Daily Mashriq


پنجاب کے بعد سندھ اور خیبر پختونخوا میں نیب کی تحقیقات

پنجاب کے بعد سندھ اور خیبر پختونخوا میں نیب کی تحقیقات

چیئرمین نیب نے پشاور میٹرو بس منصوبے میں مبینہ بدعنوانی کا نوٹس لیتے ہوئے منصوبے کی مقررہ وقت پر عدم تکمیل کی چھان بین کی ہدایت کی ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے پشاور میٹرو بس منصوبے میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے پر لاگت49 ارب سے بڑھ کر64 ارب ہوگئی لیکن منصوبہ مکمل نہ ہوا، منصوبے کی تکمیل میں تاخیر اور لاگت بڑھنے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ دوسری جانب نیب نے خیبر پختونخوا حکومت کے جاتے ہی تین بڑے سرکاری محکموں کیخلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت کے پہلے سے شروع تحقیقات کے علاوہ توانائی سے متعلق مختلف منصوبوں میں مبینہ کرپشن کی بھی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ ان منصوبوں میں کچھ ساہیوال اور پورٹ قاسم کے کول پاور پروجیکٹس شامل ہیں، اس کے علاوہ حالیہ گیس کی قیموں میں اضافہ، انڈیپنڈنٹ پاور پروجیکٹس (آئی پی پیز) اور قائداعظم سولر پاور پراجیکٹ کا آڈٹ شامل ہے۔ خیال رہے کہ یہ وہ منصوبے ہیں جو مسلم لیگ ن کی حکومت نے ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کیلئے شروع کئے تھے۔ دریں اثناء چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سندھ میں بھی آر او پلانٹس کی تنصیب میں بے قاعدگیوں کا نوٹس لیا ہے اور قوائد وضوابط کیخلاف پاک وسز کو450 آر او پلانٹس نصب کرنے کیلئے دئیے گئے ٹھیکے سے متعلق شکایات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ آر او پلانٹس تھرپارکر، چھاچھرو اور مٹی کے عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کیلئے لگائے گئے تھے۔ قومی احتساب بیورو کے ابتدائی اقدامات سے اس امر کا تاثر اُبھرنے لگا تھا کہ نیب نے ایک ہی صوبے میں بدعنوانیوں اور بدمعالگیوں کی تحقیقات پر توجہ مرکوز کر رکھا ہے چونکہ سیاسی معاملات اور حالات بھی کچھ ایسے تھے جس کے باعث اس تاثر کو تقویت ملی لیکن نیب کے حالیہ اقدامات میں خیبر پختونخوا اور صوبہ سندھ کی گزشتہ حکومتوں کے معاملات کی چھان بین شروع کرنے سے اب رفتہ رفتہ اس تاثر میں کمی آنا فطری امر ہوگا۔ اس موقع پر اگر بلوچستان کی گزشتہ حکومتوں کے معاملات کی بھی چھان بین شروع ہو جاتی ہے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قومی احتساب بیورو ایک ایسا ادارہ ہے جس سے پوری قوم کی اُمیدیں، توقعات اور امنگیں وابستہ ہیں۔ قوم کو بجاطور پر توقع ہے کہ قومی احتساب بیورو بلاامتیاز کارروائیوں کے ذریعے قوم کی لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں واپس جمع کرا پائے گی اور بالادستوں کا احتساب ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی نیب کو ان عناصر کیخلاف بھی اقدامات پر توجہ دینی چاہئے جو بڑے بڑے سکینڈلز میں ملوث گردانے جاتے ہیں اور جن کو مقدس گائے کا درجہ حاصل ہے۔ عدالت عظمیٰ نے معاف شدہ قرضوں کی واپسی کے اقدامات کا حکم دیکر قوم کو جو نئی اُمید دلائی ہے نیب محولہ اقدامات کیساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر زمینوں پر قبضہ کرنے والوں اور سرکاری ٹھیکوں کے حصول میں ادارہ جاتی دباؤں ڈال کر حاصل کرنے اور مارکیٹ ریٹ سے کہیں بڑھ کر ریٹ وصولی کے باوجود کام کے معیار کا تسلی بخش نہ ہونا بھی توجہ طلب معاملات ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر تفصیل میں جایا جائے تو ہر سطح پر نیب کے اقدامات کی ضرورت پڑتی ہے لیکن چونکہ پورے ملک میں بیک وقت سرگرمیوں کیلئے نیب کے پاس وسائل اورعملہ موجود نہیں اسلئے نیب سے اس قسم کی توقع وابستہ کرنا حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا لیکن نیب کی یہ ذمہ داری ضرور ہے کہ وہ بالائی سطح پر ایسے نظر آنیوالے اقدامات اُٹھائے جس سے ملک میں حقیقی احتساب کا یقین ہو۔ جہاں تک خیبر پختونخوا میں احتساب کا تعلق ہے تمام تر دعوؤں کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس صوبے کے حکمرانوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے دریغ نہیں کیا لیکن چونکہ اس وقت انتخابات قریب ہیں اور نیب کے کسی بھی صوبے میں کسی اقدام سے سیاسی ماحول کے متاثر ہونے اور منفی تاثر کا باعث بننے کا امکان ہے۔ جس کے پیش نظر مصلحت کا تقاضا یہی نظر آتا ہے کہ 25جولائی تک معاملات کا سنجید گی سے نوٹس لینے اور تحقیقات پر زیادہ توجہ دی جائے تو بہتر ہوگا۔ اصولی طور پر بھی معاملات کا نوٹس لینے اور تحقیقات کی تکمیل کے بعد ہی شواہد اور ثبوتوں کی روشنی میں گرفتاریوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے تاکہ ملزمان کے حوالے سے قانونی ضرورتیں بھی پوری ہوں اور نیب کو کامیابی بھی ملے۔ جہاں تک خیبر پختونخوا میں ریپڈ بس ٹرانزٹ کا معاملہ ہے اس کے ڈرائنگ اور ڈیزائن کی تیاری میں ابتدا ہی میں اسقام سامنے آئے جس سے اس امر کا یقین ہو جاتا ہے کہ ایک بہت بھاری لاگت کا اہم ترین منصوبہ بغیر کسی ضروری تیاری اور مہارت رکھنے والے عملے کی خدمات کی حصول کے بغیر ہی عجلت میں شروع کیا گیا جس کا بادی النظر میں مقصد عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی سے زیادہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنا تھا۔ بہرحال اس سے قطع نظر تعمیراتی کام کے آغاز کے بعد باربار ڈیزائن میں تبدیلی اور توسیع کا جواز خواہ کتنا بھی مضبوط ہو لیکن اس سے جہاں کمپنی کو اعتراضات کا موقع ملا وہاں کمپنی کی شرائط پر حکومت کو سمجھوتہ کرنا پڑا اور لاگت میں بے انتہا اضافہ ہوا۔ اس منصوبے کی مقررہ وقت پر عدم تکمیل کی ذمہ داری گزشتہ حکومت اور کمپنی دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت کی بی آر ٹی منصوبے کے ماہرین سے اختلاف اور ان کی جانب سے مستعفی ہونے کے معاملات بھی بلاوجہ نہیں تھے۔ رواں سال کے اختتام تک اس منصوبے کی تکمیل نہ ہونے کا تو سرکاری طور پر اعتراف ہو رہا ہے، اگلی سیاسی حکومت کے دور میں اس منصوبے کا کیا بنے گا اس کی شہریوں کو تشویش ہے۔ نیب کو اس منصوبے کی تحقیقات اور مقدمات بنانے میں اسلئے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوگی کہ منصوبہ متاثر نہ ہو، اگر ایسا ہوا تو پھر صوبے کے تقریباً تمام محکموں اور اداروں کی منہ سے نوالہ چھین کر اور صوبے کا خزانہ لٹا کر اس میں جھونکنے کی جو قیمت شہری اور حکومت ادا کر رہے ہیں اس کے رائیگاں جانے اور منصوبے میں تاخیر درتاخیر سے سخت پیچیدگیوں کا اندیشہ ہے جس سے جس قدر بچنے کی راہ اختیار کی جائے مناسب ہوگا۔

متعلقہ خبریں