قطر کا بحران

قطر کا بحران

قطر مشرق وسطیٰ میں واقع آبادی کے لحاظ سے اس خطے کا سب سے چھوٹا اور ایک خوشحال ملک ہے۔جس کی آبادی صرف بائیس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور اس کل آبادی میں 88.4فی صد غیر قطری آباد ہیں۔جب کہ قطریوں کی تعداد11.6 فی صد ہے ۔مذہبی اعتبار سے قطر میں 67.7فی صد مسلمان، 13.8فی صد عیسائی، 13.8فی صد ہندو، 3.1فی صد بدھ مت پیروکار ، 1فی صد یہودی اور تقریباً 1فی صد دوسرے مذاہب کے پیروکار آباد ہیں۔فی کس آمدنی 129700ڈالر سالانہ ہے۔جو عالمی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ملکی برآمدات64بلین ڈالر جبکہ درآمدات77بلین ڈالر کے قریب ہیں۔برآمدات میں ایل این جی،پیٹرولیم اشیائ،کھاداور فولاد (اسٹیل) شامل ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر دسمبر 2016 ء تک 36بلین ڈالر تک پہنچ گئے تھے ۔جو 2015ء میں37.2بلین ڈالر تھے۔لیکن تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آرہی ہے ۔قطری ریال پچھلے چار سال سے ایک جگہ پر مستحکم ہے ۔سال 2012 ء میں ایک قطری ریال 3.64ڈالر کے برابر تھا۔آج 2017 ء میں ایک قطری ریال 3.64ڈالر کے برابر ہے ۔جس سے معیشت میں استحکام کا پتہ چلتا ہے۔قطر کی یہ دن دوگنی رات چگنی ترقی دُنیا کو پسند نہیں آئی کہ ایک چھوٹا سا مسلمان ملک اتنی تیزی سے ترقی کررہا ہے۔سب سے پہلے خطے کے ممالک نے قطر کو اس کی اوقات میں رہنے کیلئے دباؤ کا استعمال شروع کیا ۔قطر کا قصور یہ تھا کہ اس نے اپنے تئیں آزاد خارجہ پالیسی پر عمل شروع کیا اور تمام پڑوسی اور برادر ممالک کے ساتھ یکساں سلوک اور پالیسی اپنانے کی کوشش کی ۔لیکن خطے کے بڑے ممالک کو قطر کی یہ ادا پسند نہیں آئی۔قطر پر مبینہ طور پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ تشدد پسند گروپوں کی حمایت کرتا ہے۔لیکن سعودی عرب قطر کے ایران کے ساتھ تعلقات کو سعودی پالیسی کے منافی سمجھتا ہے۔امریکہ کی قطر کی مخالفت کے باوجود امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ قطر کے ارد گرد قائم ہے۔جس میں دس ہزار امریکی فوجی آباد ہیں۔امریکہ نے سعودی عرب کی خاطر ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے دوران اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنایا اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر قطر کو تنہا کرنے کی کوشش کی۔سعودی عرب نے قطر کو سپلائی کرنے والے راستے بند کردئیے۔خدشہ تھا کہ قطر میں اشیائے خورد ونوش کی قلت پیدا ہو جائیگی۔لیکن ایران اور ترکی نے یہ خلا پر کرنے کی کوشش کی۔سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مالدیپ نے قطر کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ۔ان ممالک نے الجزیرہ نیٹ ورک میں کافی فنڈنگ کی ہے۔

قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے بعد الجزیرہ ٹیلی ویژن کا مستقبل کیا ہوگا؟جب کہ کئی ممالک نے الجزیرہ اسٹیشن کی نشریات کو بند کردیا ہے اور الجزیرہ کا لائسنس منسوخ کردیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے بعد گلف ممالک میں خراب تعلقات کی چنگاری اچانک بھڑک اُٹھی۔ گلف ممالک میں پڑوسی اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات منقطع کرنا کسی بھی طور پر اسلامی ممالک کے مفاد میں نہیں ہے۔مفادات کی اس جنگ کو سمجھنا اور اس سے پیدا ہونے والے دور رس اثرات سے بچنا وقت کی ضرورت ہے۔اس سارے قضیے میں پاکستان کو آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر سخت مشکلات کا سامنا ہوگا۔جسے سمجھنے کیلئے دور اندیشی کی ضرورت ہے۔ایران ایک برادر اسلامی ملک ہے۔پاکستان کا پڑوسی ہے ۔سعودی عرب مسلمانوں کے اہم دینی وروحانی مراکز خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ۖ کی حفاظت پر مامور ہے ۔مسلمان ممالک کے درمیان دراڑیں ڈالنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ قطر نے کئی سال سے طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت دی ہے اور اکثر طالبان کی ملاقاتیں بھی قطر میں ہوتی رہی ہیں۔لیکن قطر کے خلاف اچانک اُٹھنے والی آواز میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے بعد تیزی آئی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ وجہ اتنی اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ اصل وجہ خطے کی ایک بڑی طاقت سعودی عرب سے مخالفت کے بعد قطر کے گرد گھیر ا تنگ کرنا شروع ہوگیا اور سعودی عرب کے قریبی ممالک نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے قطر کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔دوسری بڑی وجہ خطے میں قطر کی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ ایران کی طرف ہے ۔اس جھکاؤ نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور یوں قطر اور سعودی عرب کے تعلقات بگڑتے گئے۔ سعودی عرب میں حال ہی میں اعلیٰ سطح پر تبدیلیوں میں خاص طور پر شاہ سلمان کے 31سالہ بیٹے محمد بن سلمان کو نائب وزیراعظم کا عہدہ سونپنا نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ شاہ سلمان موجودہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کیلئے جواں قیادت کو آگے لانا چاہتے ہیں۔جو خاص طور پر نوجوانوں میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے ولی عہد کو مبارک دیتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران نئے ولی عہد سے قطر ی تنازعہ پر بات چیت کی تھی۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے سینٹ کی خارجہ اُمور کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان قطر سعودی تنازعہ میں غیر جانبدار پالیسی پر کاربند ہے۔البتہ پاکستان نے سعودی قطر تنازعہ میں مصالحتی کردار ادا کرنے کے بھی کوششیں کی ہیں۔

متعلقہ خبریں