سوال کا حق اور احترام

سوال کا حق اور احترام

مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لیڈروں سے ان کی کارکردگی کے بارے میں سوال کرے لیکن احترام کے ساتھ۔ ان کا اشارہ غالباًبلاول بھٹو زرداری سمیت متعدد انتخابی امیدواروں کے اپنے حلقہ ہائے انتخاب کے دوروں کے درمیان پوچھے گئے سوالات ‘ مطالبات اور احتجاج کے واقعات کی جانب ہے۔ راجہ صاحب محترم اہلِ سیاست میں سے ہیں لیکن ان کے دیکھتے دیکھتے عام لوگوں کا رویہ اس قدر سخت گیر ہوگیا ہے کہ اس پر ان کی ناپسندیدگی قابلِ فہم ہے۔ لیکن انہیں اس رویے کو تبدیل کرنے کیلئے نہ صرف لیڈروں سے سوال کرنے والوں کو شائستگی کا مشورہ دینا چاہیے بلکہ ان وجوہ نشاندہی بھی کرنی چاہیے جن کے باعث یہ رویہ پیدا ہوا ہے۔اس کی ذمہ داری کا تعین بھی کرنا چاہیے اور لیڈروں کو بھی مشورے دینا چاہئیں کہ وہ عام لوگوں کا احترام اور شائستہ رویہ حاصل کرنے کیلئے اپنے رویے میں کیا تبدیلی پیدا کریں۔ راجہ صاحب کے علم میں ہے کہ اہلِ سیاست بھاری بھر کم وعدے کرتے ہیں ‘ منتخب ہو جانے کے بعد اپنے حلقہ ہائے انتخاب کا رخ بھی نہیں کرتے اور وعدے جھوٹے ثابت ہو جائیں تو اس کی وضاحت نہیں کرتے۔ نئے انتخابات کی دوڑ میں نئے وعدے کرتے ہیں۔ بلاول کی ریلی کی مثال لے لیجئے ۔ لیاری والوں نے ان سے کہا ’’پانی دو۔‘‘ پانی بلاول بھٹو نے نہیں دینا تھا البتہ یہ ان کی پارٹی کی ذمہ داری تھی کہ وہ سندھ میں اپنے آٹھ سالہ دورِ حکومت کے دوران نہ صرف کراچی والوں کیلئے، تھر والوں کیلئے بھی اور سارے صوبہ سندھ والوں کیلئے پانی کا بندوبست کرتی۔ یہ مطالبہ بھی قومی اسمبلی کے امیدوار کی بجائے مقامی حکومت کے ذمہ داروں سے کرنا چاہیے تھا۔اسی طرح دیگر متعدد حلقوں میں امید و ا ر و ں سے جو یہ کہا گیا کہ وہ پانچ سال تک کہاں تھے ‘ اتنے عرصہ کے بعد کیوں آئے ہیں؟ یہ شکوہ ان دوستوں اور عزیزوں سے کیا جانا چاہیے جن سے بے رخی اور میل ملاقات میں غفلت کی شکایت ہو۔ اسمبلیوں کے امیدوار نہ اپنی ذاتی حیثیت میں پانی دیتے ہیں ‘ نہ انہیں اسلئے ووٹ دئیے جاتے ہیں کہ وہ آیا کریں گے اور غمی خوشی میں شریک ہوا کریں گے۔ عوام نے انہیں قومی اور مقامی مسائل کے حل کیلئے ووٹ دیا۔ اگر یہ مسائل حل نہیں ہوئے تو عوام ان سے مایوس ہوئے اور انہوں نے اپنے امیدواروں سے ان کی کارکردگی کے بارے میں سوال کیے۔ ان سوالوں کی زبان میں شائستگی نہ تھی لیکن سوال تو حقیقی تھے۔ یہ سیاسی لیڈروںکا فرض تھا کہ وہ اپنے ووٹروں کو یہ باور کراتے کہ وہ قانون سازی کیلئے پالیسیاں بنانے کیلئے اور پالیسیوں پر عمل درآمد کی نگرانی کیلئے اسمبلیوں میں گئے ہیں اور یہ لیڈر ہی اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ انہوں نے اپنے ووٹروں کو وہ آگاہی فراہم نہیں کی کہ قومی مسائل کیا ہیں جن سے مقامی مسائل پیدا ہوتے ہیں اور وہ اور ان کی پارٹی ان مسائل کے حل کیلئے کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور کیا کرتی رہی ہے۔ راجہ ظفر الحق کا منشاء غالباً یہی ہے کہ ووٹر صورت احوال سے اس قدر آگاہ ہوں کہ وہ اپنے لیڈروں سے ان کی پارٹیوں کی کارکردگی کے بارے میں سوال کر سکیں اور انتخابی امیدوار بھی قومی مسائل سے اور اپنی پارٹی کے منشور سے اس کی کارکردگی سے اس قدر آگاہ ہوں کہ وہ عوام کو تسلی بخش جواب دے سکیں۔ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک اس وقت گمبھیر مسائل میں گھِرا ہوا ہے اسلئے ان کی پارٹی کو انتخابا ت میں اگر سادہ اکثریت بھی حاصل ہو گئی تو وہ قومی حکومت بنائیں گے۔ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ ملک کے گمبھیر مسائل کون سے ہیں؟ ان کی پارٹی ان مسائل سے عہدہ برآء ہونے کیلئے کیا کرتی رہی اور اگر وہ آئندہ قومی حکومت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس قومی حکومت کا ایجنڈا کیا ہوگا؟ تاکہ وہ مسائل کی اس نشاندہی اور مسائل کے حل کی جو تجاویز پیش کریں ان کے بارے میں عوام اپنے لیڈروں سے احترام کیساتھ سوال کر سکیں۔ دوسرا بحران توانائی کا ہے۔ ڈیم بنائے جاتے تو سستی پن بجلی بھی پیدا ہوتی لیکن سابق حکومت نے تھرمل بجلی کے کارخانہ لگوائے جن سے بجلی 16روپے فی یونٹ حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح گھریلو صارفین کا خرچہ تو بڑھتا ہی ہے‘ صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو جاتاہے اور ان کی مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ میں دیگر ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ نہیںکر سکتیں۔ زرِ مبادلہ کی آمدن کم ہو جاتی ہے۔ اس بارے میں ان کے سوال کیے جانے چاہئیں اورتوقع کی جانی چاہیے کہ اس کا جواب نعروں اور الزامات کی صورت میں نہ آئے بلکہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہو۔ راجہ صاحب کوچاہیے کہ اپنی پارٹی کی قیادت کو اس پر قائل کریں۔ تیسرا بڑا مسئلہ معیشت کا ہے ۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران اتنے قرضے لئے گئے ہیں جتنے اس سے پہلے کی ساری مدت میں نہیں لئے گئے تھے۔ ان قرضوں کا استعمال قرضوں کی قسطیں واپس کرنے کے سوا کیا کیاگیا؟ ان قرضوں کی ادائیگیوں کا پروگرام کیا ہے جب کہ ہماری برآمدات بین الاقوامی منڈی سے زرِمبادلہ لانے میں کامیاب نہیں۔ چوتھا بڑا مسئلہ دہشت گردی کا ہے۔ پاک فوج کے آپریشنوں نے دہشت گردی کی کمر توڑ دی ہے لیکن سیاسی حکومت بین الاقوامی برادری پر یہ حقیقت آشکار کرنے میں کیوں ناکام رہی ہے کہ پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزام اب بھی لگائے جا رہے ہیں اور ڈو مور کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس کم کوشی کے پیچھے نیت‘ عزائم یا نااہلی ہے یا کوئی اور وجوہ۔ زراعت‘ تعلیم ‘ صحت ‘ صنعت ‘ روزگار ‘ کرپشن‘ انصاف کی فراہمی اور دیگر متعدد شعبوں میں حکومت کی کارکردگی کے بارے میں جو سوال بصد احترام پیش کیے جا سکتے ہیں راجہ صاحب کو چاہیے کہ وہ خود ان کی فہرست مرتب کریں اور انہیں شائستہ زبان میں عوام کو پیش کر دیں تاکہ عوام کو ان کا سوال کرنے کا حق بھی حاصل ہوجائے اور لیڈروں کا احترام بھی قائم رہے ۔

اداریہ