Daily Mashriq


کیا عجب انداز نگرانی ہے؟

کیا عجب انداز نگرانی ہے؟

قریب کے حکمران اس حقیقت سے غافل نہیں تھے کہ انہوں نے ملک کی جاں بہ لب معیشت کو آکسیجن ماسک پر چلایا ہے۔ ہیر پھیر کی بیساکھی پر کھڑا رکھا اور جونہی یہ ہٹ جائے گا معیشت کا مریض ایک بار پھر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اپنی حالت زار کی کہانی سنائے گا۔ اس حقیقت کا عکاس شہباز شریف کا یہ جملہ تھا کہ ملک کو بجلی فراہم کرنا تیس مئی تک ہماری ذمہ داری ہے اس کے بعد ہم سے گلہ نہیں ہونا چاہئے۔ گویاکہ ہماری حکومتیں امریکن سسٹم کے تحت کام کرتی ہیں، اپنے دور اقتدار میں بجلی بحال اور مہنگائی ایک حد تک قابو رکھتی ہیں اور اس کے بعد ملک کو حالات کے حوالے کرکے رخصت ہو جاتی ہیں۔ جنرل مشرف کی ق لیگ کی حکومت کے بعد سے یہ رجحان اور رواج عام ہوکر رہ گیا۔ ملکی معیشت کو مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کی بجائے دن گزارنے کی اس پالیسی نے پاکستان کی معیشت کو لاغر اور بیمار کر دیا ہے۔ اب کوئی دست مسیحا ہی زبوں حالی کی ان پستیوں سے ملکی معیشت کو دوبارہ بہتری کی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔ یہ روایتی طور طریقوں کا معاملہ نہیں رہا ایک بھرپور آپریشن کا متقاضی ہے۔ ملک کی بڑی جماعتیں ابھی اس حوالے سے کوئی ٹھوس بات نہیں کر سکیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ تو ایڈہاک ازم کے طور پر ملکی معیشت کو چلانے کی ذمہ دار رہی ہیں، ان سے اب توقع ہی عبث ہے مگر تحریک انصاف بھی ملکی معیشت کو سہارا دینے کے حوالے سے مخمصے کا شکار نظر آتی ہے۔ نگران حکومت حقیقت میں مہمان حکومت ہوتی ہے اور اس کا کام تین ماہ میں انتخابات کرانا اور حکومتی خلاء کو پر کرنا ہوتا ہے۔ سسٹم کے پہئے کو رواں اور اس میں تسلسل قائم رکھنا ہوتا ہے مگر یہاں تو نگران حکومت بھی ماضی کی طرح تازیانے برسانے میں لگ جاتی ہے جس کا ایک ثبوت نگران حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے حالات کے جبر تلے کراہتے ہوئے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرانا ہے۔

نگران حکومت کی طرف سے عید سے پہلے بھی پٹرول کی قیمت میں چار روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس طرح بہت تھوڑی سی مدت میں نگران حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کو ملک کی معاشی حالات کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کے مہنگا ہونے کا مطلب اس ایک شے کی مہنگائی نہیں بلکہ اس کا اثر معاشرے پر بھی پڑتا ہے اور ایک عام آدمی کی معیشت اور گھریلو بجٹ بھی متاثر ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، جس سے اشیائے خورد ونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ہر ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کیلئے ایک اور منی بجٹ ہی ثابت ہوتا ہے۔ معاشی ماہرین جولائی کے مہینے کو ملک کی معیشت کے حوالے سے حد درجہ اہم قرار دے چکے ہیں۔ اسی ایک ماہ میں یہ فیصلہ ہونا ہے کہ آئی ایم ایف کے سامنے قرض کی نئی قسط کیلئے کشکول دراز کرنا ہے یا نہیں؟ اور کشکول پھیلانے کی صورت میں آئی ایم ایف کی شرائط کیا ہوں گی؟۔ اس وقت آئی ایم ایف سمیت تمام عالمی ادارے امریکہ کے زیر اثر ہیں اور امریکہ پاکستان سے ناخوش ہے جس کا حالیہ ثبوت ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے میں ناکام ملک قرار دیتے ہوئے اس کا نام گرے لسٹ میں شامل کرنا ہے۔ جب کسی ملک کو معتوب بنانا ہو تو پھر اس کیخلاف الزامات کی اس قدر گرد اُڑائی جاتی ہے کہ سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ عراق کی کیمیائی ہتھیاروں کی افسانہ طرازی کا ایک زمانہ گواہ ہے۔ اس کے بعد بھی بہت سے ملکوں کا گھیراؤ پروپیگنڈے کے زور پر یوں کیا جاتا ہے کہ اس ملک کا سچ نقارخانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے مگر اس کا حل قیمتوں میں اضافہ نہیں۔ نگران حکومت باقی کاموں میں اپنی نگرانی اور محدود مینڈیٹ کا عذر تراشتی ہے مگر مہنگائی کا بم گرانے کیلئے خدا جانے مینڈیٹ لامحدود کیوں ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کی معاشی حالت کو موجودہ انجام سے دوچار کرنے والے حکمران طبقات اور اشرافیہ کے کالے کرتوتوں کی قیمت عام آدمی سے وصول کرنا ناانصافی ہے۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے ملک کی دولت لوٹ کر امریکہ، برطانیہ، سویٹزر لینڈ، ہانگ کانگ، سنگا پور، دوبئی، جنوبی افریقہ میں دولت کے پہاڑ کھڑے کئے ہیں اور قرض معاف کرکے ڈکار تک نہیں لی ملکی معیشت کی زبوں حالی کی ساری قیمت انہی سے وصول کی جانی چاہئے۔

متعلقہ خبریں