دلوں میں اجاگر ہوجاتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم محدود وقت میںاپنا کام مکمل کرنے کا ہنر سیکھ جاتے ہیں اس کے علاوہ ہم اپنے وسائل کو کام میں لانا سیکھ جاتے ہیں محنت کرنے سے ہی کام سیکھا جاتا ہے۔ کام کرتے ہوئے ہمارے سامنے طرح طرح کی رکاوٹیں آتی ہیں لیکن ہم اپنے جوش و جذبے کی مدد سے ان کا مناسب حل ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہوجاتے ہیںیہ بھی ذہن میں رہے کہ محنت کرنے کے لیے کسی بہت بڑی صلاحیت کا ہونا بھی ضروری نہیں ہے بس محنت شروع کردیجیے صلاحیت آپ کے پیچھے دم ہلاتی خود بخود چلی آئے گی! ۔

متعلقہ خبریں