افغانستان میں قیام امن کی ایک اور کوشش

افغانستان میں قیام امن کی ایک اور کوشش

امریکی نمائندہ خصوصی ایلس ویلزکا افغانستان کے دورے کے بعد اچانک پاکستان آمد سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے باہمی تعاون کی مساعی پر سنجیدگی سے توجہ دی جا رہی ہے۔ پاکستان باربار یقین دلاتا رہا ہے کہ وہ کسی بھی صورت اپنی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیگا۔ خطے ہمیشہ مجموعی حیثیت میں ترقی کرتے ہیں‘ انفرادی ریاستوں کی صورت میں خطے ترقی نہیں کر سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مثبت سوچ اور تعاون سے تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے۔ پاکستان بھی امن واستحکام کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کو تیار ہے لیکن اس حوالے سے دوسرے ممالک کو بھی تعاون کرنا ہوگا۔ اس امر کی حقیقت امریکہ سے بڑھ کر کسے معلوم ہوگا کہ پاکستان نے خطے میں امن واستحکام کیلئے خصوصی طور پر انسداد دہشتگردی کیلئے کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے اپنے علاقوں میں دہشتگردوں کے تمام قسم کے ٹھکانوں کو ختم کر دیا ہے اور باقی ممالک پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی اس امر میں پاکستان کیساتھ تعاون کریں۔ اس وقت پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے حقیقت پسندانہ طرز عمل اور اقدامات وقت کا اہم تقاضا بن چکا ہے۔ اس وقت 27لاکھ سے زائد مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں اور ان میں شاید کوئی دہشتگردوں کے بچے کچھے افراد موجود ہوں گے اور انہوں نے کسی نہ کسی صورت میں پناہ لی ہوگی۔ ان کے خاتمے کیلئے بھی پاکستان مکمل سطح پر اقدامات کر رہا ہے لیکن امریکی حکام اور افغانستان کی حکومت اس ضمن میں اپنی ذمہ داریوں کی پوری طرح ادائیگی نہیں کر رہے جو مشکلات کا باعث ہے، البتہ حال ہی میں امریکہ کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانا سنجیدہ اقدام ہے، اس طرح کے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان، امریکہ اور افغانستان کے درمیان بہتر روابط کیساتھ ساتھ ایک دوسرے پر اعتماد کی فضا بھی بہت ضروری ہے۔ جب تک ان ممالک کے درمیان رابطوں میں تیزی کیساتھ ساتھ اعتماد کی فضا میں آگے بڑھنے اور مل جل کر اور انفرادی طور پر اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی نہیں ہوگی افغانستان کے مسئلے کا حل نکالنا ممکن نہ ہوگا۔
افسوسناک واقعہ
پشاور کے معروف ترین سکول کے طالب علم کا امتحان میں نمبر کم آنے پر خودکشی کا واقعہ افسوسناک ہے۔ اس سکول کا معیار اور طلبہ کی محنت دونوں ہی مسلمہ ہیں اور ہر بار سکول کا بہتر نتیجہ اس امر کا ثبوت ہے۔ جہاں تک نمبر کم آنے کا تعلق ہے اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، ہمیں اس امر کی حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ ہر طالب علم کی استطاعت وقابلیت کی ایک حد ہوتی ہے جس کے مطابق اس کی رہنمائی ہونی چاہئے۔ سکولوں میں اساتذہ ہوں یا پھر خاص طور پر والدین اور بڑے بہن بھائی، ان کو اپنے زیراثر اور زیر کفالت طالب علموں کے حوالے سے مقدور بھر سعی کے بعد خواہ مخواہ میں بہترین نتیجہ کے حصول کیلئے دباؤ نہیں ڈالنا چاہئے بلکہ اگر کسی طالب علم کا محنت کے باوجود یا پھر کسی بھی وجہ سے نتیجہ بہتر نہ آئے تو ان کو مزید مایوسی کا شکار بنانے کی بجائے ان کو اس امر کی آس دلائی جائے کہ کامیابی کا دروازہ ناکامی ہی سے کھلتا ہے۔ اک مرتبہ کی ناکامی سے مستقبل تاریک نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر طالب علم کا ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہی ضروری ہے۔ معاشرے میں برداشت اور دلبرداشتگی اور انتہائی اقدامات کی صورتحال سب کے سامنے ہے، جسے دیکھ کر ہی طلبہ سے پیش آنے اور ان کی بہتر رہنمائی کی ضرورت ہے تاکہ اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

اداریہ