Daily Mashriq


اونٹ کی سیدھی کل کونسی ہے؟

اونٹ کی سیدھی کل کونسی ہے؟

آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے، پانچ سال قبل خیبر پختونخوا میں اقتدار سنبھالنے کے بعد احتساب کا صاف شفاف نظام قائم کرنے کے بلند بانگ دعوے کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد احتساب کے ادارے ہی سے جان چھڑا کر اطمینان کی لمبی لمبی سانسیں لینے والوں کو اقتدار کی گلیاں ’’سونیاں‘‘ ہی نظر آتی رہیں اور مرزا یار جہاں چاہتے ان گلیوں میں غل غپاڑہ مچاتے ہوئے دندناتے پھرتے رہے۔ بعض میگا پراجیکٹس پر اگرچہ سیاسی مخالفین متواتر اُنگلیاں اُٹھاتے رہے، خصوصاً بلین ٹری سونامی کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا مگر یہ ایک ایسا پراجیکٹ تھا کہ جس کی تحقیقات میں تکنیکی مسائل آڑے آتے رہے اور صورتحال بالکل وہی تھی کہ جب ایک روایت کے مطابق ایک بار کسی شخص نے دعویٰ کیا کہ آسمان میں اس قدر ستارے ہیں، تو اس کے دعوے پر اعتراض کرنیوالے کو یہ کہہ کر لاجواب کر دیا گیا کہ میں نے تو گن لئے ہیں، اگر تمہیں کوئی شک ہے تو گن لو، بعینہ یہی صورتحال بلین ٹری کے حوالے سے رہی، اب ظاہر ہے جنگلات اور ان قطع ہائے زمین پر ایک ایک درخت کو گن کر اس منصوبے میں درختوں کی تعداد کو کیونکر چیلنج کیا جا سکتا ہے تاہم اس میں بھی پودوں کی خرید اور دیگر عوامل پر تو تحقیقات کی جا سکتی تھیں، جس سے کرپشن کی واضح تصویر سامنے آسکتی ہے۔ ایسی ہی صورتحال ان تین سو ڈیمز کا معاملہ بھی ہے جس کے دعوے کئے جاتے رہے اور بعد میں جسے چھوٹے پاور ہاؤسز کا نام دے کر جان چھڑانے کی کوشش کی گئی بلکہ اب بھی اس کے ڈھنڈورے پیٹ پیٹ کر پورے پاکستان کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اگر ان دعوؤں کی بھی تحقیقات کی جائیں تو کچا چٹھا کھل کر سامنے آجائے گا، اسلئے کہ اس قسم کے ’’پاور ہاؤسز‘‘ تو عرصہ دراز سے چترال، سوات، دیر اور دیگر بالائی علاقوں میں عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت پہلے ہی مقامی سطح پر قائم کر کے محدود مقدار میں بجلی کے حصول کو ممکن بنا رکھا ہے، ہمیں یاد ہے کہ جب ہمارا تبادلہ ریڈیو پاکستان چترال کے سٹیشن ڈائریکٹر کے طور پر ہوا تو چترال کے مختلف علاقوں میں جہاں جہاں پانی کسی چھوٹے سے آبشار کی صورت یا پھر تیز رفتار ندی میں طاقتور بہاؤ کی شکل میں موجود تھا وہاں گاؤں کے لوگوں نے اس قدرتی انعام سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے پورے گاؤں کو مقامی سطح پر فی گھر دو بلب کے برابر روشنی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے جنریشن کا اہتمام کر رکھا تھا اور جنریٹر کے خرچے کے طور پر سو روپے وصول کئے جاتے تھے۔یہ 1994-95ء کی بات ہے ہمیں مقامی دوستوں نے بتایا کہ اس قسم کے چھوٹے بجلی گھر نہ صرف چترال بلکہ دیر، سوات اور ملحقہ علاقوں میں عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت قائم کر رکھے ہیں اور گھروں کے اندھیرے دور کرنے کی سعی کی ہے، تو ہمیں خدشہ ہے (اللہ کرے یہ درست نہ ہو) کہ ان تین سو میں وہ مقامی ’’ڈیمز‘‘ بھی شامل کر کے ان کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے جو عرصہ دراز سے ان بالائی علاقوں میں عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت قائم کر رکھے ہیں۔

اس نے جس طاق پہ کچھ ٹوٹے دیئے رکھے ہیں

چاند تاروں کو بھی لیجا کے وہیں پر رکھ دو

تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ بالآخر نیب کی ’’نظرالتفات‘‘ خیبر پختونخوا پر بھی پڑ گئی ہے اور بی آر ٹی میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے، اس منصوبے نے جہاں صوبائی دارالحکومت پشاور کے عوام کو گزشتہ کئی مہینوں سے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے، اس پر تو بیچارے عوام نے یہ سوچ کر سمجھوتہ کر ہی لیا تھا اب بھی اسے بہ امر مجبوری ہی سہی برداشت کیا جار ہا ہے کہ چلو اس منصوبے کی تکمیل کے بعد شہر میں ٹریفک کی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہونگے تاہم اس منصوبے پر بھی ابتداء ہی سے کرپشن کے جو سائے منڈلاتے دکھائی دے رہے تھے انکے بارے میں سینہ بہ سینہ چلنے والی کئی کہانیاں اور داستانیں پہلے ہی سے موجود رہی ہیں مگر اپنی صاف دامنی کے دعوے کرنیوالے حکمرانوں نے پروپیگنڈے کے طوفان میں ان تمام الزامات کو مسترد کر کے خود کو منزہ عن الخطاء اور صاف شفاف قرار دیتے ہوئے بڑے دھڑلے سے یہ دعوے کئے کہ

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

دامن نچوڑ دیں تو فرشے وضو کریں

حالانکہ احتساب کی غرض سے جو ادارہ خود صوبائی حکومت نے قائم کیا تھا اس نے جب ’’اصل کرپٹ لوگوں‘‘ کی جانب اشارے کرنے شروع کر دیئے تو ادارے ہی کو غیر فعال کر کے جان چھڑائی گئی۔ سینیٹ کے انتخابات کے دوران اپنے ہی ارکان پر کرپشن کے الزامات لگا کر ان کے ماتھوں پر برائے فروخت کی تختیاں بھی چسپاںکر کے بے حرمت کر دیا جبکہ خود اپنے ہی ارکان کو پیپلز پارٹی کے ہاتھ ’’قابل فروخت‘‘ بنانے پر فخر کیا گیا۔ بہرحال اب جبکہ بی آر ٹی میںکرپشن کی تحقیقات کا آغاز ہونے والا ہے تو اس وقت جب اس میگا پراجیکٹ کے اندر سے بدعنوانی کے بدبودار ’’پھل‘‘ برآمد ہوں گے تو کیا یہ سوال کیا جا سکے گا کہ اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی؟ یا پھر یہ سارا معاملہ بھی بالآخر ’’مفادات‘‘ کی بھینٹ چڑھ جائے گا اور مٹی پاؤ کہہ کر بات ہی ختم کر دی جائے گی؟؟

زقسمت ازلی چہرہ سیاہ بختاں

بہ شست وشوئی نہ گرد وسفید ایں مثل است

متعلقہ خبریں