Daily Mashriq


افغان صدر کی وہی پرانی رٹ

افغان صدر کی وہی پرانی رٹ

افغان صدر اشرف غنی ایک ایسے وقت میں بھی پاکستان کو مطعون کرنے سے باز نہ آئے جب صدارتی محل سے تھوڑے فاصلے پر حساس علاقے میں داعش بارود سے بھرے واٹر ٹینکر کا دھماکہ کرکے بد ترین تباہی پھیلانے کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ افغان صدرڈاکٹراشرف غنی بھی اپنے پیشرو حامد کرزئی کے نقش قدم پر چل نکلے۔ ان کا یہ الزام سمجھ سے بالا تر امر ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ شروع کررکھی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ افغان صدر داخلی صورتحال پر دبائو کاشکار ہیں جس کا اظہار وہ خفت مٹانے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی کی صورت میں کرنے لگے ہیں۔ افغان صدر کا استدلال ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے عموماً اور گزشتہ 14 برس سے خصوصاً پاکستان افغانستان سے ایک غیر اعلانیہ جنگ میں مصروف ہے۔ افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مفاہمت اور مذاکرات کے لئے پاکستان کی مساعی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر افغانستان کی حکومت از خود طالبان سے مفاہمت کا کوئی فارمولہ وضع کرسکے تو پاکستان کے لئے اس سے زیادہ خوشی کی بات کوئی نہیں ہوسکتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان صدر بجائے اس کے کہ پہلے پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرنے کی بات کریں بہتر ہوگا کہ وہ پہلے اپنے گھر کے معاملات کی درستگی پر توجہ دیں۔ پاکستان کے ساتھ افغانستان کے بطور پڑوسی ملک جو معاملات طے کرنے ہیں وہ ضرور طے کئے جائیں۔ افغان صدر کو اپنے پیشرو کے نقش قدم پر چلنے سے قبل اس امر پر غورکرنا ہوگا کہ ان کے پیشرو کی پالیسی کس قدر کامیاب تھی اور اب اس کی کامیابی کے امکانات کیا ہیں۔افغان صدر کو چاہیئے کہ وہ اپنے داخلی انتشار اور ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کی بجائے اپنی ناکامیوں کی وجوہات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں اور ان کو دور کرنے پر توجہ دیں ۔ اشرف غنی پاکستان سے نفرت میں بھارت سے تعلقات کے قیام میں جس قدر آگے جا چکے ہیں ایسے میں ان کیلئے بہتر یہی تھا کہ وہ پاکستان کو الزام دینے کی بجائے بھارت سے مل کر اپنے مسائل کا حل نکالنے کی سعی کرتے اگر اشرف غنی کو پاکستان کی حمایت مطلوب ہے تو ان کو چاہئے کہ وہ افغانستان میں(را )کی سہولت کاری کی بجائے را کے مرکزکا خاتمہ کرے تاکہ خود افغانستان کے اندر امن آئے وگرنہ منہ میں رام رام بغل میں چھری کا سلسلہ چلتا رہے گا اور افغانستان میں قیام امن کا خواب خواب ہی رہے گا ۔

متعلقہ خبریں