اس مفاد پرستی نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا

اس مفاد پرستی نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا

بعض اوقات اس قسم کے برقی پیغامات بھی ملتے ہیں جو قارئین کی صائب رائے پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی آراء کو اس ہفتہ وار کالم میں جگہ دی جائے۔ ان کی خواہش اپنی جگہ لیکن مجبوری یہ ہے کہ ایسا کرنے سے اس کالم کی ہیئت تبدیل ہوگی اور جس مقصد کیلئے یہ کالم شروع کیا گیا ہے وہ مقصد فوت ہو جائے گا۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے بلکہ ایسا ہوتا بھی ہے کہ جس موضوع پر کالم کی اشاعت ان کی خواہش ہوتی ہے ان موضوعات پر راقم سمیت ہمسایہ کالم نگاروں نے شرح صدر کیساتھ تفصیل سے روشنی ڈالی ہوتی ہے۔ ایسے مشورہ دینے والے قارئین سے میں یہی گزارش کروں گی کہ وہ کسی ایک کالم کی بجائے سارے کالموں پر نظر ڈال لیا کریں تو ان کو اپنے خیالات اور احساسات کے مطابق کالم پڑھنے کو ملیں گے۔ میری حتی المقدور کوشش ہوگی کہ میں ان کے احساسات کی ترجمانی کی مقدور بھر کوشش کروں۔ بہرحال ایک قاری نے بڑا مختصر اور پُرمغز سوال لکھ بھیجا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ آج تک اس بات کی سمجھ نہ آسکی کہ جو غریبوں اور عوام کے حقوق کیلئے لڑتے ہیں، وہ لڑتے لڑتے امیر کیسے ہو جاتے ہیں؟ سوال ہی میں جواب بھی چھپا ہے، ہر مشاہدہ کرنیوالے کو معلوم ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوتا ہے، پھر بھی اگر مجھ سے پوچھیں تو میرے تئیں یہ لوگ عوام کے حقوق کیلئے نہیں لڑتے بلکہ چھینا جھپٹی کرتے ہیں۔ ہمیں یہ مختلف جماعتوں میں دکھائی ضرور دیتے ہیں لیکن یہ ہماری نظر کا دھوکہ ہے۔ یہ سارے ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہوتے ہیں۔ کبھی دیکھا ہے کہ کسی ایک نے دوسرے کو ذرا بھی نقصان پہنچایا ہو، ایک قدم اگر آگے بڑھ کر دیکھا جائے تو ملک میں کوئی ایک ایسا انقلابی کبھی نہیں دیکھا جو واقعی عوام کے حقوق کیلئے لڑا ہو۔ اس کی مثال موجود نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں، ایسے لوگ گزرے ہیں جن کے دل اور عمل دونوں میں عوام کا دکھ درد غالب رہا لیکن یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ان کا خاندان اور ان کا گروہ کبھی پنپ نہ سکا۔ آج ان لوگوں کے نمائندے کسی سطح پر موجود نہیں مگر جو مخلصانہ کوشش وہ کر گئے ہیں وہ زمانے کو یاد ضرور ہے اور یاد رہے گا اور یاد رہنا بھی چاہئے۔ اگر ہمیں محولہ سوال کی دہرائی منظور نہیں تو پھر ڈھونڈھ کر ایسے لوگوں کو سامنے لائیں جو عوام کے حقوق کے نام پر لڑ کر خود امیر ہونے والے نہ ہوں۔تخت بھائی سے عرفان اللہ نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ گورنمنٹ کالج، اسلامیہ کالج اور دیگر سرکاری کالجوں کے اساتذہ کرام ٹیوشن سنٹروں میں ایف ایس سی کا کورس دو ماہ میں ختم کرواتے ہیں مگر کالجوں میں چھ ماہ میں بھی کورس مکمل نہیں ہوتا اور طالب علموں کو ادھوری پڑھائی کیساتھ امتحان میں شامل ہونا پڑتا ہے یا پھر ماں باپ مزید قربانی دے کر ان کیلئے ٹیوشن کا بندوبست کرتے ہیں۔ واقعی ٹیوشن مافیا اس قدر طاقتور ہو چکا ہے کہ اب اس کو بھی ریگولیٹری اتھارٹی والے نکیل ڈال لیں۔ سرکاری کالجوں کے اساتذہ کو چونکہ معقول معاوضہ ملتا ہے اسلئے ان کو طالب علموں کی پڑھائی مکمل کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ جب تک ٹیوشن مافیا بھاری رقم کا لالچ دیتا رہے گا للچائے ہوئے عناصر کا سرکاری کالجوں میں طلبہ کو کورس مکمل کرانے کے بجائے ان کی توجہ نجی ٹیوشن مراکز کی طرف رہے گی۔ اس مشکل کا حل بس یہی ہو سکتا ہے کہ وہ سرکاری اساتذہ جو محکمہ تعلیم کی مستقل ملازمت میں ہیں ان پر ٹیوشن مراکز کھولنے اور ٹیوشن مراکز میں پڑھانے پر پابندی عائد ہوں، نیز جن جن سرکاری سکولوں اور کالجوں کا نتیجہ قابل قبول نہ آئے ان کے اساتذہ، ہیڈ ماسٹرز اور پرنسپلز کی تنخواہوں کو روک دینا چاہئے اور ان کیخلاف سخت محکمانہ کارروائی ہونی چاہئے۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ خیبر پختونخوا میں جو طالب علم نجی سکول چھوڑ کر سرکاری سکولوں میں آگئے تھے، میٹرک کے امتحانات میں باون ہزار طالب علموں کے فیل ہونے سے سارا معاملہ ہی اُلٹ ہوگیا، اب انصافیوں کو اس دعوے سے دستبردار ہونا پڑیگا۔ ڈاکٹر سعید نے پشاور ایئر پورٹ پر ایئر پورٹ سیکورٹی فورس کے تعاون کی تعریف کی ہے۔ ایئر پورٹ سیکورٹی فورس والوں کی تعریف پر مجھے بھی خوشی ہوئی۔ کسی نے تو کسی ادارے کے کردار کی تعریف تو کی، وگرنہ اس قسم کے پیغامات ملتے ہیں کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سرکاری اہلکاروں کو عوام کی خدمت کا معاوضہ ملتا ہے اور اس مقصد کیلئے وہ بھرتی کئے گئے ہوتے ہیں۔ سرکاری ملازمین خوش اسلوبی سے فرائض کی ادائیگی کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام ان کے بارے میں اچھی رائے کا اظہار نہ کریں۔ڈیرہ اسماعیل خان سے واحد امین قبائلی علاقہ جات کا خیبر پختونخوا میں انضمام کے فوائد اور نقصانات بارے کالم لکھوانے کے خواہشمند ہے۔ میرے خیال میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث ہوتی رہی ہے۔ اب اس کے فوائد اور نقصانات کے بحث میں پڑنے کی بجائے بہتر یہ ہوگا کہ فاٹا کے انضمام کی تکمیل میں پیشرفت کی جائے اور جو جو مسائل ومشکلات درپیش ہوں ان کا حقیقت پسندانہ طور پر جائزہ لیکر دور کیا جائے۔ مسائل بندوبستی علاقوں میں بھی کم نہیں لیکن قبائلی علاقوں کی تعمیر وترقی کا تو ڈھنڈورا ہی پیٹا جاتا رہا اور فنڈز ہڑپ ہوتے رہے۔ انضمام کے بعد بھی یہ مسئلہ تو رہے گا، شاید رفتہ رفتہ کچھ بہتری آئے۔ حالات میں بہتری کی اُمید رکھنی چاہئے، انضمام سے راتوں رات تبدیلی نہیں آسکتی۔
پشاور ہائیکورٹ کے ایڈوکیٹ عبدالجلیل نے میسج کیا ہے کہ آپ کا کالم الیکشن تک ضرور جاری رہنا چاہئے۔ ان کو غالباً اس کالم میں اہل اور دیانتدار اُمیدواروں کی کامیابی پر زور دینے کی تحریر مطلوب ہے۔ بھائی بات یہ ہے کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم میں ہر ایک بھلائی کی بات تو کرتا ہے مگر اس پر عمل کم ہی لوگ کرتے ہیں۔ میں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوں، ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر ہمیں اصلاح وتبدیلی مطلوب ہے، شریعت کا نفاذ مقصد ہے یا اسلامی فلاحی مملکت یا پھر قوم پرست اور سوشلسٹ خواہ جو بھی طرز حکومت مطلوب ہے اسے عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی، یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے، والا فلسفہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جو بھی جس کا نظریہ ہو اولاً وہ فلاح کا نظریہ ہونا چاہئے ثانیاً ہر نظریاتی بندے کو اپنے نظرئیے کیساتھ مخلص ہونا چاہئے۔ اس مفاد پرستی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔
اس نمبر 03379750639 پر میسج کر سکتے ہیں۔

اداریہ