Daily Mashriq


کون کس کا ڈھولچی رہا یہاں؟

کون کس کا ڈھولچی رہا یہاں؟

گرمی اور حبس کو موسلا دھار بارش کاٹتی ہے لیکن پھر موسم پرانی شدت دکھاتے ہوئے حبس بھری گرمی مسلط کر دیتا ہے۔ اس پر ستم اعلانیہ وغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ جس کا واپڈا والوں کے پاس لکھا پڑھا جواب یہ ہے ’’بھائی بجلی اسلام آباد سے بند کی گئی ہے‘‘۔ اسلام آباد نے اپنے غلاموں کیساتھ کیا کیا کرنا ہے۔ یہ سوال تو ہے لیکن پوچھا کس سے جائے۔ نون لیگ کے ایک سابق وفاقی وزیر پچھلی شب دوستوں کی ایک تقریب میں دستیاب ہوئے تو ان سے سوال کیا آپ لوگ تو کہتے تھے کہ بجلی کی پیداوار ملکی ضرورت سے زیادہ ہے؟۔ جواب ملا ہم تو سسٹم میں 10ہزار میگا واٹ بجلی اضافہ کر کے چھوڑ گئے تھے۔ نگران سرکار سے پوچھیں وہ کیا کر رہی ہے۔ دوبارہ گویا ہوئے کچھ قوتیں ہمیں ہروانا چاہتی ہیں ان کے ایماء پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ عرض کیا یعنی جو داؤ پیچ 2013ء میں آپ کے سرپرستوں نے پیپلز پارٹی کیخلاف کھیلے تھے وہ اب کسی اور کے سرپرست آپ کیخلاف کھیل رہے ہیں؟۔ خواجہ مسکراتے ہوئے بولے یوں بھی کہہ سکتے ہیں آپ مگر نااہل قسم کی نگران حکومت میں ہمارے کھلے دشمن بھی شامل ہیں۔ یہ دشمن اپنے دوستوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ان سے دریافت کیا واقعتاً آپ عمران خان کو بدترین شکست سے دوچار کر دیں گے؟ بولے لاہور کے ووٹرز نون لیگ کی خدمات سے واقف ہیں، وہ شیر کو ووٹ ڈالیں گے۔ ہر حال میں جبر کا سماں ہوا تو خاموش ردعمل پولنگ بوتھز کے اندر ظاہر ہوگا۔ میں نے پوچھا یہ جو کرپشن کے الزامات ہیں آپ پر ان سے بچ پائیں گے؟۔ سعد رفیق کا جواب تھا ملک میں ایک طبقہ ایسا ہے جو کرائے کے ڈھولچیوں کے ذریعے سیاستدانوں کو بدنام کرواتا ہے تاکہ اس کی قانون شکنیوں اور دیگر معاملات پر عوام کی نگاہ نہ ہو۔ ہمارا دامن صاف ہے۔ 25جولائی کا دن ثابت کر دے گا کہ سارے الزامات اور کہانیاں غلط ہیں۔عرض کیا اگر آپ کی بات مان لی جائے تو پھر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرپشن کہانیوں اور الزامات کے حوالے سے 2008ء سے 2013ء کے درمیان نون لیگ اس طبقہ کے ڈھولچی کا کردار ادا کر تے ہوئے پیپلز پارٹی کیخلاف طوفان اُٹھاتی رہی؟ ان کا جواب تھا۔ سیاستدانوں کو اب ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کی کردار کشی کیلئے آٹھ کر کردار کیوں ادا کرتے ہیں۔ ان کی بات کاٹتے ہوئے دریافت کیا۔ یہ سوچ نون لیگ کے رہنماؤں میں اقتدار سے نکلنے کے بعد کیوں پیدا ہوتی ہے۔ جب آپ کی جماعت اقتدار میں ہوتی ہے تو وفاداری کی سرحد عبور کرنا سعادت سمجھتی ہے؟۔ کہنے لگے ہم بھی دوسروں کی طرح انسان ہیں یہاں فرشتہ کوئی نہیں۔ ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کر رہے ہیں دوسروں کو بھی احساس کرنا چاہئے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاستدان اور سیاسی جماعتیں دستور اور جمہوریت کی بالادستی کیلئے نفرتیں دفن کر کے اتفاق رائے پیدا کریں۔ہنسی دباتے ہوئے ان سے سوال کیا ابھی مبینہ بھر قبل تک آپ پیپلز پارٹی کیخلاف دو دھاری تلواریں سونتے ہوئے تھے، تب اس طرح کی مثبت باتیں یاد کیوں نہ آئیں؟۔ اقتدار کا نشہ کچھ سوچنے نہیں دیتا، بہرطور جمہوریت کیلئے سب کو متحد ہونا ہوگا۔ سوال کیا سب میں تحریک انصاف بھی شامل ہے؟۔ وہ بولے اپنے عمل اور رویوں سے پی ٹی آئی خود کو سیاسی جماعت ثابت کرے ابھی تو وہ ایک فاشٹ جماعت کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ عمران خان پانچ سال تک جن لوگوں کو گالیاں دیتے رہے پھر جونہی یہ تحریک انصاف میں شامل کروا لئے گئے تو حاجی نمازی ٹھہرے۔ وقت رخصت ان سے سوال کیا۔ بائیکاٹ کرینگے انتخابات کا یا میدان میں ڈٹے رہیں گے؟ ان کا جواب تھا: بلکل نہیں بھاگیں گے، مقابلہ کریں گے، ہر قسم اور نسل کے فاشٹ کا ووٹر ہماری خدمات اور جمہوریت کیلئے نون لیگ کو ووٹ دیں گے۔ نون لیگ ہی پاکستان کا روشن مستقبل ہے۔ انتخابی سیاست کے میدان میں تبدیلی یہ آئی ہے کہ صوبہ پنجاب سے نون لیگ کے 19اُمیدواران قومی وصوبائی اسمبلی نے اپنی جماعت کا ٹکٹ واپس کر کے جیپ کا انتخابی نشان لے لیا ہے۔ نون لیگ کے ٹرک سے چھلانگ لگا کر اُترنے والوں میں پنجاب اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر، اختر گورچانی بھی شامل ہیں جو کبھی سینے پر ہاتھ مار کر کہا کرتے تھے ’’میں غیرت مند بلوچ ہوں آخری سانس تک نون لیگ کا جھنڈا بلند رکھوں گا‘‘۔ سانس ان کے ابھی چل رہے ہیں اور وہ انتخابی عمل میں شریک ہیں مگر نون لیگ کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھ لیجئے متحدہ ہندوستان پر حملہ آور ہونیوالوں کو پنجاب کے تینوں حصوں کے سرداروں، خوانین، مخدوموں، پیرزادوں، چودھریوں اور جاگیرداروں کے کرائے کے سپاہیوں نے دہلی پہنچا کر حق خدمت وصول کیا۔ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اس کا تازہ ثبوت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن ورہنماء شوکت بسرہ آزاد اُمید وار کے طور پر ضلع بہاولنگر سے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر اعجاز الحق کے مدمقابل ہیں۔ میدان سیاست میں ان کی اُٹھان پیپلز پارٹی کی مرہون منت تھی اب راستہ جدا کر لیا جیسے پی پی پی کے مرکزی نائب صدر میاں منظور احمد وٹو نے کیا۔ وٹو تو چلیں گھاٹ گھاٹ کا پانی پیئے اور پارٹیاں بھگتے ہوئے تھے لیکن بسرا تو سکہ بند جیالے کہلاتے تھے۔ معاف کیجئے گا اب سکہ بندی اور نظریات کی جگہ مفادات کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ کچھ قصے اور بھی ہیں وہ اگلے کالم میں ابھی تو یہ دعا کیجئے کہ انتخابی ماحول پُرامن رہے۔

متعلقہ خبریں